BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.99 (5.66%)
DGKC 187.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.08%)
FABL 93.18 Decreased By ▼ -0.53 (-0.57%)
FCCL 51.13 Decreased By ▼ -0.52 (-1.01%)
FFL 14.41 Decreased By ▼ -0.08 (-0.55%)
GGL 18.80 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
HBL 302.29 Decreased By ▼ -1.49 (-0.49%)
HUBC 198.64 Decreased By ▼ -0.32 (-0.16%)
HUMNL 9.68 Decreased By ▼ -0.17 (-1.73%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.25 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
MLCF 90.14 Decreased By ▼ -1.09 (-1.19%)
OGDC 314.62 Increased By ▲ 1.23 (0.39%)
PAEL 34.77 Decreased By ▼ -0.47 (-1.33%)
PIBTL 14.20 Decreased By ▼ -0.51 (-3.47%)
PIOC 234.00 Decreased By ▼ -5.62 (-2.35%)
PPL 220.66 Decreased By ▼ -0.70 (-0.32%)
PRL 90.35 Decreased By ▼ -0.87 (-0.95%)
SNGP 90.36 Decreased By ▼ -0.51 (-0.56%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.36 Decreased By ▼ -0.25 (-3.29%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.46 (-3.66%)
TRG 54.39 Decreased By ▼ -1.40 (-2.51%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
لائف اسٹائل

ڈبلیو ایچ او کی سربراہی کی دوڑ، پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

  • ڈاکٹر حنان ایچ بلخی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی انسدادِ پولیو مہم جیسے پروگراموں کے لیے مالی معاونت کو مزید قابلِ پیش گوئی بنانا چاہیں گی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان، جہاں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی انسدادِ پولیو کی دنیا کی بڑی کارروائیوں میں سے ایک جاری ہے، ان ممالک میں شامل ہے جو جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت کے خطرے سے سب سے زیادہ دوچار ہیں، جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات اور ٹی بی کی مالی معاونت کے لیے عطیہ دہندگان پر سب سے زیادہ انحصار کرنے والے ممالک میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2027 سے ڈبلیو ایچ او کی قیادت کے لیے ہونے والی دوڑ محض جنیوا تک محدود معاملہ نہیں۔ خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب ہونے والے شخص کو ایسے ادارے کی باگ ڈور سنبھالنا ہوگی جو امریکا کی دستبرداری کے بعد اپنے مالی معاملات کی ازسرنو تشکیل میں مصروف ہے، اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کے لیے اس مالی بحالی کا نتیجہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

ایک امیدوار پہلے ہی دوسروں کے مقابلے میں پاکستان سے زیادہ قریب سے وابستہ ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اگست کے اواخر میں 2027-2032 کی مدت کے لیے نامزد کی جانے والی ڈاکٹر حنان ایچ بلخی اس وقت ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرۂ روم کے خطے کی علاقائی ڈائریکٹر ہیں، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ بچوں کے متعدی امراض کی ماہر اور ڈبلیو ایچ او میں انسدادِ جراثیمی مزاحمت (اے ایم آر) کے لیے پہلی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل رہنے والی ڈاکٹر بلخی اس عہدے کے لیے نامزد 6 امیدواروں میں شامل ہیں۔ دیگر امیدوار قطر، بیلجیم، بوٹسوانا، اسپین اور انڈونیشیا سے نامزد کیے گئے ہیں۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں ڈاکٹر بلخی نے 5 سوالات کے جواب دیے کہ ان کی امیدواری پاکستان جیسے ملک کے لیے کیا معنی رکھتی ہے: انسدادِ پولیو کے لیے مالی معاونت، ’’ملکی ملکیت‘‘، جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت، ویکسین کی تیاری اور سعودی عرب کی جانب سے ان کی نامزدگی کی اہمیت۔

