ایران کا قطر سے جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے پائلٹوں کی رہائی کا مطالبہ
- ایرانی فوج نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے قطر میں العدید ایئر بیس پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے ایرانی پائلٹ کی لاش برآمد کر لی ہے
ایرانی حکام نے ہفتے کے روز جنگ کے دوران قطر میں گرفتار کیے گئے تین پائلٹوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے جنرل محمد باقرزادہ نے خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق کہا، ’’جنگ کے دوران تین ایرانی پائلٹوں کے ایس یو-24 جنگی طیارے گر کر تباہ ہونے کے بعد قطری فورسز نے انہیں زندہ گرفتار کرلیا تھا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہراویشیان گزشتہ چھ ماہ سے قطری فورسز کی حراست میں ہیں۔
باقرزادہ نے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کو لکھے گئے خط میں تینوں پائلٹوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات یا رابطے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
گزشتہ ماہ ایرانی فوج نے کہا تھا کہ اس نے ایرانی پائلٹ مجید کاظمی کی لاش برآمد کرلی ہے، جو مارچ کے اوائل میں قطر کے العدید ایئر بیس پر ہونے والے حملے میں مارے گئے تھے۔
ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ دیگر پائلٹ لاپتا ہیں، تاہم اس وقت ان کی مبینہ گرفتاری کی خبر منظرِ عام پر نہیں لائی گئی تھی۔
قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے فارورڈ عناصر کے علاوہ اس کی فضائی اور اسپیشل آپریشنز فورسز بھی موجود ہیں۔ یہ خطے میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا آغاز 28 فروری کو ہوا، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے خطے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اپریل میں جنگ بندی ہوئی، جس سے تقریباً 40 روزہ لڑائی کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد جون میں امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک طے پایا، تاہم بعد میں یہ عمل بھی ناکام ہوگیا۔
اس کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، جن کا زیادہ تر مرکز جنوبی ایران اور تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کے اطراف رہا ہے۔
جولائی کے اواخر سے لڑائی میں نسبتاً وقفہ برقرار ہے۔




















Comments