تھکا دینے والے تنازعات کی عالمی سیاست
- مسلم دنیا کو رقابت کے بجائے تعاون اور خود انحصاری اپنانا ہوگی، ورنہ چھوٹے ممالک عالمی طاقتوں کے مفادات کی شطرنج کے مہرے ہی رہیں گے
”قرض بدترین غربت ہے“
(تھامس فلر)
پاکستان نے امریکی خزانے سے 10 ارب ڈالر کے دو طرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلیٹی کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ روایت سے ہٹ کر اس سہولت کا مقصد پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو استحکام دینا اور بیرونی دباؤ کے دوران روپے کی قدر کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ درخواست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ کے ایک بتدریج خطرناک ہوتے بحران کے دوران خاموشی سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کر رہا تھا۔ کیا ان دونوں پیش رفتوں کا اپس میں براہ راست تعلق ہے؟ یہ بات بحث طلب ہو سکتی ہے لیکن جس بات میں کوئی شک نہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی کمزوری اس کی سفارتی لچک اور آزادی کو مسلسل محدود کر رہی ہے۔
جدید میدانِ جنگ اب محض سپاہیوں، ٹینکوں اور طیاروں تک محدود نہیں رہا جاسکتا بلکہ اس کا دائرہ اب بندرگاہوں، تیل کی تنصیبات، سمندری گزرگاہوں، مالیاتی منڈیوں اور کرنسیوں تک پھیل چکا ہے۔ جنگیں اب فوجی طاقت کے بجائے معاشی طور پر کمزور اور مفلوج کرنے کی حکمتِ عملی سے لڑی جا رہی ہیں۔ قوموں کو شکست دینے سے پہلے ہی تھکایا اور بیزار کیا جا سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی کشیدگی اس تبدیلی کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ ہر نیا محاذ میدانِ جنگ سے کہیں دور تک اثرات مرتب کرتا ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کی آبنائے کے گرد جاری عدم استحکام، جس میں یمن کی حوثی تحریک کے تجارتی جہاز رانی پر حملے بھی شامل ہیں، نے ایک بار پھر دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں کی نازک صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان پانیوں سے گزرنے والے ائل ٹینکرز کو اب زائد انشورنس پریمیم، بڑھتے ہوئے مال برداری کے اخراجات اور سیکیورٹی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ کسی بھی قسم کا تلاطم بالاخر توانائی کی بلند قیمتوں، افراطِ زر اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھاری درامدی بلوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، جو پہلے ہی اپنی بیرونی مالیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہیں عالمی جغرافیائی صورتحال اور معیشت کا بے رحم ملاپ ہوتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ پاکستان کے محدود زرِ مبادلہ کے ذخائر کو نچوڑ دیتا ہے۔ درامد شدہ ایندھن پر خرچ ہونے والا ہر ڈالر ترقی، تعلیم یا صحت کے شعبے سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔ ملک کو محض اپنی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے مزید بیرونی قرضے لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس طرح مالیاتی انحصار بتدریج اسٹریٹجک انحصار میں بدل جاتا ہے۔یہ خطرہ محض معیشت تک محدود نہیں ہے۔ اگر عسکری کارروائیاں مزید پھیلتی ہیں اور ایران خود کو شدید عسکری و معاشی دباؤ میں پاتا ہے تو وہ غیر متوقع اور غیر روایتی طریقوں سے جوابی کارروائی کی کوشش کر سکتا ہے۔ خلیج کے خطے میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، بحری راستے اور لوجسٹک مراکز آسان ہدف بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کو شدید دباؤ میں ڈال دے گی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دے گی۔ کوئی بھی دانشمند مشاہدہ کار ایسے نتیجے کی خواہش نہیں کرے گا لیکن اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان خود کو ناگزیر طور پر ایک غیر آرام دہ اور مشکل صورتحال میں پائے گا۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے تاریخی، معاشی اور سیکیورٹی تعلقات ہیں جبکہ ایران کے ساتھ اس کی ایک طویل اور حساس سرحد ملتی ہے۔ اسلام آباد نے ہمیشہ دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم طویل کشیدگی اس توازن کو برقرار رکھنا مزید دشوار بنا سکتی ہے۔ معاشی طور پر کمزور ملک کے لیے یہ ایک ایسا اسٹریٹجک امتحان ہے جو اس سے کہیں زیادہ عوام کی توجہ کا مستحق ہے جتنی کہ فی الوقت اسے حاصل ہے۔تاریخ ایک سبق آموز درس دیتی ہے۔ بڑی طاقتوں کے پاس اکثر جغرافیائی فاصلے کی سہولت ہوتی ہے لیکن علاقائی طاقتوں کے پاس یہ آسائش نہیں ہوتی۔ وہ تباہی کو برداشت کرتی ہیں، جانی نقصان کا حساب رکھتی ہیں، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرتی ہیں اور بندوقوں کے خاموش ہو جانے کے بعد بھی طویل عرصے تک قرضوں کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ بیرونی طاقتیں مالیاتی اداروں، ریزرو کرنسیوں اور سفارتی اثر و رسوخ کے ذریعے واقعات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ تنازعے کا شکار خطے کے ممالک اپنے وسائل ایک دوسرے کے خلاف خرچ کرکے خود کو تھکا دیتے ہیں۔
میری نظر میں یہی تھکاوٹ اور بیزاری کی حقیقی جیو پولیٹکس ہے۔ اس کا مقصد لازمی طور پر علاقائی حدود کو فتح کرنا نہیں ہوتا، بلکہ حریف ریاستوں کو معاشی، عسکری اور سیاسی طور پر اس حد تک کمزور ہونے دینا ہوتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اقدام کرنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو جائیں۔آج مسلم دنیا کی سب سے بڑی کمزوری وسائل کی عدم دستیابی نہیں ہے بلکہ اسٹریٹجک اتحاد کا نہ ہونا ہے۔ مجموعی طور پر مسلم ممالک کے پاس توانائی کے بہت بڑے ذخائر، بے شمار قومی سرمایہ (سوویرن ویلتھ)، اہم اسٹریٹجک جغرافیہ اور تقریباً دو ارب کی آبادی موجود ہے۔ اس کے باوجود وہ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں جبکہ بیرونی طاقتیں اپنے فائدے کے لیے اسٹریٹجک ماحول کو ڈھال رہی ہیں۔ تقسیم ہو کر وہ ہیرا پھیری کا آسان شکار بن جاتے ہیں، لیکن اگر وہ متحد ہو جائیں تو اپنی تقدیر پر کہیں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت کے طور پر ایک منفرد مقام رکھتا ہے لیکن اسٹریٹجک طاقت صرف عسکری صلاحیت پر قائم نہیں رہ سکتی، معاشی استحکام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر امیر مسلم ممالک پاکستان، ترکیہ اور دیگر ذمہ دار علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر معاشی تعاون کو مضبوط بنائیں، مالیاتی بحرانوں کے دوران ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنی سفارتی کوششوں میں ہم آہنگی لائیں تو یہ خطہ بیرونی دباؤ کا شکار ہونے سے کافی حد تک محفوظ ہو جائے گا۔ اس طرح کا تعاون کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ اس کا مقصد علاقائی استحکام، اسٹریٹجک خود مختاری اور دیرپا امن کا قیام ہوگا۔پاکستان کے حالات کا زندگی بھر مشاہدہ کرنے کے بعد مجھے ڈر ہے کہ ہمارا سب سے بڑا خطرہ کسی ایک جنگ میں نہیں، بلکہ ہماری معاشی خود مختاری کے بتدریج ختم ہونے میں پنہاں ہے۔ قومیں شاذ و نادر ہی راتوں رات تباہ ہوتی ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ ایک ایک سمجھوتے کے ساتھ زوال پذیر ہوتی ہیں، یہاں تک کہ ان کے انتخاب ان کی مجبوریاں بن جاتے ہیں اور پالیسیاں کہیں اور سے تیار شدہ ہدایات بن جاتی ہیں۔
لہٰذا مسلم دنیا کے سامنے راستہ بالکل واضح ہے وہ یا تو رقابت، شک و شبہات اور باہمی تھکاوٹ کے راستے پر چلتی رہے اور دوسروں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دے یا پھر وہ تعاون، احترام اور اجتماعی خود انحصاری کی حکمت کا دامن دوبارہ تھام لے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، چھوٹے ممالک کو کسی اور کے شطرنج کے کھیل میں محض استعمال کے لیے مہرے سمجھا جاتا رہے گا، جن کی اہمیت صرف اس وقت تک ہوگی جب تک وہ اپنا مقصد پورا کرتے رہیں۔یہ ہمارے دور کا حقیقی المیہ ہے اور یہی تھکا دینے والی عالمی سیاست کی اصل حقیقت بھی ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026






















Comments