پولیو: پیمانہ واضح، فنڈنگ کی تقسیم غیر واضح

جب ڈاکٹر حنان بلخی سے پوچھا گیا کہ خطے میں پولیو اور ہنگامی حالات کے لیے متحرک کیے گئے اضافی 1.6 ارب ڈالر کے پروگرام وسائل میں سے کتنی رقم حقیقتاً پاکستان پہنچی، تو انہوں نے کوئی مخصوص رقم نہیں بتائی۔ ان کے مطابق یہ رقم علاقائی سطح پر ہے، جو ’’22 ممالک اور علاقوں میں پولیو اور ہنگامی پروگراموں‘‘ کا احاطہ کرتی ہے۔

اس کے بجائے انہوں نے کارروائیوں کے حجم کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان دنیا بھر میں ڈبلیو ایچ او کی انسدادِ پولیو کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے‘‘، جہاں ’’4 لاکھ سے زیادہ ویکسین پلانے والے کارکن متحرک کیے گئے، قومی مہمات میں تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو ہدف بنایا گیا، جبکہ پولیو وائرس کی نگرانی کا دنیا کے سب سے بڑے اور حساس ترین نیٹ ورکس میں سے ایک موجود ہے۔‘‘

رواں ماہ کے اواخر میں شروع ہونے والی اگلی مہم میں 115 اضلاع کے 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں تک رسائی کی توقع ہے۔

اگر وہ علاقائی عہدے سے جنیوا منتقل ہوجاتی ہیں تو اس سلسلے کے لیے مالی معاونت برقرار رکھنے کے سوال پر ان کا جواب ذاتی کے بجائے ادارہ جاتی نوعیت کا تھا۔ ان کے بقول، ’’اس سلسلے کی ذمہ داری کسی ایک فرد کے بجائے ادارے پر عائد ہوتی ہے۔ نئے قائم مقام علاقائی ڈائریکٹر کے ساتھ منتقلی کا ایک متفقہ منصوبہ موجود ہے اور اس بات سے قطع نظر کہ کون سا شخص کون سا عہدہ سنبھالتا ہے، پولیو عالمی سطح پر ایک مستقل عزم رہے گا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کی مالی معاونت عالمی انسدادِ پولیو اقدام اور ڈبلیو ایچ او کے ملکی دفتر کے ذریعے کی جاتی ہے، ’’جس میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر شراکت دار اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔‘‘

آئندہ کے حوالے سے ان کے عزم میں مالی معاونت کی پیش بینی کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے میں چاہوں گی کہ پاکستان کی انسدادِ پولیو کی کوشش جیسے پروگراموں کے لیے مالی معاونت زیادہ قابلِ پیش گوئی ہو‘‘، اور اسے انہوں نے اپنی مہم کے پہلے ستون یعنی اعتماد سے جوڑا، جو ’’زیادہ متنوع اور قابلِ اعتماد عطیہ دہندگان کی بنیاد‘‘ پر قائم ہوگا۔

’’ملکی ملکیت‘‘، لیکن تنہا چھوڑے بغیر

عالمی صحت کے شعبے میں ’’ملکی ملکیت‘‘ کی اصطلاح تیزی سے عام ہورہی ہے۔ چنانچہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا اس کا مطلب زیادہ اختیار حاصل کرنا ہے یا ان اخراجات کی ذمہ داری اٹھانا ہے جنہیں ڈبلیو ایچ او اب پورا نہیں کرسکتا۔

ڈاکٹر حنان بلخی نے دوسرے مفہوم کو مسترد کرتے ہوئے، تاہم کسی مخصوص اقدام کا وعدہ کیے بغیر کہا، ’’ملکی ملکیت کو کبھی بھی اس بات کا پردہ پوش محاورہ نہیں بننا چاہیے کہ ممالک کو اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترجیحات کے تعین، مطلوبہ معاونت کے فیصلے اور نتائج کے لیے جواب دہی میں ممالک کی آواز زیادہ مضبوط ہو، جبکہ ڈبلیو ایچ او اور عالمی صحت برادری وسیع تر سطح پر ان کی فراہمی میں قابلِ اعتماد شراکت دار رہیں۔‘‘

انہوں نے پاکستان کی ایک مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پر ’’خصوصاً فخر‘‘ ہے۔ ان کے مطابق حکومتِ پاکستان نے ڈبلیو ایچ او اور کاروباری شعبے کے 20 رہنماؤں کے ساتھ مل کر ملک میں سرکاری و نجی شعبوں کے ساتھ شراکت داری کے لیے ڈبلیو ایچ او کی پہلی کونسل قائم کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ماڈل ’’مشرقی بحیرۂ روم کے خطے میں بتدریج پھیل رہا ہے‘‘ اور ’’انتہائی مشکل اور اکثر سب سے زیادہ بوجھل صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے اس تعلق کی وضاحت مختصر الفاظ میں کی: ’’ممالک قیادت کریں؛ ڈبلیو ایچ او سنے، بہترین شواہد اور تکنیکی مہارت فراہم کرے، ملک کے ساتھ مل کر اسے درکار معاونت متحرک کرے اور قابلِ پیمائش نتائج کے لیے خود کو جواب دہ بنائے۔‘‘

جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت: آگاہی سے عمل درآمد تک

اے ایم آر کے بارے میں مسئلے کی نوعیت سے متعلق سوال پر ڈاکٹر بلخی نے دوٹوک جواب دیا۔ ان کے مطابق یہ ’’فی الواقع کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک مظہر‘‘ ہے، جو ’’انسانی اور حیوانی شعبوں میں ناقص حفظانِ صحت اور جراثیم کش ادویات کے غلط استعمال‘‘ کے باعث پیدا ہوتا ہے، جبکہ تنازعات، گنجان آبادی اور ناقص نکاسیٔ آب کا ڈھانچہ اس میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک خاموش عالمی وبا ہے اور تمام ممالک کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتی ہے۔‘‘

انہوں نے پاکستان کے ایک ٹھوس اقدام کو سراہا۔ ان کے مطابق 2025 کے اواخر میں قومی ادارۂ صحت اور ڈبلیو ایچ او نے ملک میں پہلی قومی ترجیحی جراثیمی فہرست شائع کی، جبکہ ’’اس مسئلے سے ہر سال 2 لاکھ سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ اموات کا بوجھ وابستہ ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’ملک کی قیادت میں شواہد کی بنیاد پر قائم یہ بنیاد بالکل وہی قابلِ پیمائش اثر ہے جو میں ڈبلیو ایچ او کے ذریعے فراہم کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

یہ سوال کہ اخراجات کون برداشت کرے گا، اس پر انہوں نے کسی مخصوص نام کے بجائے ایک طریقۂ کار پیش کیا۔ ان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے ان کا کردار ہوگا کہ ’’پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر اے ایم آر کو ان کے قومی صحت کے سرمایہ کاری منصوبوں میں شامل کیا جائے، اور نگرانی، ذمہ دارانہ استعمال اور مؤثر ادویات تک رسائی کے پائیدار ماڈلز کے لیے حکومتوں، نجی شعبے، محققین اور مالی معاونین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔‘‘

تاہم انہوں نے کسی مخصوص مالی معاون یا مالی معاونت کے طریقۂ کار کا نام نہیں لیا۔

ویکسین کی تیاری: حقیقت پسندانہ، مگر ’’مرحلہ وار‘‘

چوتھا سوال یہ تھا کہ آیا وبائی امراض سے متعلق معاہدے کے تحت ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری پاکستان جیسے ملک کے لیے حقیقت پسندانہ ہدف ہے۔

ڈاکٹر حنان بلخی کے جواب میں دو مختلف مدتوں کے درمیان فرق واضح کیا گیا۔ ان کے مطابق معاہدے کے فریق جغرافیائی طور پر متنوع پیداواری صلاحیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی حمایت کرنے کے پابند ہیں، جس میں ڈبلیو ایچ او کے زیرِ انتظام علاقائی مراکز کے ذریعے تعاون بھی شامل ہے۔

تاہم پاکستان کے لیے ’’قریب المدت حقیقت پسندانہ راستہ علاقائی سطح پر ویکسین کی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی شراکت داریوں میں حصہ لینا ہے، جبکہ اپنے ضابطہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے تاکہ مواقع سامنے آنے پر ملک سرمایہ کاری کے لیے تیار ہو۔‘‘

یعنی قلیل مدت میں مقامی ویکسین پلانٹ لگانے کے بجائے علاقائی کوششوں میں شمولیت پر توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ’’پاکستان کے ضابطہ جاتی ادارے کو مضبوط بنانے کے لیے ہماری معاونت کو پہلے ہی ترجیح دے چکی ہیں‘‘، جبکہ پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے ایجنڈے پر مصر کے ساتھ تعاون بھی کررہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل بننے کی صورت میں ان کا وعدہ تھا کہ معاہدے کی شقوں کو ’’محض خواہش کے بجائے عملی شکل‘‘ دی جائے گی، تاہم انہوں نے خود ایک اہم شرط بھی بیان کی: ’’عمل درآمد مرحلہ وار ہوگا اور اس کا انحصار ان شراکت داروں پر ہوگا جو یہ مہارت منتقل کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

سعودی سوال

آخری سوال میں سیاسی پہلو زیرِ بحث آیا: سعودی شہری اور سعودی عرب کی نامزد کردہ امیدوار ایسی عالمی تنظیم کی سربراہی کے لیے میدان میں ہیں جو ایسے خطے میں صحت کے لیے مالی معاونت کی سمت پر اثرانداز ہوتی ہے جہاں خلیجی سرمایہ تیزی سے فعال ہورہا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر حنان بلخی نے اس مفروضے سے اتفاق نہیں کیا کہ ڈبلیو ایچ او کی قیادت اس مالی بہاؤ کی سمت طے کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’’خلیجی ممالک صحت کے شعبے میں اہم شراکت دار بن چکے ہیں، لیکن یہ رجحان خود ان ممالک کی جانب سے آگے بڑھایا جارہا ہے، یہ ایسی چیز نہیں جسے ڈبلیو ایچ او کی قیادت جنیوا سے تشکیل دیتی ہو۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ کسی ملک کا عہدہ نہیں۔ اگر منتخب ہوئی تو میری ذمہ داری تمام 194 رکن ممالک کے لیے ہوگی۔‘‘

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس دوڑ میں خلیج ایک ہی سمت میں نہیں ہے: قطر نے بھی اپنے امیدوار ڈاکٹر حنان الکواری کو نامزد کیا ہے۔

جوابات میں کیا اب بھی واضح نہیں

ڈاکٹر حنان بلخی کے جوابات میں ان کی انتخابی مہم کے تین بنیادی ستونوں — اعتماد، اثرات اور قدر — کے گرد ایک مربوط خاکہ سامنے آتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ یہ مستقل مؤقف بھی ہے کہ صحت کا تحفظ سرحدوں سے بالاتر مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تاہم پاکستان سے متعلق سب سے اہم سوالات پر ان کے جوابات میں بعض مخصوص اعداد و شمار موجود نہیں: علاقائی پولیو فنڈنگ میں پاکستان کا حصہ کتنا ہے، اے ایم آر کے لیے مالی معاونین کون ہیں، اور ملک میں ویکسین کی تیاری کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کیا ٹائم لائن ہے۔

یہی وہ تفصیلات ہیں جن پر عطیہ دہندگان پر انحصار کرنے والی وزارتیں صحت اس دوڑ کے فیصلے کی جانب بڑھنے کے دوران نظر رکھیں گی۔ ایسے ملک کے لیے جہاں پولیو، حفاظتی ٹیکہ جات اور اے ایم آر کے پروگرام قابلِ پیش گوئی بیرونی مالی معاونت پر انحصار کرتے ہیں، ڈاکٹر بلخی کی جانب سے وعدہ کی جانے والی مالی معاونت میں پیش بینی ہی وہ بنیادی کسوٹی ہے جو اہمیت رکھتی ہے۔

Comments

200 حروف