صدر مملکت کا ایف بی آر کو اے ڈی آر سی کے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلے پر عملدرآمد کا حکم
- حکام کے مطابق ایسے تمام معاملات میں جہاں ایوانِ صدر ایف ٹی او کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے اور صدارتی حکم ایف بی آر کے خلاف آتا ہے، متعلقہ حکام عدالت سے رجوع کرتے ہیں
صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) دونوں کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (اے ڈی آر سی) کی جانب سے ٹیکس دہندہ کے حق میں دیے گئے فیصلے پر ایف بی آر عملدرآمد کرے۔
اس حوالے سے صدر مملکت نے ٹیکس دہندہ اور اے ڈی آر سی میکانزم کے حق میں فیصلہ جاری کیا۔ صدر کا حکم ایف ٹی او کے کیس نمبر 1499/2026 میں دیے گئے فیصلے کے نتیجے میں سامنے آیا، جس میں ایک کارپوریٹ ٹیکس دہندہ، جو ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن سیکٹر کے لیے آلات تیار کرتا ہے، نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات پر قائم کی گئی اے ڈی آر سی کو ایف بی آر کی جانب سے تحلیل کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔
حکام کے مطابق ایسے تمام معاملات میں جہاں ایوانِ صدر ایف ٹی او کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے اور صدارتی حکم ایف بی آر کے خلاف آتا ہے، متعلقہ حکام عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔
ٹیکس ماہر خرم شہزاد بٹ نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم اے ڈی آر سی نے 23 دسمبر 2025 کو کارروائی مکمل کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا اور متنازع بنیادی ٹیکس واجب الادا رقم ختم کردی۔ اس موقع پر چیف ٹیکس آفس (سی ٹی او) اسلام آباد کی مکمل محکمانہ ٹیم بھی موجود تھی۔
خرم شہزاد بٹ کے مطابق فیصلے کے نتیجے میں ایف بی آر کا مؤقف ناموافق ثابت ہونے کے بعد ہی سیکریٹری (سیلز ٹیکس آپریشنز) نے 12 جنوری 2026 کو کمیٹی تحلیل کردی اور مؤقف اختیار کیا کہ کمیٹی مقررہ قانونی مدت میں فیصلہ کرنے میں ناکام رہی۔ ٹیکس دہندہ کو اس اقدام سے قبل کوئی نوٹس یا سماعت کا موقع نہیں دیا گیا۔
ایف ٹی او کے 20 فروری 2026 کے ابتدائی حکم میں اے ڈی آر سی کے 23 دسمبر 2025 کے فیصلے کی قانونی حیثیت پر براہِ راست فیصلہ دینے یا اس پر عملدرآمد کی ہدایت کرنے کے بجائے ایف بی آر کو نئی اے ڈی آر سی تشکیل دینے اور ادارہ جاتی حفاظتی اقدامات وضع کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ٹیکس دہندہ نے نظرثانی کی درخواست دائر کی، تاہم ایف ٹی او نے 6 اپریل 2026 کو اسے ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر پہلے ہی ایک الگ درخواست کے ذریعے صدر مملکت سے رجوع کرچکا ہے، جسے بعد میں آزادانہ طور پر مسترد کردیا گیا۔
بعد ازاں ٹیکس دہندہ نے اپنی درخواست صدر مملکت کے سامنے پیش کرتے ہوئے ایف ٹی او کے احکامات کالعدم قرار دینے، اے ڈی آر سی کی تحلیل کو بدانتظامی قرار دینے اور 23 دسمبر 2025 کے اے ڈی آر سی فیصلے پر عملدرآمد کی استدعا کی۔
6 اگست 2026 کو فریقین کی موجودگی میں ہونے والی سماعت کے دوران صدر مملکت نے قرار دیا کہ چونکہ ایف بی آر کی جانب سے ایف ٹی او کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پہلے ہی مسترد ہوچکی ہے، اس لیے اس کا فطری نتیجہ یہی ہے کہ اے ڈی آر سی کا فیصلہ برقرار رہے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ایف بی آر نے اے ڈی آر سی کے فیصلے کو باضابطہ طور پر کبھی چیلنج نہیں کیا، جبکہ کارروائی دونوں فریقوں کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ کسی ایسے فورم کی جانب سے معاملے کا فیصلہ کیے جانے کے بعد فریقین میں سے کسی ایک کے لیے اس فیصلے سے راہِ فرار اختیار کرنا ممکن نہیں۔
چنانچہ صدر مملکت نے ٹیکس دہندہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایف بی آر کو 23 دسمبر 2025 کے اے ڈی آر سی فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت کردی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی اہمیت صرف متعلقہ ٹیکس تنازع تک محدود نہیں۔ صدر مملکت کے حکم سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت قائم اے ڈی آر سی کو فیصلہ سنانے کے بعد ماضی سے مؤثر انداز میں تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔ ماہرین کے مطابق یہ اصول اے ڈی آر سی میکانزم کو ٹیکس دہندگان کے لیے ایک غیر جانب دار، بروقت اور طویل ٹیکس مقدمات کے متبادل کے طور پر قابلِ اعتماد رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments