BR100 Increased By (0.13%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 24.76 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 29.80 Increased By ▲ 0.08 (0.27%)
CNERGY 12.73 Decreased By ▼ -0.20 (-1.55%)
DFML 16.97 Increased By ▲ 0.06 (0.35%)
DGKC 186.25 Decreased By ▼ -0.72 (-0.39%)
FABL 93.38 Decreased By ▼ -0.15 (-0.16%)
FCCL 52.16 Increased By ▲ 0.31 (0.6%)
FFL 14.00 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.73 Increased By ▲ 0.47 (2.44%)
HBL 302.02 Decreased By ▼ -0.81 (-0.27%)
HUBC 200.49 Decreased By ▼ -0.84 (-0.42%)
HUMNL 9.32 Increased By ▲ 0.05 (0.54%)
KEL 6.04 Increased By ▲ 0.45 (8.05%)
LOTCHEM 25.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.51%)
MLCF 90.90 Decreased By ▼ -0.39 (-0.43%)
OGDC 315.91 Decreased By ▼ -1.14 (-0.36%)
PAEL 34.06 Increased By ▲ 0.08 (0.24%)
PIBTL 13.51 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 236.45 Decreased By ▼ -0.19 (-0.08%)
PPL 220.29 Decreased By ▼ -0.83 (-0.38%)
PRL 94.32 Decreased By ▼ -0.06 (-0.06%)
SNGP 90.99 Increased By ▲ 0.30 (0.33%)
SSGC 23.17 Increased By ▲ 0.10 (0.43%)
TELE 7.28 Increased By ▲ 0.04 (0.55%)
TPLP 11.90 Increased By ▲ 0.16 (1.36%)
TRG 56.49 Increased By ▲ 1.15 (2.08%)
UNITY 7.72 Decreased By ▼ -0.03 (-0.39%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

پاکستان میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کیوں برقرار ہے؟

  • پاکستان میں غذائی اجناس کا تضاد: کسانوں کو کم قیمت، صارفین کو مہنگی اشیا
شائع اپ ڈیٹ

ایک شاندار فصل سے ریلیف ملنا چاہیے، لیکن اس کے بجائے کسانوں کو گرتی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ خراب فصل اسی جنس کو صارفین کے لیے مہنگا بوجھ بنا دیتی ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان پاکستان کا ایک مستقل معاشی مسئلہ موجود ہے: غذائی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ۔

مسئلہ محض یہ نہیں کہ غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان میں دونوں سمتوں میں اچانک اور نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے کسان اپنی آمدنی کے بارے میں غیر یقینی کا شکار رہتے ہیں اور گھرانے اپنے غذائی اخراجات کا اندازہ لگانے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار اس دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ستمبر 2026 کے تجزیے کے مطابق، پاکستان میں اگست 2026 کے دوران گندم کے آٹے کی قیمتیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 50 سے 83 فیصد زیادہ تھیں، جس کی وجہ پیداواری اور نقل و حمل کے بلند اخراجات تھے۔ قیمتوں میں اس طرح کا اتار چڑھاؤ غذائی نظام کی ایک گہری کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔

قیمتوں کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ کسان کیا پیدا کرتے ہیں، بلکہ اس کے بعد کی صورتحال بھی اہم ہوتی ہے کہ فصلیں کس طرح ذخیرہ، منتقل، تجارت اور پراسیس کی جاتی ہیں، راستے میں کتنی پیداوار ضائع ہوتی ہے اور رسد و طلب میں تبدیلیوں کے جواب میں مارکیٹ کتنی تیزی سے ردعمل دیتی ہے۔

یہ اتار چڑھاؤ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ایف اے او فوڈ پرائس انڈیکس اگست 2026 میں اوسطاً 133.3 پوائنٹس رہا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 2.5 فیصد زیادہ تھا۔

تاہم پاکستان کے لیے عالمی منڈی کی تبدیلیاں اس پوری کہانی کا صرف ایک حصہ ہیں۔ ملکی پیداواری چکر، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولیات، نقل و حمل کے اخراجات، مارکیٹ کی معلومات میں خلا، تجارتی پالیسیاں اور توانائی کی قیمتیں بیرونی اور موسمیاتی جھٹکوں کے اثرات کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

جب توانائی غذائی قیمتوں کا مسئلہ بن جائے

پیٹرولیم توانائی کے اخراجات اور غذائی قیمتوں کے درمیان ایک اہم کڑی ہے۔

زرعی ویلیو چین کے تقریباً ہر مرحلے میں ایندھن کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ کسان مشینری، آبپاشی اور فصل کی کٹائی کے لیے توانائی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد پیداوار کو کھیتوں سے کلیکشن مراکز، تھوک منڈیوں، پراسیسنگ یونٹس اور خوردہ فروشوں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ ذخیرہ کاری اور فوڈ پراسیسنگ میں بھی توانائی کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ لازماً راتوں رات غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا باعث نہیں بنتا۔ تاہم قیمتوں میں مسلسل اضافہ بتدریج خوراک کی ترسیل اور ہینڈلنگ کی مجموعی لاگت بڑھا سکتا ہے۔

اس لیے ایندھن اور غذائی قیمتوں کا تعلق محض یکساں اور براہِ راست نوعیت کا نہیں۔ آج پیٹرول کی قیمت میں تبدیلی کا یہ مطلب نہیں کہ کل ہر غذائی شے مہنگی ہوجائے گی۔ معاہدے، ذخائر، مارکیٹ میں مسابقت اور مختلف اشیائے خورونوش کی جلد خراب ہونے کی خصوصیات اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ قیمتوں میں تبدیلی کتنی تیزی اور کس حد تک منتقل ہوگی۔

تاہم توانائی کے اخراجات کا طویل دباؤ پوری غذائی سپلائی چین کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔

کسان اور صارف کا تضاد

غذائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان کی زرعی معیشت میں ایک تضاد پیدا کرتا ہے۔

صارفین کو خوردہ سطح پر بلند قیمتوں کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ کسانوں کو کھیت کی سطح پر نسبتاً کم قیمت ملتی ہے۔

یہ فرق لازماً بیوپاریوں یا درمیانی کردار ادا کرنے والوں کا خالص منافع نہیں ہوتا۔ نقل و حمل، مزدوری، پیکیجنگ، ذخیرہ کاری، مالی اعانت، خراب ہونے والی پیداوار اور مارکیٹ کے خطرات سب کی اپنی لاگت ہوتی ہے۔ تاہم قیمتوں میں بڑا فرق اس بات کی نشاندہی بھی کرسکتا ہے کہ زرعی پیداوار کی ویلیو چین میں منتقلی کا نظام کمزور ہے۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کی باغبانی سے متعلق ویلیو چین میں ناکافی ذخیرہ کاری، نقل و حمل، پیکیجنگ اور مالی سہولتوں کو اہم کمزوریوں کے طور پر نشاندہی کیا ہے۔ بینک کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید زرعی منڈیوں اور پیداوار کنندگان کو مارکیٹ سے بہتر طور پر جوڑنے سے نقصانات کم اور نظام کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

یہ مسئلہ بالخصوص پھلوں اور سبزیوں کے لیے اہم ہے۔

جب پیداوار کو مؤثر انداز میں ذخیرہ یا منتقل نہیں کیا جاسکتا تو کسانوں کے پاس اسے فوری طور پر فروخت کرنے کے سوا زیادہ راستہ نہیں رہتا۔ چنانچہ عارضی طور پر رسد بڑھ جانے سے کھیت کی سطح پر قیمتوں میں اچانک کمی آسکتی ہے، جبکہ بعد میں رسد کم ہونے پر صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

پیداواری چکر کیوں اہم ہیں

بلند قیمتیں خود بھی مستقبل میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

جب کسانوں کو کسی فصل سے غیر معمولی طور پر زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے تو وہ اگلے سیزن میں اس کی کاشت بڑھانے کی ترغیب پاتے ہیں۔ اگر بڑی تعداد میں کسان ایک ہی طرح کا فیصلہ کریں تو پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس کے بعد پیداوار کی بہتات قیمتوں کو نیچے لاسکتی ہے۔

کسان پھر کاشت کم کرنے کی ترغیب پاتے ہیں، جس سے اگلے سیزن میں قلت پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

یوں کل کی بلند قیمت کل کی کم قیمت، جبکہ آج کی کم قیمت آنے والے کل کی قلت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

پاکستان کے تازہ زرعی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کسان متوقع منافع کے مطابق اپنے فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق گنے کی کاشت میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پیداوار 6.2 فیصد بڑھ کر 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن ہوگئی۔ سروے کے مطابق اس اضافے کی ایک وجہ کپاس اور مکئی جیسی متبادل فصلوں کے مقابلے میں گنے سے زیادہ منافع کی توقع تھی۔

کسان کی سطح پر یہ ایک منطقی رویہ ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہزاروں کسان مستقبل کی مارکیٹ صورتحال کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات کے بغیر ایک جیسے فیصلے کرتے ہیں۔

لہٰذا بہتر مارکیٹ معلومات بھی مسئلے کے حل کا ایک حصہ ہوسکتی ہیں۔

کسانوں کو قیمتوں، متوقع طلب، موسم، پیداوار اور تجارتی حالات سے متعلق بروقت معلومات درکار ہیں۔ ان معلومات کے بغیر کاشت کے فیصلے بڑی حد تک گزشتہ سیزن کی قیمتوں کی بنیاد پر کیے جاسکتے ہیں، بجائے اس کے کہ اگلی فصل تیار ہونے کے وقت متوقع مارکیٹ صورتحال کو مدنظر رکھا جائے۔

جلد خراب ہونے والی اجناس مسئلہ بڑھا دیتی ہیں

یہ مسئلہ خاص طور پر جلد خراب ہونے والی اجناس کے معاملے میں سنگین ہوجاتا ہے۔

ٹماٹر، پیاز، پھل اور سبزیاں اس وقت تک ذخیرہ نہیں کی جاسکتیں جب تک کسان بہتر قیمت کا انتظار کرتا رہے۔ جہاں کولڈ اسٹوریج کی سہولت ناکافی اور نقل و حمل مہنگی ہو، وہاں پیداوار فوری طور پر فروخت کرنا پڑ سکتی ہے۔

آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ (اے سی آئی اے آر) کے تعاون سے پاکستان میں آلو، مرچ، ٹماٹر اور پیاز پر کام کیا گیا ہے، جس میں فصل کی کٹائی سے پہلے اور بعد کے مراحل، پیکیجنگ، نقل و حمل اور مارکیٹنگ کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان کے ترشاوہ پھلوں کے شعبے سے متعلق اس کے کام کے مطابق کٹائی کے بعد پیداوار کے ضیاع کی شرح 23 سے 38 فیصد تک ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک کا ضیاع صرف غذائی تحفظ ہی نہیں بلکہ ایک معاشی مسئلہ بھی ہے۔

کٹائی کے بعد ضائع ہونے والا ہر کلوگرام ایسی زمین، پانی، کھاد، محنت، توانائی اور سرمائے کی نمائندگی کرتا ہے جو پہلے ہی استعمال ہوچکا ہوتا ہے، لیکن اپنی مکمل معاشی قدر پیدا نہیں کرپاتا۔

نقصانات قیمتوں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ جب کم پیداوار مارکیٹ تک پہنچتی ہے تو مؤثر رسد گھٹ جاتی ہے۔ اگر طلب میں تبدیلی نہ آئے تو قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

اس کے باوجود کسان کو خوردہ سطح پر بڑھنے والی قیمت کا فائدہ نہیں ملتا، کیونکہ اس وقت تک فصل کھیت سے نکل چکی ہوتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی ایک اور پیچیدگی

موسمیاتی جھٹکے پہلے سے موجود کمزوریوں کو مزید شدید کرسکتے ہیں۔

سیلاب، ہیٹ ویو، خشک سالی اور بے قاعدہ بارشیں پیداوار کم کرسکتی ہیں، سڑکوں اور ذخیرہ گاہوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور زرعی اجناس کی نقل و حرکت میں خلل ڈال سکتی ہیں۔

2022 اور 2025 کے سیلاب نے اس کے وسیع تر معاشی اثرات ظاہر کیے۔ عالمی بینک کے مطابق سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور قومی غربت کی شرح میں 3.7 سے 4 فیصد پوائنٹس تک اضافہ ہوسکتا تھا، جس کے نتیجے میں مزید 84 لاکھ سے 91 لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے جاسکتے تھے۔ غذائی قیمتوں میں اضافہ اور زرعی ذرائع معاش کو پہنچنے والے نقصانات اس کے اثرات میں شامل تھے۔

چنانچہ موسمیاتی جھٹکے صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ بیک وقت غذائی رسد، نقل و حمل، گھریلو آمدنی اور غربت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

زیادہ پیداوار کافی نہیں

تازہ ترین اکنامک سروے کے مطابق 2025-26 میں پاکستان کے زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی۔ اہم فصلوں کی پیداوار میں 0.65 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گندم کی پیداوار 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار ٹن، گنے کی 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن اور چاول کی 99 لاکھ 90 ہزار ٹن رہی۔ دیگر فصلوں کی کارکردگی بھی بہتر رہی، دالوں کی پیداوار میں 31.4 فیصد، سبزیوں میں 12.6 فیصد اور پھلوں میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غذائی اشیا کی دستیابی اور قیمتوں کا استحکام لازماً ایک ہی چیز نہیں۔

کوئی ملک زیادہ خوراک پیدا کرنے کے باوجود قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سامنا کرسکتا ہے، اگر پیداوار کو مؤثر انداز میں ذخیرہ، منتقل اور مارکیٹ نہ کیا جاسکے۔

چیلنج محض پیداوار بڑھانا نہیں بلکہ اس نظام کو بہتر بنانا ہے جو پیداوار کو صارفین تک پہنچاتا ہے۔

کیا ڈیجیٹل زراعت مددگار ہوسکتی ہے؟

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اس رابطے کو بہتر بنانے کا ایک ممکنہ ذریعہ ہے۔

موبائل فون پر مارکیٹ معلومات، کسانوں کو خریداروں سے ملانے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، الیکٹرانک ادائیگیاں، موسمی معلومات اور ڈیجیٹل زرعی مشاورتی خدمات معلومات کے خلا کو کم اور کسانوں کی مارکیٹ حالات کے مطابق ردعمل دینے کی صلاحیت بہتر کرسکتی ہیں۔

ایک کسان جو مختلف منڈیوں میں پیش کی جانے والی قیمتوں سے آگاہ ہو، اس کی سودے بازی کی پوزیشن ایسے کسان کے مقابلے میں بہتر ہوسکتی ہے جو مکمل طور پر ایک ہی خریدار کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرتا ہو۔

تاہم ڈیجیٹلائزیشن طبعی بنیادی ڈھانچے کا متبادل نہیں بن سکتی۔

ایک ایپ ٹماٹر منتقل نہیں کرسکتی۔

ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارم کولڈ اسٹوریج کی جگہ نہیں لے سکتا۔

قیمتوں سے متعلق معلومات کا پلیٹ فارم دیہی سڑک کی مرمت نہیں کرسکتا۔

لہٰذا ڈیجیٹل زراعت کے اثرات اس وقت تک محدود رہیں گے جب تک ذخیرہ گاہوں، کلیکشن مراکز، نقل و حمل، پراسیسنگ اور قابلِ اعتماد توانائی میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔

پالیسی کا چیلنج

غذائی قیمتوں میں اچانک اضافے سے اکثر حکومت پر فوری مداخلت کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ حکام قیمتوں پر کنٹرول عائد کرسکتے ہیں، برآمدات محدود کرسکتے ہیں، درآمدات کی اجازت دے سکتے ہیں یا مبینہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔

حقیقی ہنگامی صورتحال میں بعض اقدامات ضروری ہوسکتے ہیں، لیکن بار بار کی جانے والی قلیل مدتی مداخلتیں اس وقت کسانوں اور تاجروں کے لیے غیر یقینی پیدا کرسکتی ہیں جب پالیسیاں غیر متوقع ہوں۔

مقصد محض کسی ایک شے کی قیمت میں اضافے کو دبانا نہیں بلکہ غذائی نظام کو زیادہ مضبوط اور جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہونا چاہیے۔

پاکستان کو زرعی پیش گوئی کے بہتر نظام کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ اضافی رسد اور قلت کی پہلے ہی نشاندہی کی جاسکے۔ جلد خراب ہونے والی اجناس کے لیے ذخیرہ کاری اور کولڈ چین میں زیادہ سرمایہ کاری، دیہی سڑکوں کی بہتری اور زیادہ مؤثر لاجسٹکس بھی ضروری ہیں۔

کسانوں کو قابلِ اعتماد مارکیٹ معلومات درکار ہیں، جبکہ پراسیسرز، خوردہ فروشوں اور برآمد کنندگان کو زرعی پیداوار تک قابلِ پیش گوئی اور مستقل رسائی چاہیے۔

تجارتی پالیسی پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

اگر کسانوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ قیمتیں تبدیل ہوتے ہی درآمدات اچانک کھول دی جائیں گی یا برآمدات محدود کردی جائیں گی تو وہ اعتماد کے ساتھ کاشت کے فیصلے نہیں کرسکتے۔

یہی اصول توانائی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

بین الاقوامی حالات کی عکاسی کے لیے پیٹرولیم قیمتوں میں بار بار تبدیلی ضروری ہوسکتی ہے، تاہم پالیسی سازوں کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ایندھن کی لاگت زرعی اجناس کی نقل و حرکت اور اس طرح پورے غذائی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ پاکستان میں گندم کے آٹے کی مارکیٹ سے متعلق ایف اے او کا حالیہ تجزیہ اس تعلق کو براہِ راست واضح کرتا ہے۔

قیمتوں پر کنٹرول سے آگے

پاکستان غذائی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والی ہر تبدیلی کو ختم نہیں کرسکتا۔

زرعی منڈیاں موسم، موسمی حالات، رسد اور طلب کے مطابق ہمیشہ ردعمل دیتی رہیں گی۔

اس کے بجائے مقصد غیر ضروری اتار چڑھاؤ کم کرنا ہونا چاہیے؛ یعنی وہ اتار چڑھاؤ جو ذخیرہ کاری کی ناکافی سہولیات، مارکیٹ کی ناقص معلومات، غیر مؤثر نقل و حمل، پالیسی میں غیر یقینی اور سپلائی چین میں قابلِ تلافی نقصانات کے باعث پیدا ہوتا ہے۔

حقیقی پیداواری جھٹکے کے نتیجے میں قیمت میں اضافہ ایک الگ معاملہ ہے۔ اس کے برعکس ناقص ذخیرہ کاری، مہنگی نقل و حمل اور پالیسی ردعمل میں تاخیر سے مزید بڑھنے والی قیمت ایک مختلف مسئلہ ہے۔

اسی طرح بمپر فصل کے نتیجے میں اگر کسانوں کو انتہائی کم قیمت ملے تو یہ لازماً زرعی کامیابی کی علامت نہیں، خصوصاً جب اضافی پیداوار کا بڑا حصہ ذخیرہ، پراسیس یا منافع بخش انداز میں مارکیٹ نہ کیا جاسکے۔

لہٰذا غذائی قیمتوں کا استحکام صرف خوردہ سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔

اس کے لیے ایسے غذائی نظام کی ضرورت ہے جو مختلف جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

پاکستان کو بہتر اعداد و شمار، مضبوط بنیادی ڈھانچے، مؤثر لاجسٹکس، قابلِ اعتماد مارکیٹ معلومات، قابلِ پیش گوئی تجارتی پالیسیوں اور زیادہ مضبوط توانائی کے نظام کی ضرورت ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ غذائی اشیا کی قیمتیں مسلسل کیوں بڑھ رہی ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ ان میں اتنا شدید اتار چڑھاؤ کیوں آتا رہتا ہے۔

جب تک پاکستان پیداوار اور کھپت کے درمیان موجود کمزوریوں کو دور نہیں کرتا اور توانائی، زراعت، لاجسٹکس اور مارکیٹ کے باہمی تعلق کو تسلیم نہیں کرتا، غذائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کسانوں اور گھرانوں دونوں کے لیے بار بار آنے والی معاشی مشکل بنا رہے گا۔

Comments

200 حروف