اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس میں 47.93 پوائنٹس کی کمی
- کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 177,322.77 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) جمعرات کو اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں تیزی کا رجحان رہا، بعدازاں دوسرے سیشن میں مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث تیزی کے اثرات زائل ہوگئے انڈیکس بالآخر منفی زون میں بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 178,500 کی سطح عبور کرتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح 178,650.01 پوائنٹس پر جاپہنچا۔ بعدازاں یہ تیزی برقرار نہ رکھ سکی۔
دوپہر کے سیشن میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس کے باعث انڈیکس 178,000 کی سطح کھو بیٹھا۔ کاروبار کے آخری گھنٹے میں نمایاں گراوٹ کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس دورانِ کاروبار کی کم ترین سطح 177,196.28 تک گر گیا، تاہم اختتام سے قبل معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 47.93 پوائنٹس یا 0.03 فیصد کی کمی سے 177,322.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی کاروباری اختتام کی رپورٹ میں کہا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس نے کاروبار کا آغاز مضبوط انداز میں کیا اور دورانِ کاروبار 1,279 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی نئی امیدوں سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ تاہم ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی اور کمپنیوں کے مالیاتی نتائج جاری ہونے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع کے حصول کے لیے حصص کی فروخت شروع کردی، جس سے انڈیکس کے اضافے میں کمی آگئی۔
رپورٹ کے مطابق حبیب کوٹھیرا پاور کمپنی، اینگرو ہولڈنگز، پاکستان آئل فیلڈز (پی او ایل)، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) نمایاں مثبت حصص رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 493 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
دوسری جانب نیشنل بینک آف پاکستان، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور پاکستان اسٹیٹ آئل نمایاں منفی حصص رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس سے تقریباً 470 پوائنٹس کم کیے۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار بند رہا۔
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئی جہاں بینکنگ اور سیمنٹ کے شعبوں کے حصص میں زبردست خریداری نے توانائی شعبے میں منتخب حصص میں منافع کے حصول کے رجحان کا اثر زائل کردیا جس کے باعث دن کے دوران اتار چڑھاؤ کے باوجود انڈیکس محدود دائرے میں رہا۔ 100انڈیکس 404.02 پوائنٹس یا 0.23 فیصد اضافے سے 177,370.71 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیا بحرالکاہل کے کاروباری سیشن کے آغاز پر اسٹاکس میں اضافہ ہوا کیونکہ این ویڈیا کی تازہ ترین مالی رپورٹ توقعات سے بہتر رہی جس سے ٹیکنالوجی ہارڈویئر تیار کرنے والی کمپنیوں کے حصص کو تقویت ملی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔ اس سے قبل رات جاری ہونے والے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا تھا کہ امریکی فیڈرل ریزرو کا ترجیحی افراطِ زر کا پیمانہ اب بھی بلند سطح پر ہے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے اسٹاکس کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا، توقع ہے کہ یہ مسلسل تیسرے روز بھی اضافے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ یہ پیشرفت این ویڈیا کی جانب سے سہ ماہی آمدن میں دوگنا سے زائد اضافے کی رپورٹ اور تیسری سہ ماہی کی آمدن وال اسٹریٹ کے اندازوں سے زیادہ رہنے کی پیش گوئی کے بعد سامنے آئی۔
اے آئی چِپ تیار کرنے والی کمپنی این ویڈیا کے حصص میں کاروباری اوقات کے بعد 4.7 فیصد اضافہ ہوا جس کے باعث ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.4 فیصد بہتری آئی۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.5 فیصد بڑھا تاہم ابتدائی تیزی میں کچھ کمی آئی جب بینک آف کوریا نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 3 فیصد کردیا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ توقعات کے عین مطابق تھا جہاں معمولی اکثریت شرح سود میں اضافے کی توقع کررہی تھی۔
تائیوان کے حصص میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نکی 225 انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
وال اسٹریٹ پر رات گئے اسٹاکس میں معمولی تیزی رہی تاہم ایس اینڈ پی 500 انڈیکس فلیٹ یعنی بغیر کسی نمایاں تبدیلی کے بند ہوا۔ اس دوران پرسنل کنزمپشن ایکسپنڈیچرز انڈیکس جولائی میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.2 فیصد بڑھا جبکہ اس سے ایک ماہ قبل اس میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافے کا سلسلہ برقرار رکھا۔ مقامی کرنسی 0.01 روپے کے اضافے کے ساتھ 277.51 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 644.84 ملین حصص کے مقابلے میں کم ہو کر 614.06 ملین حصص رہا۔
حصص کے کاروباری مالیت 31.36 ارب روپے سے بڑھ کر 34.55 ارب روپے ہوگئی۔
ایف۔ نیٹ ایکویٹیز 86.07 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، جبکہ سنرجیکو پی کے 49.23 ملین حصص اور تصدیق انفارمیشن 29.68 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔
جمعرات کو 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 191 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 279 میں کمی جبکہ 26 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

























Comments