موسمیاتی تبدیلی کے معاملے میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں
- پاکستان کی آب و ہوا میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے، تاہم اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ ملک کے مختلف علاقوں میں تیزی سے غیر متوقع اور غیر یکساں ہوتی جا رہی ہے
پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی جانب سے 1981 سے 2025 تک 45 سال کے موسمیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا تازہ ترین جائزہ ہمارے پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہونا چاہیے۔ پاکستان کی آب و ہوا میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے، تاہم اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ ملک کے مختلف علاقوں میں تیزی سے غیر متوقع اور غیر یکساں ہوتی جا رہی ہے۔ ملک گرم ہو رہا ہے، جہاں اوسط درجہ حرارت میں ہر دہائی میں 0.21 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت اس سے بھی زیادہ تیزی سے، یعنی ہر دہائی میں 0.26 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ رہا ہے۔ رات کے وقت درجہ حرارت میں تیز رفتار اضافہ خاص طور پر تشویش کا باعث ہے، کیونکہ زیادہ گرم راتیں انسانی جسم کی دن کی گرمی سے بحالی کی صلاحیت کو کم کر دیتی ہیں اور صحت کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہیں، خصوصاً کمزور طبقات کے لیے۔
رپورٹ اس سادہ مفروضے کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان مزید خشک ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ سالانہ بارشوں میں ہر دہائی میں تقریباً 7.40 ملی میٹر کمی آئی ہے، تاہم یہ کمی شماریاتی اعتبار سے نمایاں نہیں ہے۔ زیادہ تشویشناک رجحان یہ ہے کہ بارشیں کم قابلِ اعتماد ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ علاقوں میں مون سون کی بارشوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں کئی موسموں کے دوران بارشوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ خشک سالی اور شدید بارش کے درمیان تضاد حیران کن ہے۔ مثال کے طور پر 2024-25 کے موسم سرما کے دوران پاکستان میں قومی سطح پر بارشوں میں 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم صرف تین سال قبل 2022 کے مون سون کے دوران ملک کے جنوبی علاقوں کے بعض حصوں میں اوسط سے 450 فیصد تک زیادہ بارش ہوئی، جس نے تباہ کن سیلابوں میں کردار ادا کیا، ان سیلابوں سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیرِ آب آ گیا۔ اس طرح کی شدت پاکستان کے آبی موسمیاتی نظام میں بڑھتے ہوئے اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
اس اتار چڑھاؤ کے زراعت اور آبی تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کسان قابلِ پیش گوئی بارشوں اور آبپاشی کے نظام الاوقات پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ درجہ حرارت اور بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز فصلوں کی بوائی کے موسم میں خلل ڈال سکتے ہیں، پیداوار میں کمی اور آبپاشی کی ضروریات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت برف اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ کو تیز کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں برفانی جھیلیں بننے اور پھیلنے کا عمل تیز ہو رہا ہے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (جی ایل او ایف) کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جبکہ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے وقت میں بھی تبدیلی آ رہی ہے اور ممکنہ طور پر سال کے بعد کے حصے میں پانی کی دستیابی کم ہو سکتی ہے، جب آبپاشی اور پن بجلی کی ضروریات بدستور زیادہ رہتی ہیں۔ اسی دوران زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں کمی خطرے کی ایک اور سطح کا اضافہ کر رہی ہے، خاص طور پر پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار علاقوں میں۔ اس کے باوجود پانی کا انتظام زیادہ تر طویل مدتی موسمیاتی لچک کے بجائے قلیل مدتی قلت اور آفات کے بعد کے ردعمل پر مرکوز ہے۔
شدید گرمی ایک اور بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ جنوبی پنجاب، سندھ اور مغربی بلوچستان کے بعض علاقے پہلے ہی سالانہ 100 سے زائد دن ایسے دیکھ رہے ہیں جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہتا ہے۔ اسی دوران پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بعض حصوں میں ایسے راتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جن میں کم سے کم درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ حالات صحتِ عامہ، بجلی کی فراہمی، مزدوروں کی پیداواری صلاحیت اور گھریلو آمدنی پر اضافی دباؤ ڈالیں گے۔ سیلاب، خشک سالی یا ہیٹ ویو کے بعد ردعمل صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کو فوری طور پر ایک جامع موسمیاتی موافقت کی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جسے وسائل اور سب سے بڑھ کر سیاسی عزم کی حمایت حاصل ہو۔ موسمیاتی خطرے کو معاشی منصوبہ بندی کے مرکزی دھارے کا حصہ بننا چاہیے، بجائے اس کے کہ یہ صرف ماحولیاتی اداروں کی ذمہ داری بن کر رہ جائے۔ ہر بڑی سڑک، ہاؤسنگ اسکیم، زرعی منصوبے اور پانی کے انتظام سے متعلق فیصلے کو اس موسمیاتی صورتحال کے مطابق جانچا جانا چاہیے جس کا پاکستان کو آنے والی دہائیوں میں سامنا ہونے کا امکان ہے، نہ کہ ماضی کی آب و ہوا کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔
پی ایم ڈی نے شواہد فراہم کر دیے ہیں، اب پالیسی سازوں کو جواب دینا ہوگا۔ ملک اپنے طور پر موسمیاتی تبدیلی کو کنٹرول نہیں کر سکتا، لیکن وہ اس کے نتائج کے مقابلے میں اپنی کمزوری کو کم کر سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی لاگت نمایاں ہو سکتی ہے، لیکن عملی اقدامات نہ کرنے کی قیمت انسانی جانوں، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور معاشی نقصانات کی صورت میں کہیں زیادہ ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments