کسٹمز مقدمات، ایف بی آر نے آزادانہ جانچ پڑتال کا نظام متعارف کرا دیا
- ایف بی آر نے نوٹیفکیشن کے ذریعے نئے قواعد کو کسٹمز رولز 2001 میں شامل کردیا ہے، جن کا فوری طور پر اطلاق ہوگیا ہے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز سے متعلق مقدمات ہائی کورٹس، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں لے جانے سے قبل ان کی آزادانہ جانچ پڑتال کے لیے نیا ادارہ جاتی نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقدمات کے معیار کو بہتر بنانا، قانونی فیصلوں میں یکسانیت پیدا کرنا اور غیر ضروری یا کمزور مقدمات کے اندراج میں کمی لانا ہے۔
ایف بی آر نے نوٹیفکیشن کے ذریعے نئے قواعد کو کسٹمز رولز 2001 میں شامل کردیا ہے، جن کا فوری طور پر اطلاق ہوگیا ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت بورڈ مخصوص علاقائی دائرہ اختیار رکھنے والی آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹیاں تشکیل دے گا۔ متعلقہ کسٹمز فیلڈ فارمیشن کو ہائی کورٹ میں ریفرنس یا سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کرنے سے پہلے مقدمہ متعلقہ کمیٹی کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
نئے قواعد کے تحت چار کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو مختلف جغرافیائی علاقوں کا احاطہ کریں گی۔ کمیٹی نمبر 1 اسلام آباد، گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں سے متعلق کسٹمز فارمیشنز کا جائزہ لے گی، جبکہ کمیٹی نمبر 2 پشاور اور ملحقہ علاقوں کے معاملات دیکھے گی۔
کمیٹی نمبر 3 جنوبی پنجاب سمیت لاہور، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان کی کسٹمز فارمیشنز کا احاطہ کرے گی، جبکہ کمیٹی نمبر 4 کراچی، کوئٹہ، گوادر، تفتان، حیدرآباد اور گڈانی سمیت جنوبی کسٹمز فارمیشنز کے مقدمات کی جانچ کرے گی۔
ہر کمیٹی کے سربراہ سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت یا کسی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہوں گے۔ کمیٹی میں کم از کم 15 سالہ کسٹمز، ٹیکس اور تجارتی مقدمات کا تجربہ رکھنے والا وکیل اور پاکستان کسٹمز سروس کا گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسر بھی شامل ہوگا۔
قواعد کے مطابق متعلقہ کمیٹی کی سفارش ریکارڈ پر موجود ہوئے بغیر کوئی ریفرنس یا درخواست دائر نہیں کی جاسکے گی۔ کمیٹیاں نئے مقدمات کی جانچ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کا بھی جائزہ لیں گی اور غیر ضروری مقدمات واپس لینے کی سفارش کرسکیں گی۔ اس کے علاوہ طے شدہ قانونی معاملات اور عدالتی نظائر کا ڈیٹا بیس بھی برقرار رکھا جائے گا۔
مقدمات کی ریفرل اور کارروائی پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کے مخصوص پورٹل یا ویبوک میں ترمیم کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر کی جائے گی۔ کمیٹی کو کیس موصول ہونے کے 15 دن کے اندر سفارش دینا ہوگی، جبکہ چیئرپرسن مزید 10 دن کی توسیع دے سکتے ہیں۔ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں، دیگر قانونی تقاضے پورے ہونے سے مشروط، مقدمہ دائر کرنے کے لیے کلیئر تصور کیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments