عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ بین الاقوامی قرض مارکیٹ میں بانڈز جاری کیے جائیں تاکہ قرضوں کی ری فنانسنگ اور رول اوورز، بالخصوص دوطرفہ قرض دہندگان پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اگرچہ ان قرضوں پر شرحِ سود کم ہوتی ہے لیکن ان کے ساتھ سیاسی شرائط بھی وابستہ ہوتی ہیں۔
مارکیٹ پر مبنی بانڈز کے اجراء میں بنیادی رکاوٹ حکومت کی کریڈٹ ریٹنگ تھی، جو زوال کی نچلی ترین سطح (جنک کیٹیگری) میں تھی کیونکہ ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا۔ اب زرِمبادلہ ذخائر میں اضافے، فارورڈ لائبلٹیز میں کمی اور مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے قرض کی شرح (ڈیٹ ٹو جی ڈی پی ریشو) کو کم کر کے حاصل کی گئی استحکام کی بدولت تمام بڑے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی سوورن ریٹنگ کو سی کیٹیگری سے ترقّی دے کربی کیٹیگری میں شامل کردیا ہے۔
آج ریٹنگ اسی سطح پر ہے جس پر یہ 2016 سے 2019 کے دوران تھی۔ بہتری کے لیے کوششیں جاری رہنی چاہئیں تاکہ اس سطح پر واپس پہنچا جا سکے جو 2000ء کی دہائی کے اوائل میں دیکھی گئی تھی۔
تاہم اسی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے سخت مالی اور زری پالیسیاں اپنانے سے معاشی نمو مزید متاثر ہوتی رہے گی۔ ان پالیسیوں کے باوجود قرضوں کے رول اوور کا خطرہ نمایاں طور پر کم نہیں ہوتا۔
تقریباً ایک دہائی قبل 12 ماہ کے اندر واجب الادا اصل قرض کی ادائیگیاں 5 سے 7 ارب ڈالر ہوا کرتی تھیں۔ گزشتہ 3 سے 4 برس کے دوران یہ رقم 20 ارب ڈالر سے زائد رہی ہے جو 2025ء میں تقریباً 28 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ حالیہ کمی کے باوجود یہ اب بھی 20 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
حالیہ کمی کی ایک وجہ بانڈز کا اجرا ہے جبکہ اس سے بھی زیادہ اہم عنصر پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی جغرافیائی سیاسی پوزیشن سے فائدہ اٹھانا ہے۔ جب تک صورتحال ہمارے حق میں ہے، اس کوشش کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے اور یہ مقصد وزیرِ خزانہ کے ہدف سے بھی ہم آہنگ ہے۔
اس پس منظر میں وزارتِ خزانہ نے عمل شروع کیا اور ایک تاریخی ڈوئل ٹرینچ یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر مالیت کے بانڈز جاری کیے جو ایک ہی لین دین میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ اجرا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس لین دین کے لیے 6 ارب ڈالر کی طلب موصول ہوئی۔
تاہم حکومت نے 5.5 سالہ مدت کے یورو بانڈ کے ذریعے 1.75 ارب ڈالر حاصل کیے جس پر 7.50 فیصد کوپن ریٹ مقرر کیا گیا تھا جبکہ مزید 1.25 ارب ڈالر 10 سالہ یورو بانڈ کے ذریعے حاصل کیے گئے جس کا کوپن ریٹ 7.90 فیصد تھا۔
تاہم بعض حلقوں میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ شرح بہت زیادہ ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ جب امریکی 10 سالہ بانڈز کی پیداوار تقریباً 5 فیصد کے قریب ہے تو بہتر معاشی حالات کے باوجود پاکستان کو اتنی بلند شرح ادا کرنا پڑرہی ہے۔ امریکا اور ایران سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث مجموعی بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں بھی بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں بانڈز کے اجرا کی کوشش کرنی چاہیے؟ بلاشبہ خطرات بہت زیادہ ہیں۔
تاہم ایک نکتہ نظر (جوابی دلیل) یہ بھی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو (فیڈ) دانشمندی سے کام نہیں لے رہا، کیونکہ وہ انتہائی بلند شرح پر کوانٹیٹیٹو ایزنگ (نوٹوں کی چھپائی اور بانڈز کی خرید) جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قلیل سے متوسط مدت میں امریکی شرحِ سود میں اضافے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ اس منطق کی رو سے شرحِ سود میں مزید اضافے سے پہلے ابھی (بانڈز) جاری کر دینا زیادہ بہتر ہے۔
مزید برآں مستقبل میں پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کو دھچکا لگ سکتا ہے، اس لیے موجودہ سازگار صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانا بہتر ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ بانڈز بھی اپنی اجرا کی شرح کے قریب ییلڈ پر ٹریڈ کررہے ہیں۔ 2029ء سے 2036ء کے درمیان میچور ہونے والے پاکستانی یورو بانڈز کی ییلڈ 7 سے 8 فیصد کے درمیان ہے۔
تاہم نئے بانڈز کا اجرا پریمیم کے ساتھ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پانچ سالہ بانڈز کی مؤثر شرح 7.75 فیصد جب کہ 10 سالہ بانڈز کی شرح 8.25 فیصد بنتی ہے۔
عالمی بانڈ مارکیٹ کی موجودہ کمزور صورتحال کو مدنظر رکھا جائے جہاں مزید بگاڑ کے خطرات بہت زیادہ ہیں، تو یہ شرح زیادہ بری نہیں ہیں۔ اسی لیے حکومت کو چاہیے کہ سیاسی طور پر حساس رول اوورز پر انحصار کم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض حاصل کرے۔
اگرچہ یہ شرح رول اوورز پر ادا کی جانے والی شرح کے تقریباً دوگنا ہیں، تاہم ایسا کرنے سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری آئے گی اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بیرونی قرض گیری سے متعلق ملک کے خطرات کم ہوں گے۔
یہ حکمتِ عملی نجی شعبے کو کاروباری توسیع کے لیے غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک مقامی سطح پر جاری کیے گئے ایکویٹی اور قرض کے ذریعے حاصل ہونے والے فنڈز سے نجی کمپنیوں کو مشینری اور آلات خریدنے کی اجازت دینے سے گریزاں ہے۔ مزید برآں اس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے جو قلیل مدتی واجبات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ بہت سی دیگر رکاوٹیں بھی موجود ہیں جو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں اور نجی شعبے کی جانب غیر ملکی قرض سرمایہ کی آمد میں مشکلات پیدا کرتی ہیں جن میں قرضوں کے بلند رول اوور کا خطرہ بھی شامل ہے۔ ہمیں دیگر اصلاحات پر کام جاری رکھتے ہوئے اس مسئلے کو بھی حل کرنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments