BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.06%)
KSE100 Decreased By (-0.52%)
KSE30 Decreased By (-0.48%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 24.98 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 30.15 Decreased By ▼ -0.20 (-0.66%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.50 Decreased By ▼ -3.95 (-2.05%)
FABL 93.77 Decreased By ▼ -0.37 (-0.39%)
FCCL 52.30 Decreased By ▼ -0.49 (-0.93%)
FFL 14.55 Decreased By ▼ -0.17 (-1.15%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.45 (-2.3%)
HBL 306.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.03%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.71 Decreased By ▼ -1.45 (-1.56%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.16 Decreased By ▼ -0.47 (-1.32%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.01 Decreased By ▼ -4.20 (-1.73%)
PPL 222.42 Decreased By ▼ -4.49 (-1.98%)
PRL 91.90 Decreased By ▼ -1.12 (-1.2%)
SNGP 90.90 Decreased By ▼ -0.94 (-1.02%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.54 (-2.27%)
TELE 7.65 Decreased By ▼ -0.15 (-1.92%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.35 (-2.7%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

حکومت اور جماعتِ اسلامی کا ریلیف اقدامات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق

  • حکومت پٹرولیم لیوی سے متعلق جماعتِ اسلامی کی تجاویز پر غور کرے گی، باضابطہ مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے، وفاقی وزیر احسن اقبال
شائع اپ ڈیٹ

حکومت اور جماعت اسلامی نے جمعرات کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تناظر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر غور کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دے چکی ہے اور جماعت اسلامی سے بھی اپنی ماہرین کی ٹیم بنانے کو کہا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور بجلی کی بلند قیمتوں کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ ہڑتال کو ملے جلے ردعمل کا سامنا رہا، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں مارکیٹیں اور دکانیں جزوی طور پر بند رہیں، جبکہ پنجاب اور بلوچستان میں کاروباری سرگرمیاں بڑی حد تک معمول کے مطابق جاری رہیں۔

احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور پنجاب کے وزیر خواجہ سلمان رفیق پر مشتمل حکومتی وفد نے لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں پارٹی قیادت سے مذاکرات کیے۔

جماعت اسلامی کے مذاکراتی وفد کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی، جس میں ڈپٹی سیکریٹری فراست شاہ، اسلام آباد کے امیر نصر اللہ رندھاوا، لاہور کے امیر ضیاء الدین انصاری اور نوید علی بیگ شامل تھے۔

ملاقات کے دوران جماعت اسلامی نے اپنے مطالبات پیش کیے، جن میں پٹرولیم لیوی کی واپسی، آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے معاہدے ختم کرنا اور بجلی کی قیمتوں میں کمی شامل ہیں۔

حکومتی وفد نے مطالبات کو جائز قرار دیا، تاہم مؤقف اختیار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا ہوگا۔

حکومت پٹرولیم لیوی سے متعلق جماعت اسلامی کی تجاویز پر غور کرے گی

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ مذاکرات وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی دونوں عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہتے ہیں، حکومت پٹرولیم لیوی سے متعلق جماعت اسلامی کی تجاویز سنے گی اور صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے جو بھی ممکنہ اقدامات ہوں گے، کیے جائیں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے اور تجویز دی ہے کہ جماعت اسلامی بھی ماہرین کی ٹیم تشکیل دے۔ دونوں کمیٹیاں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی حکمت عملی مشترکہ طور پر تیار کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کی تجاویز کا جائزہ لے گی اور عام شہریوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے جہاں ممکن ہوا ان پر عمل درآمد کی کوشش کرے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ پالیسی ریٹ، جو پہلے 23.5 فیصد تھا، اب کم ہوکر 11.5 فیصد ہوگیا ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والی معاشی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک گزشتہ چار سال کے دوران ایک تاریک دور سے گزرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی مرضی سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام میں شامل نہیں ہوئی بلکہ موجودہ حالات میں ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹ رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان باضابطہ مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی دونوں کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے ایسی تجاویز پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے جن سے صارفین پر بوجھ کم کیا جاسکتا ہے اور حکومت ان تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم کی ٹیمیں مل کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے طریقے تلاش کریں گی۔

انہوں نے ملکی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ نے بھی عام شہریوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے بجلی کے شعبے میں بہتری میں جماعت اسلامی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

مذاکرات کے دوران احتجاج جاری رہے گا، جماعت اسلامی

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومتی وفد کے ساتھ ملاقات مثبت ماحول میں ہوئی اور منصورہ آنے پر حکومتی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے 19 ویں روز میں داخل ہوگئے ہیں، جو ابتدا میں تین مقامات سے شروع ہوئے تھے اور اب 15 مقامات تک پھیل چکے ہیں۔

حافظ نعیم نے زور دیا کہ احتجاج کا مقصد کوئی ذاتی یا انتخابی ایجنڈا حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کے لیے ریلیف یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے زندگی مشکل بنا دی ہے۔ 40 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ 95 فیصد افراد بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چھ برس کے دوران غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مد میں 8 کھرب روپے سے زیادہ وصول کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ افراد بھی جو براہِ راست انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے، پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کی صورت میں بالواسطہ طور پر رقم ادا کر رہے ہیں، جبکہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں اور دیگر عام صارفین پر یہ بوجھ بلاجواز ہے۔

حافظ نعیم نے آئی پی پیز کو دی جانے والی کپیسٹی پیمنٹس پر بھی تنقید کی، جن میں پیدا نہ ہونے والی بجلی کی ادائیگیاں اور ری گیسیفکیشن پلانٹس سے متعلق کپیسٹی چارجز بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں حکومتی اخراجات کم کرکے مہنگائی میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

جماعت اسلامی کے مطالبات میں پٹرول سستا کرنا، آٹے کی قیمت کم کرنا اور بجلی کے نرخوں میں کمی شامل ہیں۔

حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت نے دھرنے مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم جماعت اسلامی نے واضح کردیا ہے کہ مذاکرات کے دوران بھی احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے جاری رہنے کی صورت میں مذاکرات زیادہ بامعنی ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی حکومت کو زندگی گزارنے کے اخراجات کم کرنے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے تفصیلی تجاویز پیش کرے گی۔

Comments

200 حروف