سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور، ایس ای سی پی کا ایک روز میں اکاؤنٹ کھولنے کا فیصلہ
- اقدام ایس ای سی پی کی ریٹیل سرمایہ کاری میں شمولیت بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں تیز اور آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک یکساں ڈیجیٹل سرمایہ کار آن بورڈنگ فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کے تحت بار بار کی جانے والی تصدیق کے عمل کو کم، دستاویزات کے طریقہ کار کو آسان اور سرمایہ کار اکاؤنٹس کھولنے کے لیے واضح مدت مقرر کی گئی ہے۔
جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس فریم ورک کا مقصد بالخصوص پہلی بار سرمایہ کاری کرنے والے اور ڈیجیٹل سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے جس کے تحت سہل/سہولت اکاؤنٹس ایک کاروباری دن جبکہ نارمل اکاؤنٹس دو کاروباری دن میں پراسیس کیے جائیں گے۔
درخواست گزاروں کو ٹریکنگ آئی ڈی فراہم کی جائے گی جبکہ کسی بھی کمی یا خامی کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر آگاہ کیا جائے گا اور درخواست مسترد کیے جانے کی وجوہات تحریری طور پر فراہم کی جائیں گی۔
بیان کے مطابق یہ اقدام ایس ای سی پی کی ریٹیل سرمایہ کاری میں شمولیت بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، بالخصوص نوجوان پاکستانیوں کی شرکت میں اضافہ کرنا اور ملک کی کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک پہنچانا اس کا مقصد ہے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین کبیر احمد سدھو نے کہا ہماری توجہ سرمایہ کاری کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان، تیز اور زیادہ قابلِ رسائی بنانے پر ہے۔ ہمارا مقصد بالخصوص نوجوانوں کی شرکت بڑھا کر اور زیادہ وسیع و جامع مارکیٹ تشکیل دے کر پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کی غیر استعمال شدہ نمایاں صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔
سرکلر نمبر 19 برائے 2026 کے ذریعے جاری کیے گئے اس فریم ورک کے تحت سیکیورٹیز بروکرز، اثاثہ جات مینجمنٹ کمپنیوں، انشورنس کمپنیوں اور دیگر ریگولیٹڈ مالیاتی اداروں کے لیے سرمایہ کاروں کو شامل کرنے کے تقاضوں کو یکساں بنایا گیا ہے جس سے ریگولیٹڈ مالی شعبے میں سرمایہ کاروں کو زیادہ یکساں تجربہ فراہم ہوگا۔
اس فریم ورک کی ایک اہم خصوصیت صارف کی بار بار تصدیق کے عمل کا خاتمہ ہے جہاں کسی مجاز ریگولیٹڈ مالی ادارے یا نامزد کردہ تیسرے فریق کی جانب سے مقررہ تصدیقی عمل پہلے ہی مکمل کیا جاچکا ہو، وہاں متعلقہ ادارے سرمایہ کار سے دوبارہ تصدیق کرانے کے بجائے اسی تصدیق پر انحصار کرسکیں گے۔
یہ فریم ورک اے پی آئی پر مبنی اسٹریٹ تھرو پروسیسنگ اور ڈیجیٹل آن بورڈنگ کی بھی سہولت فراہم کرتا ہے جس میں فوری یو آئی این جاری کرنے اور سی ڈی سی سب اکاؤنٹس کھولنے کی سہولت شامل ہے جس سے کاغذی کارروائی اور دستی مداخلت کم ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments