بھارتی جمہوریت کی کمزوریاں بے نقاب
- انتخابی انتظامیہ پر عوامی سطح پر وسیع پیمانے پر عدم اعتماد کا پیدا ہونا خاصا نقصان دہ ہے
بھارت میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی سے متعلق تنازع نے ایسے وقت میں بھارت کے الیکشن کمیشن کی آزادی کو کڑی جانچ پڑتال کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے جب نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے لیے یہ معاملہ خاصا پریشان کن ہے۔
حکومت پر جمہوری انحطاط کے الزامات کئی برسوں سے عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم تازہ تنازع کا تعلق اس ادارے سے ہے جو خود انتخابات کی ساکھ کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔ ووٹرز کے اندراج، اخراج اور انتخابی سافٹ ویئر سے متعلق الیکشن کمیشن کے اندر سنگین اعتراضات کی اطلاعات نے ایسے سوالات اٹھا دیے ہیں جن کے جواب معمول کی سرکاری یقین دہانیوں سے کہیں زیادہ درکار ہیں۔
ایسی حکومت کے لیے، جسے پہلے ہی اختلافِ رائے سے نمٹنے کے طریقہ کار اور انتظامی اختیارات کے بڑھتے ہوئے ارتکاز پر تنقید کا سامنا ہے، انتخابی انتظامیہ پر عوامی سطح پر وسیع پیمانے پر عدم اعتماد کا پیدا ہونا خاصا نقصان دہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق لاکھوں نام ابتدائی انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے ہیں، جبکہ نظرثانی کے عمل میں شفافیت اور انتخابی اعداد و شمار سے نمٹنے کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ اس کے طریقہ کار قانونی ہیں، لیکن محض یقین دہانیوں کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال نہیں کیا جاسکتا۔ ہر اہل ووٹر کے پاس اخراج کو چیلنج کرنے کا مؤثر ذریعہ ہونا چاہیے اور ووٹرز سے متعلق فیصلے آزادانہ جانچ پڑتال کے لیے کھلے ہونے چاہئیں۔
نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے اس تنازع کو فوری معاملے سے کہیں آگے کی اہمیت دے دی ہے۔ مودی حکومت کے خلاف اپنی سابقہ احتجاجی سرگرمی کے ذریعے توجہ حاصل کرنے کے بعد یہ تحریک اب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے اور ملک گیر احتجاج کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بھارتی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے: نوجوان شہری روایتی پارلیمانی اپوزیشن کے ڈھانچے سے باہر نچلی سطح پر متحرک ہو کر قائم اداروں کو چیلنج کرنے کے طریقے تیزی سے تلاش کر رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی یہ صلاحیت کہ وہ ایک پیچیدہ اور بظاہر خشک انتخابی تنازع کو ایسے مسئلے میں تبدیل کر رہی ہے جو سڑکوں پر احتجاج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص توجہ کی مستحق ہے۔ اس کی مہم کا مقصد انتخابی احتساب کے مطالبات پر طلبہ، سول سوسائٹی اور سیاسی تنظیموں کو یکجا کرنا ہے۔ اس بات میں خاصا تضاد ہے کہ ایک ایسا گروہ، جس کا نام ہی غیر سنجیدہ نوعیت کا ہے، بھارت کے طاقتور ترین آئینی اداروں میں سے ایک کو ووٹ دینے کے حق جیسے بنیادی معاملے پر چیلنج کر رہا ہے۔ تاہم اس کی سیاسی اہمیت کا حتمی انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ متحرک کاری مسلسل عوامی نگرانی اور بامعنی ادارہ جاتی احتساب میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں۔
یہ تنازع الیکشن کمیشن کی آزادی کے گرد موجود حفاظتی انتظامات کی کمزوریوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ بھارت کے 2023 کے قانون کے تحت حکومت مؤثر طور پر اس تین رکنی کمیٹی کی دو نشستوں پر کنٹرول رکھتی ہے جو الیکشن کمشنروں کی تقرری کی سفارش کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اس انتظام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ انتخابات کی نگرانی کی ذمہ داری رکھنے والے ادارے کو سیاسی حریفوں اور ووٹرز، دونوں کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔ موجودہ تنازع یہ ظاہر کرتا ہے کہ تقرریوں سے متعلق سوالات کس تیزی سے پورے انتخابی عمل کی قانونی حیثیت اور ساکھ سے متعلق سوالات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔
بی جے پی کے ناقدین طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ مودی کے دور حکومت میں بھارت کے جمہوری ادارے انتظامیہ کے اثر و رسوخ کے لیے بتدریج زیادہ کمزور ہوگئے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کے تنازع نے ان خدشات کو مزید نمایاں کردیا ہے، اگرچہ دانستہ طور پر انتخابی عمل میں ردوبدل کے الزامات کی ابھی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آیا اہل ووٹرز کو غلط طور پر فہرستوں سے خارج کیا گیا ہے، متنازع فیصلوں کی بنیاد ظاہر کرنا ہوگی اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے طریقہ کار سیاسی مصلحتوں سے آزاد ہو کر کام کرتے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی مداخلت نے احتساب کے اس مطالبے میں ایک نیا اور ممکنہ طور پر اہم پہلو شامل کردیا ہے۔ اس کا ابھرنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکیں سیاسی شمولیت کو وسعت دینے اور ادارہ جاتی بے حسی کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اب بھارت کے انتخابی حکام کو ایک ایسے امتحان کا سامنا ہے جس کے اثرات اگلے انتخابات سے کہیں آگے تک جائیں گے، کیا وہ اس مشینری کی غیر جانب داری پر اعتماد بحال کرسکتے ہیں جس کے ذریعے شہری اپنے سب سے بنیادی جمہوری حق کا استعمال کرتے ہیں۔
بھارت میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کی گئی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کی مشق نے اس کے بجائے یہ ظاہر کردیا ہے کہ شفافیت اور آزادی پر سوال اٹھنے کی صورت میں اس کے انتخابی اداروں پر اعتماد کس قدر نازک ہوسکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026



















Comments