پنجاب میں پاکستان کا پہلا اے آئی انٹیلی جنس ہب قائم
- اے آئی انٹیلی جنس ہب سے دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے حکام کو واقعات پیش آنے سے قبل کارروائی میں مدد ملے گی، مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں اے آئی انٹیلی جنس ہب قائم کیا گیا ہے، جس سے دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے حکام کو واقعات پیش آنے سے قبل کارروائی میں مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ نے ہفتہ کو پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے دفتر میں اے آئی انٹیلی جنس ہب کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہیں منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ مریم نواز نے کہا کہ چند ماہ میں مصنوعی ذہانت کے تصور کو عملی شکل دینے میں پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے تعاون کیا۔
انہوں نے لاہور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ، صوبائی وزیر داخلہ خواجہ سلمان رفیق، ہوم سیکریٹری احمد جاوید قاضی اور دیگر حکام کی کاوشوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیکیورٹی اداروں نے مشکل حالات اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود عوام کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک یونٹ کے طور پر کام کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اے آئی انٹیلی جنس ہب کے قیام کے بعد ضلعی رابطہ کمیٹیوں کو ڈیجیٹل الرٹس موصول ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد تک کمی آئی ہے، تاہم ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس چوکیوں کو بلٹ پروف تحفظ، تھرمل امیجنگ اور نائٹ ویژن کیمروں سمیت جدید سہولیات سے لیس کیا گیا ہے، جس سے حملوں کی صورت میں جانی نقصان کا خطرہ کم ہوا ہے۔ کچے کے علاقوں میں بھی ریاستی رٹ قائم کر کے انہیں جرائم سے پاک علاقوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔
مریم نواز نے کرپشن کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی بدعنوانی پائی گئی، اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران نگرانی کے لیے باڈی کیمرے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ اے آئی انٹیلی جنس ہب دہشت گردی کے خلاف ردعمل کا وقت کم کرنے اور واقعات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنے میں نمایاں مدد دے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments