چینی کی تجارت، حکومت راستے سے ہٹ جائے
- پاکستان ایک سال کے عرصے میں چینی کی قلت کے خدشات سے نکل کر ایک بڑے فاضل ذخیرے سے نمٹنے کی صورتحال میں آچکا ہے
پاکستان ایک سال کے عرصے میں چینی کی قلت کے خدشات سے نکل کر ایک بڑے فاضل ذخیرے سے نمٹنے کی صورتحال میں آچکا ہے۔ مالی سال 26 میں پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 32 فیصد زیادہ ہے، خوردہ قیمتیں دسمبر 2025 کی سطح سے نمایاں طور پر کم ہیں، ذخائر بھاری ہیں، جبکہ گنے کی ایک اور بڑی فصل بھی مارکیٹ میں آنے والی ہے۔
حسبِ توقع بحث اب اس بات پر منتقل ہوگئی ہے کہ حکومت شوگر ملوں کو کتنی چینی برآمد کرنے کی اجازت دے۔ صنعت کے اندازوں کے مطابق جولائی کے اختتام پر ذخائر 3 ملین میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) سے زیادہ تھے، جبکہ اگلے کرشنگ سیزن سے قبل بھی ایک بڑا ذخیرہ منتقل ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران ملز اور کاشتکار دونوں برآمدات کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ ذخائر کے بڑھتے بوجھ کو روکا جاسکے، کیونکہ بصورتِ دیگر اس کے نتیجے میں گنے کی کمزور خریداری اور کسانوں کو ادائیگیوں میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
گزشتہ دور میں جو کچھ ہوا، اسے دیکھتے ہوئے حکومت کی ہچکچاہٹ قابلِ فہم ہے۔

چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی، جس کے بعد مقامی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اور بالآخر حکومت کو تقریباً 0.3 ملین میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا انتظام کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے پالیسی سازوں کو اس وقت ایک اور مرتبہ برآمدات کی اجازت دینے سے گریزاں کردیا ہے، جب چند ماہ قبل ہی انہیں مارکیٹ کے بالکل مخالف سمت میں مداخلت کرنا پڑی تھی۔
وہ تجربہ، حسبِ معمول، مسلسل غلط انداز میں سمجھا جارہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ چینی برآمد کی گئی اور اس کے بعد قیمتیں بڑھ گئیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پالیسی ساز اب بھی چینی کی قیمتوں میں ہونے والی ہر تبدیلی کو ایسی چیز سمجھتے ہیں جسے انتظامی طور پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں تجارتی فیصلے تاخیر سے کیے جاتے ہیں، ترغیبات بگڑتی ہیں، اور ایک مداخلت بالآخر اگلی مداخلت کے لیے جواز فراہم کرتی ہے۔
پاکستان زیادہ تر دیگر قابلِ تجارت اشیا کے معاملے میں یہی منطق اختیار نہیں کرتا۔ جب بھی ملک میں چاول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو چاول کی برآمدات معطل نہیں کی جاتیں، مقامی قیمتوں میں برآمدات کے باعث ردوبدل ہونے پر سیمنٹ بنانے والوں سے اجازت لینے کا تقاضا نہیں کیا جاتا، اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان سے یہ بھی نہیں کہا جاتا کہ وہ بیرونِ ملک سے آرڈر قبول کرنے سے پہلے یہ ثابت کریں کہ مقامی صارفین کے لیے کپڑے کی وافر مقدار محفوظ کردی گئی ہے۔

ایسی کوئی مضبوط معاشی وجہ موجود نہیں کہ چینی کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے۔ یہ نجی شعبے میں پیدا ہونے والی اور بین الاقوامی سطح پر تجارت کی جانے والی ایک جنس ہے، اور اس کی مقامی قیمت کو مقامی پیداوار، کھپت اور بین الاقوامی قیمتوں کے باہمی تعامل کی عکاسی کرنی چاہیے، نہ کہ اس انتظامی فیصلے کی کہ کسی مخصوص مہینے میں کتنے ٹن چینی برآمد یا درآمد کی جاسکتی ہے۔
اگر برآمدات سے مقامی دستیابی محدود ہوتی ہے اور ملکی قیمتیں درآمدی برابری کی قیمت سے اوپر چلی جاتی ہیں تو تجارتی بنیادوں پر چینی درآمد کرنا زیادہ پرکشش ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس، جب مقامی پیداوار مضبوط ہو اور بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں ملکی قیمتیں کمزور پڑ جائیں تو برآمدات منافع بخش ہونی چاہئیں، جس سے تجارتی توازن خود بخود ایڈجسٹ ہوسکے، بغیر اس انتظار کے کہ ای سی سی کی منظوری حاصل ہو، کسی وزارت کی سفارش آئے یا حکومت اور شوگر انڈسٹری کے درمیان ایک اور مذاکرات کا دور ہو۔
موجودہ صورتحال موجودہ نظام کی خامیوں کو خاصی واضح انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ گزشتہ سال مقامی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد پاکستان نے چینی درآمد کی، تاہم اس کے بعد پیداوار تاریخی بلند سطحوں کے قریب واپس آگئی، سال 26 کے بیشتر عرصے کے دوران خوردہ قیمتیں دسمبر 2025 کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد کم رہی ہیں، اور اب ملز ایک اور بڑے کرشنگ سیزن میں داخل ہونے سے قبل چینی کے ذخائر اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے باوجود نجی پیدا کنندگان کو اس اضافی چینی کو برآمد کرنے کے لیے اب بھی اجازت درکار ہے، جبکہ حکومت خود بھی گزشتہ قلت کے دوران ٹی سی پی کے ذریعے درآمد کی گئی چینی کو فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مقامی طور پر پیدا ہونے والی چینی کی برآمدات محدود کرنا، جبکہ اسی دوران حکومت کی ملکیت میں موجود درآمد شدہ چینی کو دوبارہ برآمد کرنے کی کوشش کرنا، ایک واضح پالیسی تضاد ہے۔ یہ وہ چینی ہے جو اس لیے اضافی ہوگئی کیونکہ ملکی رسد کی صورتحال انتظامی ردِعمل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہوگئی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ بہتر انداز میں وضع کیے گئے برآمدی کوٹے یا ذخائر کی زیادہ پیچیدہ حد بندیوں کی تجاویز بھی اصل بڑے مسئلے کو نظر انداز کرتی ہیں۔ صوابدیدی کنٹرولز کی جگہ قدرے زیادہ ذہانت سے تیار کیے گئے صوابدیدی کنٹرولز نافذ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پھر بھی بیوروکریٹس ہی یہ فیصلہ کررہے ہوں گے کہ 0.3 ایم ایم ٹی، 0.6ایم ایم ٹی یا 1 ایم ایم ٹی چینی ملک سے باہر جانی چاہیے، حالانکہ یہ تقسیم مارکیٹ کی قیمتیں زیادہ بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہیں۔
حکومت کو اس کے بجائے غیر محدود تجارتی بنیادوں پر درآمدات اور برآمدات کی اجازت دینے کی جانب بڑھنا چاہیے، تاکہ تجارت سیاسی دباؤ کے تحت وقفے وقفے سے ردِعمل دینے کے بجائے نسبتی قیمتوں کے مطابق مسلسل ایڈجسٹ ہوتی رہے۔ اگر برآمدات میں اضافے کے بعد مقامی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو اسے خودکار طور پر پالیسی کی ناکامی کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بلند قیمتیں ہی دراصل وہ اشارہ ہیں جو اضافی پیداوار کی حوصلہ افزائی، معمولی یا اضافی کھپت کی حوصلہ شکنی اور بالآخر درآمدات کو تجارتی طور پر قابلِ عمل بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
