صدمہ اب صدمہ نہیں رہا
- شاید اب سب سے زیادہ پریشان کن سوال یہ ہے کہ معمول کا معیار ہی تبدیل تو نہیں ہوگیا؟
شاید برینٹ خام تیل کے دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اب یہ صورتحال حیران کن محسوس نہیں ہوتی۔ ایران جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں، تاجر اب بھی یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے حقیقت میں کتنا تیل گزر رہا ہے، ٹینکر نگرانی کے نظام سے غائب ہو رہے ہیں، حملوں کا دائرہ متبادل برآمدی راستوں تک پھیل رہا ہے اور جغرافیائی سیاسی خطرات کا پریمیم توانائی کی قیمتوں میں بتدریج مستقل حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس کے باوجود عالمی معیشت بدستور ترقی کر رہی ہے، سرمایہ کار غیرمعمولی حد تک خطرہ مول لینے پر آمادہ ہیں اور پالیسی ساز اب خلل کو یوں زیرِ بحث لاتے ہیں جیسے یہ ان کے ماڈلز میں شامل کیا جانے والا محض ایک اور متغیر ہو۔
کیا یہی وہ صورتحال ہے جسے تجزیہ کار اب ’’نیا معمول، پھر ایک نیا معمول‘‘ قرار دینا شروع کر رہے ہیں؟
ایک وقت تھا جب آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل ان حقائق میں شمار ہوتی تھی جن پر عالمی منڈیوں کو زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ یقین اب ختم ہو چکا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 31 اگست کو بحری نگرانی میں 17 ملین بیرل سے زیادہ تیل آبنائے ہرمز سے گزرا، جبکہ توانائی کے بہاؤ پر نظر رکھنے والے ادارے کیپلر کے مطابق یہ مقدار شاید صرف 6 ملین بیرل تھی۔
حالیہ صنعتی اعداد و شمار کے مطابق تیل کی ترسیل روزانہ 2 ملین بیرل سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ٹینکر تیزی سے ’’اندھیرے میں‘‘ سفر کر رہے ہیں، سیٹلائٹ سے ان کی نگرانی محدود ہو گئی ہے، جبکہ امریکا اور ایران کی باہم متصادم پابندیوں نے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ کو کچھ ایسا بنا دیا ہے جہاں اعداد و شمار کا اندازہ لگانا بھی ایک طرح کا قیاس بن چکا ہے۔
جب تیل کی منڈی رسد کی درست پیمائش ہی نہ کر سکے تو وہ رسد کی قیمت کیسے طے کرے گی؟
بظاہر اس کا جواب یہ ہے کہ غیر یقینی صورتحال ہی کی قیمت مقرر کر دی جائے۔ بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جولائی کے بعد پہلی مرتبہ ہوا۔ اگست کے آغاز سے اب تک قیمت میں تقریباً ایک چوتھائی اضافہ ہو چکا ہے، کیونکہ پائیدار جنگ بندی یا تصفیے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے سعودی توانائی تنصیبات پر حملے اب بحیرۂ احمر کے اس راستے کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں، جس نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں شدید کمی کا کچھ ازالہ کیا تھا۔
بینک خام تیل کی قیمتوں کے اپنے اندازوں میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ منڈیاں بھی اب کسی عارضی خلل کے بجائے طویل جنگ کے امکان کو قیمتوں میں شامل کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
اور اس نئے معمول کا کتنا حصہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ابتدائی غلطی کا نتیجہ ہے جس کے تحت انہوں نے بنیامین نیتن یاہو کی ایران سے متعلق مہم جوئی کو واشنگٹن کو ایسی جنگ میں دھکیلنے دیا جس کے بارے میں خیال تھا کہ معاملات زیادہ آسانی سے طے ہو جائیں گے؟ چھ ماہ بعد نتیجہ بار بار کی فوجی کشیدگی، توانائی کی ترسیل میں شدید خلل اور ایسی آبنائے ہرمز کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کے معمول کے مطابق کام کرنے کو اب یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اپریل میں برینٹ خام تیل 126.41 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر پہنچا، تصفیے کی امید پیدا ہونے پر قیمت واپس نیچے آئی اور اب ایک بار پھر 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
شاید اس سے بھی اہم پیش رفت یہ ہے کہ اب معاملہ خام تیل کی قیمت میں کبھی کبھار آنے والے بڑے اضافے تک محدود نہیں، بلکہ یہ امکان زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی عدم تحفظ اپنی ایک نیم مستقل قیمت اختیار کر رہا ہے۔
یہ امکان اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ کہانی صرف خام تیل تک محدود نہیں۔ صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات کی منڈیاں بھی تیزی سے دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور روس سے برآمدات میں خلل کے باعث ڈیزل کی رسد متاثر ہوئی ہے، جبکہ اضافی ریفائننگ صلاحیت محدود ہونے کی وجہ سے اس کمی کو پورا کرنا مشکل ہے۔ امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، پٹرول بھی مہنگا ہو رہا ہے، ذخائر پہلے ہی کم ہو چکے ہیں اور ریفائنریوں کی سالانہ دیکھ بھال کا موسم قریب آ رہا ہے۔
جنگ کے ابتدائی مہینوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقع رکھنے والے ہیج فنڈز اب پٹرول اور ڈیزل کے بارے میں جارحانہ طور پر تیزی کی جانب مائل ہو گئے ہیں، اگرچہ خام تیل کے حوالے سے اب بھی نسبتاً محتاط ہیں۔ تو کیا توانائی کا اگلا بڑا جھٹکا کنویں سے نکلنے والے خام تیل کے بجائے ریفائنری کے مرحلے پر آ سکتا ہے؟
وسیع تر معاشی منظرنامہ اس سوال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ دو جنگوں، مہنگی توانائی اور قرض لینے کی لاگت میں نمایاں اضافے کے باوجود عالمی معاشی نمو حیرت انگیز طور پر مضبوط ہے۔ جے پی مورگن کے عالمی کاروباری سروے کے مطابق اگست میں معاشی سرگرمی مسلسل پانچویں ماہ بڑھی اور دو سال سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ سالانہ بنیاد پر عالمی مجموعی پیداوار میں 3.1 فیصد نمو سے مطابقت رکھتی ہے، جبکہ بینک نے ممکنہ نمو کا تخمینہ 2.3 فیصد لگایا ہے۔
مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، دفاعی اخراجات اور کارپوریٹ سرمایہ کاری اخراجات طلب کو مضبوط رکھے ہوئے ہیں، جبکہ رسد میں رکاوٹیں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر رہی ہیں۔
جب غیرمعمولی طور پر مضبوط طلب کا سامنا ساختی طور پر مہنگی توانائی سے ہو تو کیا ہوتا ہے؟ مرکزی بینکوں کو شاید جلد ہی اس کا جواب تلاش کرنا پڑے۔ تاریخی طور پر بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے حکومتیں مالیاتی پالیسی سخت کرنے سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ بہت سی حکومتیں قرضوں کے تناسب کو مستحکم کرنے کے لیے خود معاشی نمو پر انحصار کر رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مالیاتی پالیسی کو رفتار کم کرنے کی ذمہ داری زیادہ سے زیادہ اٹھانا پڑے گی۔
چنانچہ بلند شرحِ سود کا طویل عرصے تک برقرار رہنا اب کسی ناخوشگوار عارضی مرحلے کے بجائے ابھرتے ہوئے معاشی منظرنامے کی ایک مستقل خصوصیت معلوم ہونے لگا ہے۔
پاکستان کے لیے ان میں سے کسی بھی صورتحال میں محض نظری بحث کی گنجائش بہت کم ہے۔ افراطِ زر میں کمی کے گزشتہ دور سے ملنے والے ریلیف کے بعد مہنگائی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جبکہ معیشت کئی برس سے تیزی سے بڑھتی آبادی کے لیے مطلوبہ معاشی گنجائش پیدا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ اب تیل ایک بار پھر مسلسل مہنگا ہونے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، عین ایسے وقت میں جب روزانہ ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کے باعث عالمی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں صارفین تک پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے منتقل ہو رہی ہیں۔ اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔
ڈیزل ٹرکوں، ٹریکٹروں اور جنریٹروں کو چلاتا ہے؛ نقل و حمل کی بلند لاگت سبزیوں، اجناس، تیار شدہ اشیا اور تقریباً ہر اس چیز کی قیمتوں میں منتقل ہو جاتی ہے جسے پیداوار کے مقام سے صارف تک پہنچنا ہوتا ہے۔
پھر بیرونی کھاتہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے خام تیل پر جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث برقرار رہنے والا اضافی قیمت پریمیم براہِ راست درآمدی بل، زرِ مبادلہ کی صورتحال اور بالآخر مہنگائی کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب، توانائی کو مہنگا رکھنے والے یہی عوامل عالمی شرحِ سود کو بھی بلند رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔ یوں ایک معیشت کو عین ایسے وقت میں تیل اور سرمائے، دونوں کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے جب ملکی گھرانے اور کاروبار ان میں سے کسی ایک اضافی بوجھ کو بھی برداشت کرنے کی کم سے کم صلاحیت رکھتے ہوں۔
تو پھر ایسی معیشت کے لیے ’’معمول پر واپسی‘‘ کا مطلب آخر کیا ہے جو مہنگی توانائی، مہنگے قرض اور کمزور بنیادی معاشی نمو کے درمیان پھنسی ہوئی ہے؟
ممکن ہے برینٹ کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ جائے۔ ممکن ہے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہو جائے۔ ممکن ہے سفارت کاری بالآخر وہ حاصل کر لے جو چھ ماہ کی جنگ حاصل نہیں کر سکی۔ اس تنازع کے دوران منڈیاں بارہا ایسے ہی نتائج پر شرط لگاتی رہی ہیں۔ لیکن زیادہ پریشان کن سوال یہ ہے کہ کہیں خود ’’معمول‘‘ کا معیار ہی تو تبدیل نہیں ہو گیا؟
اگر تیل کے تاجروں کو معمول کے مطابق نظروں سے اوجھل ٹینکروں، بحری حفاظتی دستوں، متبادل بحری راستوں، ریفائنریوں میں کمی اور ایک اور میزائل حملے کے امکان کو قیمتوں میں شامل کرنا پڑے؛ اگر مرکزی بینکوں کو غیرمعمولی طور پر مضبوط طلب کے ساتھ جغرافیائی سیاسی مہنگائی کو بھی مدنظر رکھنا پڑے؛ اور اگر پاکستان جیسی درآمدی معیشتوں کو یہ اضافی اخراجات پہلے سے بھی کم وقفے میں برداشت کرنا پڑیں، تو آخر ہم کس چیز کے دوبارہ معمول پر آنے کی توقع کر رہے ہیں؟
شاید ’’معمول کے مطابق حالات کی بحالی‘‘ کا انتظار ہی غلط بات ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments