BR100 Increased By (5%)
BR30 Increased By (5.87%)
KSE100 Increased By (4.23%)
KSE30 Increased By (4.7%)
BAFL 57.44 Increased By ▲ 1.94 (3.5%)
BIPL 27.30 Increased By ▲ 0.40 (1.49%)
BOP 33.85 Increased By ▲ 1.21 (3.71%)
CNERGY 10.68 Increased By ▲ 0.39 (3.79%)
DFML 18.19 Increased By ▲ 0.38 (2.13%)
DGKC 207.20 Increased By ▲ 12.02 (6.16%)
FABL 100.30 Increased By ▲ 1.62 (1.64%)
FCCL 54.33 Increased By ▲ 2.59 (5.01%)
FFL 17.00 Increased By ▲ 0.51 (3.09%)
GGL 25.35 Increased By ▲ 0.29 (1.16%)
HBL 301.26 Increased By ▲ 9.26 (3.17%)
HUBC 221.43 Increased By ▲ 7.46 (3.49%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.27 (2.58%)
KEL 7.41 Increased By ▲ 0.27 (3.78%)
LOTCHEM 27.21 Increased By ▲ 0.40 (1.49%)
MLCF 93.10 Increased By ▲ 4.93 (5.59%)
OGDC 320.50 Increased By ▲ 10.12 (3.26%)
PAEL 42.61 Increased By ▲ 1.76 (4.31%)
PIBTL 16.50 Increased By ▲ 0.65 (4.1%)
PIOC 290.00 Increased By ▲ 6.31 (2.22%)
PPL 219.00 Increased By ▲ 7.90 (3.74%)
PRL 54.69 Increased By ▲ 1.55 (2.92%)
SNGP 103.35 Increased By ▲ 5.10 (5.19%)
SSGC 25.83 Increased By ▲ 0.98 (3.94%)
TELE 8.49 Increased By ▲ 0.20 (2.41%)
TPLP 13.35 Increased By ▲ 0.38 (2.93%)
TRG 60.10 Increased By ▲ 1.13 (1.92%)
UNITY 10.15 Increased By ▲ 0.27 (2.73%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
کاروبار اور معیشت

جولائی میں مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آنے کا امکان

  • مہنگائی کا سنگل ڈیجٹ میں واپس آنا حقیقی بہتری کے بجائے بڑی حد تک بیس ایفیکٹس کی وجہ سے ہوگا، بروکریج ہاؤسز
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں مہنگائی جولائی میں دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آنے کی توقع ہے جو مسلسل تین ماہ تک دو ہندسوں میں رہنے کے بعد ممکن ہوگی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں یہ کمی بڑی حد تک سازگار بیِس ایفیکٹس کی وجہ سے ہے جبکہ بنیادی قیمتوں کا دباؤ بدستور موجود ہے۔

بروکریج ہاؤسز کے تخمینوں کے مطابق جولائی میں ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انفلیشن (سی پی آئی) سالانہ بنیادوں پر 9 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے جبکہ جون میں یہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے جولائی میں ہیڈ لائن مہنگائی کی شرح 9.3 فیصد سالانہ رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا سنگل ڈیجٹ میں واپس آنا حقیقی بہتری کے بجائے بڑی حد تک بیس ایفیکٹس کی وجہ سے ہوگا۔

ماہانہ بنیادوں پر اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں 1.3 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی ہے جس کے مطابق یہ اضافہ تقریباً مکمل طور پر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوگا۔ ادارے کے مطابق فوڈ انڈیکس میں ماہانہ بنیادوں پر 4 فیصد اضافہ متوقع ہے جس کی بڑی وجوہات ٹماٹر، آلو، پیاز، تازہ سبزیاں، مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوں گی جبکہ گندم اور گندم کے آٹے کی قیمتوں میں بھی ماہانہ بنیادوں پر تقریباً 5.7 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

اس کے برعکس ٹرانسپورٹ کے شعنے میں ماہانہ بنیادوں پر 3.4 فیصد کمی متوقع ہے جس کی وجہ موٹر ایندھن کی قیمتوں میں 7.4 فیصد کمی ہوگی جبکہ بجلی اور ایل پی جی کے نرخوں میں کمی کے باعث ہاؤسنگ میں بھی 0.4 فیصد کمی کا امکان ہے۔

تاہم بروکریج ہاؤس کا کہنا ہے کہ نان فوڈ، نان انرجی (این ایف این ای) بنیادی مہنگائی جولائی میں معمولی اضافے کے ساتھ 8.5 فیصد سالانہ رہنے کی توقع ہے جو جون میں 8.4 فیصد اور گزشتہ سال اسی عرصے میں 7.6 فیصد تھی۔ ادارے کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیڈ لائن مہنگائی میں بہتری کی وجہ ایندھن اور جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی ہے جو دونوں غیر مستحکم عوامل ہیں جبکہ بنیادی قیمتوں کا دباؤ بدستور برقرار ہے۔

جے ایس گلوبل نے جولائی میں ہیڈ لائن سی پی آئی کی شرح 9.1 فیصد سالانہ رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

جے ایس گلوبل کے مطابق جولائی میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ٹرانسپورٹ گروپ ہوگا جس کی مہنگائی کی شرح 21 فیصد سالانہ تک بڑھنے کی توقع ہے۔ ادارے نے اس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو قرار دیا ہے۔

اسی طرح غذائی مہنگائی بھی سالانہ بنیادوں پر 9.1 فیصد کی بلند سطح پر رہنے کا امکان ہے۔ ہاؤسنگ گروپ میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر 8.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر اس میں 0.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اسی طرح متفرق اشیا کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 11.3 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

Comments

200 حروف