جولائی تا اگست 2026 کے حوالے سے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔ تجارتی خسارہ 6.025 ارب ڈالر منفی سے بڑھ کر 7.116 ارب ڈالر منفی ہوگیا جو 18.11 فیصد اضافہ ہے۔
جولائی تا اگست 2026 برآمدات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 7.04 فیصد اضافہ ہوا جبکہ درآمدات 13.03 فیصد بڑھ گئیں۔
باخبر تجزیے کے لیے تین اہم نکات قابلِ غور ہیں۔ اولاً، رواں سال جولائی میں برآمدات میں اضافے کا باعث بننے والی اشیا کی تفصیلات دستیاب ہیں تاہم اگست کے لیے یہ تفصیلات ابھی دستیاب نہیں۔ جولائی کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات میں سب سے نمایاں اضافہ ٹیکسٹائل اور ٹیکسٹائل مصنوعات میں ہوا جس میں خام کپاس کی برآمدات میں کمی کے باوجود سب سے بڑا حصہ ملبوسات، کپڑوں اور نِٹڈ مصنوعات کا رہا۔ اس کے بعد بنیادی دھاتوں بالخصوص تانبے اور ایلومینیم جبکہ اوزار، آلات اور کٹلری کی برآمدات میں اضافہ نمایاں رہا۔
دوم، یہ اضافہ حجم کے بجائے ڈالر کی مالیت کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے، اس لیے بظاہر یہ مفروضہ قائم ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں برآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی ایک آسان وضاحت جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی میں شدید رکاوٹ ہے۔ اس صورتحال کے باعث برآمدات کے لیے زیادہ مہنگے ذرائع یعنی فضائی نقل و حمل کا استعمال کرنا پڑا جس سے اشیا کی مجموعی مالیت میں اضافہ ہوا تاہم ممکنہ طور پر برآمدات کے حجم میں اضافہ نہیں ہوا۔
اور آخر میں تنازع کے باعث جن پٹرولیم مصنوعات کی درآمدی مالیت میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی تھی، ان کی درآمدات رواں سال جولائی میں کم ہوکر 1.198 ارب ڈالر رہ گئیں جو جولائی 2025 میں 1.655 ارب ڈالر تھیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں کمی کی ہے جیسا کہ چین سمیت دیگر ممالک میں بھی دیکھا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پیداواری شعبوں کو اپنی سرگرمیوں میں کمی کرنا پڑسکتی ہے جس کے نتیجے میں جی ڈی پی کی شرح نمو متاثر ہوگی۔ اس صورتحال سے روزگار میں اضافے کی رفتار کم ہونے کے ساتھ مہنگائی میں کمی بھی واقع ہوسکتی ہے۔
دوسرے الفاظ میں یہ صورتِ حال عام عوام کے معیارِ زندگی پر شدید منفی اثرات مرتب کرے گی۔
تاہم صرف جولائی کے اعدادوشمار سے یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ آیا حکومت نے ساختی اصلاحات کے ذریعے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے اس بوجھل اور گھمبیر چکر کو توڑ دیا ہے یا نہیں، جس نے مسلسل آنے والی حکومتوں کو درآمدات پر انتظامی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام سے قرض حاصل کرنے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی دباؤ کا شکار ہوتی ہے کیونکہ خام مال یا نیم تیار شدہ مصنوعات کی درآمدات پر انحصار کرنے والے پیداواری شعبے اپنی پیداوار شدید حد تک کم کرنے، یا بالکل بند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی بحران جس کے عالمی معیشت سمیت پاکستان پر بھی آج تک سنگین منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم پاکستان جو کچھ کرسکتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسی اصلاحات نافذ کرے جو اس چکر کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے، لہٰذا حکومت کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ ایسی صنعتوں کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرے جو آج ہمارے بیشتر برآمدی شعبوں کی طرح محض اپنی اضافی پیداوار برآمد کرنے کے بجائے، برآمدات کیلئے پیداوار کریں۔ اس حوالے سے آئی ٹی برآمدات ایک نمایاں استثنا ہیں، یہی حکمتِ عملی ان دیگر ممالک نے اختیار کی ہے جو معاشی ترقی کے ٹیک آف مرحلے تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہیں۔
خلاصہ یہ کہ حکومت کو اس گھمبیر چکر کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جس کا مقصد تجارتی سرپلس حاصل کرنا ہو۔ اس سے نہ صرف موجودہ صنعتوں کو سبسڈیز دینے کی حکومت کی ضرورت میں بتدریج کمی آئے گی جو آئی ایم ایف کی درست نشاندہی کے مطابق کئی دہائیوں تک مالی اور زری مراعات حاصل کرنے کے باوجود آج بھی نوزائیدہ صنعت کی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ پاکستان کا قرض لینے پر انحصار بھی بتدریج کم ہوتا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments