BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Increased By (0.08%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.2%)
BAFL 57.72 Decreased By ▼ -0.44 (-0.76%)
BIPL 27.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 34.58 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
CNERGY 13.68 Increased By ▲ 0.57 (4.35%)
DFML 18.42 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
DGKC 215.81 Increased By ▲ 2.15 (1.01%)
FABL 99.27 Decreased By ▼ -0.29 (-0.29%)
FCCL 57.55 Decreased By ▼ -0.51 (-0.88%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.27 (1.66%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
HBL 334.31 Decreased By ▼ -3.85 (-1.14%)
HUBC 212.96 Decreased By ▼ -0.40 (-0.19%)
HUMNL 10.51 Decreased By ▼ -0.07 (-0.66%)
KEL 7.36 Decreased By ▼ -0.07 (-0.94%)
LOTCHEM 27.51 Decreased By ▼ -0.16 (-0.58%)
MLCF 101.93 Decreased By ▼ -0.82 (-0.8%)
OGDC 318.48 Decreased By ▼ -0.44 (-0.14%)
PAEL 42.86 Decreased By ▼ -0.24 (-0.56%)
PIBTL 16.72 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 274.51 Increased By ▲ 1.51 (0.55%)
PPL 230.62 Increased By ▲ 1.17 (0.51%)
PRL 76.73 Increased By ▲ 5.93 (8.38%)
SNGP 102.23 Decreased By ▼ -2.35 (-2.25%)
SSGC 27.10 Decreased By ▼ -0.31 (-1.13%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
TPLP 15.45 Decreased By ▼ -0.31 (-1.97%)
TRG 60.09 Decreased By ▼ -0.20 (-0.33%)
UNITY 11.47 Decreased By ▼ -0.25 (-2.13%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)
دنیا

طالبان حکومت کے افغانستان پر حکمرانی کے 5 سال مکمل

  • طالبان نے افغانستان بھر میں برق رفتاری سے پیش قدمی کے بعد 15 اگست 2021 کو بغیر کسی مزاحمت کے کابل پر قبضہ کرلیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

طالبان حکومت نے ہفتے کے روز افغانستان پر حکمرانی کے پانچ سال مکمل ہونے کا جشن منایا، جس پر حامیوں نے سڑکوں کا رخ کیا، جبکہ ناقدین نے روزمرہ زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔

کابل میں افغان شہری پرچموں سے سجی گاڑیوں میں سوار ہوکر شہر کی سڑکوں پر گھومتے رہے۔ حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس دن کو ’’افغانستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جانے والا دن‘‘ قرار دیا۔

سابق امریکی سفارتخانے کے قریب ایک چوک میں سیکڑوں افراد جمع ہوئے، جبکہ فوجی ہیلی کاپٹروں سے پھولوں کی پتیاں ایتھلیٹس کی ایک پریڈ پر نچھاور کی گئیں۔ پریڈ میں صرف مرد ایتھلیٹس شامل تھے کیونکہ افغانستان میں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔

طالبان جنگجوؤں نے افغانستان بھر میں برق رفتاری سے پیش قدمی کے بعد 15 اگست 2021 کو بغیر کسی مزاحمت کے کابل پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی فورسز کا خاتمہ ہوگیا اور یہ سب امریکا کی قیادت میں غیرملکی افواج کے افراتفری میں ہونے والے انخلا کے بعد ہوا۔

ہفتے کے روز دارالحکومت میں سکیورٹی چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی، جبکہ غیرملکی افواج کی جانب سے چھوڑے گئے بعض فوجی دستے، جن میں ہَم وی گاڑیاں بھی شامل تھیں، قافلوں کی صورت میں سڑکوں پر لائے گئے۔

اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق جنوبی شہر قندھار، جہاں طالبان کے سپریم لیڈر مقیم ہیں، اور مغربی شہر ہرات سمیت دیگر اہم شہروں میں بھی شہریوں نے ریلیاں نکالیں۔ ہرات میں سڑکوں پر کرتب دکھانے والے فنکاروں نے مختلف مظاہرے کیے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ضیا احمد تکل نے دیگر ممالک کو افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں آئیں، سرمایہ کاری کریں اور دستیاب معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔‘‘

گزشتہ تین برس کے دوران پڑوسی ممالک ایران اور پاکستان سے 60 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی واپسی کے باعث فی کس مجموعی ملکی پیداوار میں کمی آئی ہے، تاہم عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی حقیقی معاشی شرح نمو 4.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

’’انتہائی شدید غم‘‘

اگرچہ طالبان حکام نے یورپ سمیت متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں، تاہم ان کی حکومت کو اب تک صرف روس نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

پڑوسی پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی انتہائی خراب ہوچکے ہیں اور دونوں ممالک رواں سال جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔

کچھ ممالک نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور افغانستان میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق عوام کو ’’حقیقی اور سنگین نقصان‘‘ کا سامنا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی انسانی حقوق ڈائریکٹر فیونا فریزر نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان عوام نے ’’دم گھونٹ دینے والی پابندیوں کے مسلسل پھیلاؤ‘‘ کو برداشت کیا ہے، جنہوں نے ان کی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو اور انسانی حقوق کو متاثر کیا ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے حکام کی جانب سے ’’صحافت پر وحشیانہ کریک ڈاؤن‘‘ کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں میڈیا کارکنوں کو نگرانی، گرفتاری، تشدد اور سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑا یا انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

طالبان حکومت کے اقدامات سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ انہیں پارکس سمیت متعدد عوامی مقامات اور بیشتر ملازمتوں سے دور کردیا گیا ہے، جبکہ 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے۔

کابل میں رہنے والی ایک خاتون، جن کا کہنا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل ان کے شوہر کو طالبان جنگجوؤں نے قتل کردیا تھا، نے ہفتے کے روز بتایا کہ انہیں شدید سردرد کا سامنا تھا۔

35 سالہ خاتون نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہر سال یہ ماہ اور تاریخ آتے ہی مجھ پر ایک گہرا غم طاری ہوجاتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’جب تک وہ اقتدار میں ہیں، میں سوگ مناتی رہوں گی۔‘‘

Comments

200 حروف