باب المندب اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت بدستور محدود
- شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق پیر کو باب المندب آبنائے سے 20 بحری جہاز گزرے
اہم خلیجی آبی گزرگاہوں باب المندب اور آبنائے ہرمز میں ہفتے کے آغاز پر بحری جہازوں کی آمدورفت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھی گئی، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت تاحال غیر واضح ہے۔
شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق پیر کو باب المندب آبنائے سے 20 بحری جہاز گزرے، جن میں 12 آئل ٹینکرز اور 8 بلک کیریئرز شامل تھے۔ یہ تعداد گزشتہ روز کے مقابلے میں تقریباً مستحکم رہی۔
ان 20 جہازوں میں سے 12 روانگیاں اور 8 آمدورفت ریکارڈ کی گئیں، جبکہ زیادہ تر جہازوں کے ٹرانسپونڈرز فعال تھے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے حوالے سے صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کسی ملاقات کا شیڈول طے ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران پر نئے حملے مؤخر کرنے کا کہا تھا تاکہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق معاملات پر بات چیت جاری رہ سکے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں سست رہیں۔ کپلر کے مطابق پیر کو صرف 6 جہاز اس راستے سے گزرے، جن میں 3 ٹینکرز اور 3 بلک کیریئرز شامل تھے، جبکہ گزشتہ روز یہ تعداد 7 تھی۔
جہازوں پر حملوں کے خدشات کے باعث بحری کمپنیوں میں احتیاط برقرار ہے، جبکہ حوثی خطرات کے پیش نظر کچھ سعودی پرچم بردار آئل ٹینکرز نے خلیج عدن میں اپنا راستہ تبدیل کر کے جنوبی افریقہ کی جانب رخ کر لیا ہے۔























Comments