پی پی ایل نے گیس اور کنڈینسیٹ کے ذخائر دریافت کرلیے
- ڈولفن ایکس ون کی کھدائی 17 اپریل 2026 کو ایکسپلوریشن کنویں کے طور پر شروع کی گئی
آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل ) نے سندھ کے ضلع سجاول میں ڈولفن ایکس-ون ایکسپلوریشن کنویں سے گیس دریافت کرلی۔
ملک میں قدرتی گیس کے ایک اہم سپلائر (ای اینڈ پی) نے پیر کو اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔
نوٹس میں بتایا گیا کہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سرانی ایکسپلوریشن لائسنس کی آپریٹر پی پی ایل جو 75 فیصد ورکنگ انٹرسٹ (ڈبلیو آئی) کی حامل ہے نے اپنے جوائنٹ وینچر پارٹنر گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے ساتھ مل کر سندھ کے ضلع سجاول میں واقع اپنے ایکسپلوریشن کنویں ڈالفن ایکس ون سے گیس دریافت کر لی ہے۔
پی پی ایل نے کہا کہ اس دریافت سے پیٹرولیم سسٹم کی موجودگی ثابت ہوگئی ہے اور اس سے خشکی کے دلدلی علاقے اور اس کے ممکنہ کم گہرے سمندری توسیعی علاقوں میں ایک نئی ایکسپلوریشن فرنٹیئر کھل گئی ہے۔
پی پی ایل نے بتایا کہ ڈولفن ایکس ون کی کھدائی 17 اپریل 2026 کو ایکسپلوریشن کنویں کے طور پر شروع کی گئی تھی۔
چلتن فارمیشن کے ہائیڈرو کاربن پوٹینشل کی جانچ کے لیے کنویں کی کھدائی 3,850 میٹر ایم ڈی تک کی گئی۔ ڈرلنگ کے نتائج اور اوپن ہول لاگ ڈیٹا کی بنیاد پر ہائیڈروکاربن والے حصوں کی نشاندہی کی گئی۔
چلتن فارمیشن کے ایسڈ ٹیسٹ کے بعد تقریباً 1,000 بی ٹی یو فی اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ کی حرارتی قدر رکھنے والی معیاری گیس 0.942 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ کی شرح سے خارج ہوئی جبکہ 32/64 انچ چوک پر کنویں کے سرے پر گیس کا بہاؤ کا دباؤ 211 پی ایس آئی جی ریکارڈ کیا گیا۔
پی پی ایل نے کہا کہ مذکورہ فارمیشن کے ایسڈ ٹیسٹ سے قبل بھی کنڈینسیٹ ابتدائی طور پر 94 بیرل یومیہ کی شرح سے سطح پر آیا جو 24 گھنٹوں کے اندر کم ہو کر 46 بیرل یومیہ رہ گیا۔
کمپنی نے بتایا کہ بعد ازاں ایسڈ ٹیسٹ کے دوران کنڈینسیٹ نہیں دیکھا گیا۔ تاہم ابتدائی طور پر کنڈینسیٹ کا ملنا چلتن فارمیشن میں ہائیڈروکاربن کے امکانات کا حوصلہ افزا اشارہ ہے جس سے مزید ایکسپلوریشن اور جائزے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے ایک نوٹ میں کہا کہ اس دریافت سے پی پی ایل کی فی حصص سالانہ آمدن میں تقریباً 0.09 روپے کا اضافہ متوقع ہے۔
























Comments