صارفین کے تحفظ کو اکثر موجودہ نظام کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس دلیل کا بھی زیادہ باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر مقصد کم آمدنی والے گھرانوں کو غذائی اشیا کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے تحفظ فراہم کرنا ہے تو اس کا مناسب طریقہ ہدفی آمدنی کی معاونت یا سماجی تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ پوری معیشت میں چینی کی قیمت کو مصنوعی طور پر کم رکھنا، جس کا فائدہ ایسے صارفین کو بھی پہنچتا ہے جنہیں کسی سبسڈی کی ضرورت نہیں۔
تجارت کو آزاد کرنے کے بعد ایک وسیع تر زرعی پالیسی کا مسئلہ بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ مالی سال 26 میں گنے کی پیداوار تقریباً 89 ایم ایم ٹی تک پہنچ گئی، جبکہ زیرِکاشت رقبہ ان علاقوں تک مسلسل پھیل رہا ہے جہاں گنا آبپاشی والے رقبے کے لیے کپاس اور دیگر فصلوں کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں پیداوار میں اضافے کا انحصار تیزی سے بہتر اقسام، گنے سے بہتر اور زیادہ سکروز حاصل کرنے اور زمین و پانی کی فی یونٹ زیادہ پیداوار پر ہونا چاہیے، نہ کہ زیرِکاشت رقبے میں مسلسل توسیع پر۔
لہٰذا وسیع تر ڈی ریگولیشن ایجنڈا بھی تجارتی آزادی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے گنے کی مقررہ قیمت کے انتظام سے دستبرداری اختیار کرلی ہے، لیکن لائسنسنگ کی پابندیاں اور زوننگ کے قواعد اب بھی برقرار ہیں۔ حکومت کو اس کے بجائے کسانوں کو بروقت ادائیگی، مسابقتی قانون، معاہدے کی ذمہ داریوں اور مارکیٹ میں شفافیت کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ یہ جائز ریگولیٹری ذمہ داریاں ہیں، نہ کہ تجارتی قیمتوں کا تعین کرنے کی کوشش۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ڈی ریگولیشن کا مطلب ضابطوں کی عدم موجودگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں مارکیٹ میں ناجائز فائدہ اٹھانے، ملی بھگت یا معاہدے کی خلاف ورزی موجود ہو وہاں مارکیٹ کے طرزِ عمل کو منظم کیا جائے، بجائے اس کے کہ محض اس لیے تجارت کو کنٹرول کیا جائے کہ قیمتیں ایسی سمت میں حرکت کررہی ہیں جو سیاسی طور پر ناقابلِ قبول بن جاتی ہے۔
پاکستان کی شوگر پالیسی بارہا برآمدی اجازت ناموں، برآمدی پابندیوں، ہنگامی درآمدات، رعایتی درآمدی سہولت اور اس کے بعد اضافی ذخائر کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں کے درمیان گردش کرتی رہی ہے۔ یہ سلسلہ اس لیے جاری ہے کہ قیمتوں میں ہونے والی ہر تبدیلی کو مداخلت کی وجہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ خود یہی مداخلتیں ان قیمتوں کے اشاروں کو کمزور کردیتی ہیں جو رسد اور طلب کو دوبارہ توازن میں لانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
موجودہ فاضل ذخیرہ نسبتاً سازگار مارکیٹ کی صورتحال میں پالیسی کا رخ تبدیل کرنے کا ایک مفید موقع فراہم کرتا ہے۔ پیداوار مضبوط ہے، ذخائر وافر ہیں، قیمتیں نرم ہیں اور اگلا کرشنگ سیزن قریب آرہا ہے۔ اس لیے یہی وہ مناسب وقت ہے کہ کسی اور عارضی برآمدی اجازت پر مذاکرات کرنے کے بجائے صوابدیدی تجارتی کنٹرولز ختم کیے جائیں۔
مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ طے کیا جائے کہ اس سال کتنی چینی محفوظ طریقے سے برآمد کی جاسکتی ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مقام تک پہنچیں جہاں کسی کو چینی برآمد یا درآمد کرنے کے لیے اسلام آباد سے اجازت لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
























Comments