کمپیٹیشن کمیشن کی بڑی کارروائی : ایڈبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ روپے جرمانہ
- دسمبر 2025ء میں شوکاز نوٹس ملنے کے باوجود اگست 2026ء میں کرائے دوبارہ بڑھائے گئے
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے ایک اہم پیش رفت کے تحت کھانے کے تیل اور گھی کی نقل و حمل میں قائم کارٹل کا پردہ فاش کرتے ہوئے آل پاکستان ایڈبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ کارٹلائزیشن بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہی تھی۔
چیئرمین فرید احمد تارڑ اور ممبر بشریٰ ناز ملک پر مشتمل سی سی پی بینچ نے اپنے فیصلے میں کرایوں کی ملی بھگت اور پرچی نظام کے ذریعے مارکیٹ کی تقسیم پر 3، 3 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے، جو کمپیٹیشن ایکٹ 2010ء کی دفعہ 4 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایسوسی ایشن اور پاکستان بنسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان 2011ء سے کرایوں کے تعین کا معاہدہ قائم تھا۔ معاہدے کے تحت ڈیزل کی قیمت میں 1 روپیہ اضافے پر کرایہ 0.75 فیصد بڑھایا جاتا، جبکہ 1 روپیہ کمی پر صرف 0.5 فیصد کم کیا جاتا تھا۔
کمیشن کے مطابق ایسوسی ایشن پورٹس سے نقل و حمل کے 83 فیصد حصے پر قابض تھی اور اس نے کم ریٹ دینے والے ٹینکر مالکان کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ دسمبر 2025ء میں شوکاز نوٹس ملنے کے باوجود اگست 2026ء میں کرائے دوبارہ بڑھائے گئے۔
کمپیٹیشن کمیشن نے چھ سالہ طویل خلاف ورزی اور کارروائی کے دوران بھی غیر قانونی عمل جاری رکھنے کو شدّتِ جرم قرار دیتے ہوئے یہ سخت فیصلہ سنایا، تاکہ مہنگائی کے مارے عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
























Comments