مسابقتی کمیشن کا تھری ایم پاکستان پر اسکاچ برائٹ کی گمراہ کن مارکیٹنگ پر ایک کروڑ روپے جرمانہ
- سی سی پی کے مطابق مناسب بنیاد یا قابلِ تصدیق ثبوت کے بغیر مسابقتی مصنوعات کا تقابل گمراہ کن اشتہار کے زمرے میں آ سکتا ہے
مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے اسکاچ برائٹ مصنوعات کا کولگیٹ پامولیو پاکستان لمیٹڈ کی میکس اسکرب سے جھوٹے یا گمراہ کن تقابل کے ذریعے تشہیر کرنے پر تھری ایم پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
سی سی پی کے منگل کو جاری بیان کے مطابق کارروائی کولگیٹ پامولیو پاکستان کی شکایت پر شروع ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسکاچ برائٹ کی مارکیٹنگ مہم کے دوران ایک ویڈیو میں دونوں مصنوعات کا تقابل دکھایا گیا۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ 20 منٹ تک دھونے کے بعد میکس اسکرب نمایاں طور پر خراب ہوگیا، جبکہ اسکاچ برائٹ نسبتاً بہتر حالت میں رہا۔
انکوائری کے بعد سی سی پی نے تھری ایم پاکستان کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ کمپنی نے ویڈیو کی صداقت اور قابلِ اعتماد ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرہ ایک ملازم نے ذاتی حیثیت میں کمپنی کی اجازت کے بغیر کیا تھا۔
تاہم سی سی پی نے قرار دیا کہ تھری ایم پاکستان کے اس وقت کے ریجنل سیلز منیجر محمد عمران نے انکوائری کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ تقابل کیا تھا۔ کمیشن کے مطابق مظاہرہ ان کی سرکاری ذمہ داریوں سے قریبی طور پر منسلک تھا اور تھری ایم پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی مارکیٹنگ مہم کے تناظر میں کیا گیا، اس لیے ان کا اقدام کمپنی سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔
سی سی پی نے قرار دیا کہ مسابقتی مصنوعات کا تقابل مناسب بنیاد یا قابلِ شناخت ثبوت کے بغیر کیا جائے تو یہ جھوٹی یا گمراہ کن تشہیر کے زمرے میں آسکتا ہے۔
حکم نامے کے مطابق تھری ایم پاکستان تقابل کے دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ کمیشن نے شکایت کنندہ کی جانب سے پیش کی گئی تیسرے فریق کی لیبارٹری رپورٹ کو بھی مدنظر رکھا، جس میں جانچ کے بعد دونوں مصنوعات کا معیار تقریباً یکساں قرار دیا گیا تھا اور کارروائی کے دوران تھری ایم نے اس رپورٹ کو مسترد کرنے کے لیے کوئی مؤثر ثبوت پیش نہیں کیا۔
سی سی پی نے تھری ایم کا یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ مظاہرہ براہِ راست صارفین کے بجائے تیسرے فریق کے چینل پارٹنرز کو دکھایا گیا، اس لیے اسے اشتہار نہیں کہا جاسکتا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ یہ پارٹنرز اسکاچ برائٹ کی تشہیر، مارکیٹ میں اس کی رسائی بڑھانے اور فروخت میں اضافے کے لیے کام کر رہے تھے۔
بیان کے مطابق سی سی پی نے مسابقتی ایکٹ 2010 کی دفعہ 10(1) بمعہ دفعہ 10(2)(c) کی خلاف ورزی پر تھری ایم پاکستان پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا۔
تھری ایم پاکستان کو میکس اسکرب یا کسی دوسری کمپنی کی ملتی جلتی مصنوعات کے حوالے سے آئندہ ایسی یا اسی نوعیت کی کارروائی سے گریز کرنے اور جرمانے کی ادائیگی سے متعلق تعمیلی رپورٹ 60 روز میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سی سی پی کے مطابق حکم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں فیصلے کی تاریخ سے روزانہ 50 ہزار روپے اضافی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
























Comments