برطانیہ کا ایران کو انتباہ: اپنی سرزمین پر کسی بھی ’دشمن کارروائی‘ کو برداشت نہیں کریں گے
- برطانیہ نے اقوام متحدہ میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرزمین پر ایران سے منسلک گروہوں کی کسی بھی دشمنانہ سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس حوالے سے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا
برطانیہ کے وزیر خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ایران سے منسلک گروہوں کی جانب سے برطانیہ کی سرزمین پر ’’دھمکانے، دھمکی دینے یا دشمنانہ سرگرمی‘‘ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ کی جنگ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اہمیت اور برطانیہ کی جانب سے ’’برطانیہ کی سرزمین پر ایران سے منسلک گروہوں کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے پختہ عزم‘‘ پر بھی تبادلہ خیال کیا، برطانوی دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا۔
بیان میں کہا گیا، ’’وزیر خارجہ نے برطانیہ کی سرزمین پر ایران سے منسلک گروہوں کے خطرات، بشمول برطانیہ کی یہودی برادری پر حملوں، کا مقابلہ کرنے کے لیے برطانیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔‘‘
جولائی میں برطانیہ نے ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی حمایت اور اس سے منسلک ایک گروپ پر پابندی عائد کردی تھی۔ یہ اقدام یہود مخالف حملوں کے ایک سلسلے کے بعد نئے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا گیا، جن کا مقصد ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے نمائندہ گروہوں کے استعمال کو روکنا تھا۔
ایران اس سے قبل پراکسی گروہوں کے استعمال کی تردید کرچکا ہے۔ برطانوی بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ عباس عراقچی نے ایڈ ملی بینڈ کے موقف پر کیا ردعمل دیا۔
دوسری جانب عراقچی کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق انہوں نے ملاقات کے دوران ایران اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے ’’بعض یورپی حکومتوں کے تباہ کن اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل‘‘ کی اصلاح کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت پر اصرار اور انسانی حقوق کے تصورات کا بطور ذریعہ استعمال کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔‘‘
برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران سے منسلک سرکاری سائبر عناصر نے ’’چوزن برک‘‘ نامی جاسوسی سافٹ ویئر کے ایک گروپ کو استعمال کرتے ہوئے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام سمیت پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز پر ’’اسپیئر فشنگ‘‘ مہمات کے ذریعے ای میلز، پیغامات اور دیگر حساس معلومات چوری کیں۔
برطانوی دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا، ’’وزیر خارجہ نے واضح کردیا کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر دھمکانے، دھمکی دینے یا کسی بھی دشمنانہ سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا اور حکومت کی جانب سے اس کے جواب میں کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔‘‘
























Comments