پاکستان اور مصر کا زرعی تعاون بڑھانے، کپاس پر توجہ دینے پر اتفاق
- وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مصر کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور جدید زراعت میں اس کی مہارت کو سراہتا ہے
پاکستان اور مصر نے زراعت، غذائی تحفظ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار اور معیار بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے پیر کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور پاکستان میں مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن کے درمیان ملاقات میں ہوا۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق ملاقات میں زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رانا تنویر نے کہا کہ پاکستان مصر کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جدید زراعت، آبی وسائل کے انتظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کاشت کاری اور زرعی ٹیکنالوجی میں مصر کی مہارت کو سراہتا ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان میں کپاس کی پیداوار بڑھانے اور معیار بہتر بنانے کے لیے مصر سے تکنیکی معاونت اور مہارت فراہم کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی مختلف اقسام، معیاری بیج، فصلوں کے انتظام اور ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے مصر کا تجربہ پاکستان کے کپاس کے شعبے کے لیے نمایاں طور پر مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے زرعی تحقیقی اداروں کے درمیان ماہرین کے تبادلے، مشترکہ تحقیق و تجربات، استعداد کار میں اضافے اور بہترین طریقہ ہائے کار کے تبادلے کے ذریعے تعاون بڑھانے کی تجویز بھی دی۔
ملاقات میں پانی کی بچت والی آبپاشی، بیجوں کی تیاری، بایوٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، زرعی مشینری، لائیو اسٹاک، باغبانی اور زرعی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بھی غور کیا گیا۔
رانا تنویر نے کہا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی، معیاری زرعی مداخل اور تحقیق و توسیعی خدمات کے درمیان بہتر روابط کے ذریعے زرعی پیداوار بڑھانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے پر توجہ دے رہی ہے۔
مصری سفیر نے پاکستان کے ساتھ زرعی تعاون مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنے ملک کی آمادگی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ متعلقہ مصری اداروں کو باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
ڈاکٹر حسن نے کپاس کی پیداوار، آبپاشی اور زرعی تحقیق، خصوصاً پانی کی قلت اور خشک سالی والے علاقوں میں کاشت کاری کے حوالے سے مصر کے تجربے کو اجاگر کیا اور دونوں ممالک کے ماہرین اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کا خیرمقدم کیا۔
دونوں فریقوں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور تعاون کے ایسے ٹھوس شعبوں کی نشاندہی کرنے پر اتفاق کیا جن سے دونوں ممالک کے کسانوں، زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کو عملی فوائد حاصل ہوسکیں۔
مصر اور پاکستان اس سے قبل بھی غذائی تحفظ، آبی وسائل کے انتظام، خشک علاقوں میں کاشت کاری، بیجوں کی تیاری، ڈرِپ آبپاشی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔
























Comments