یہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورِ اقتدار میں پیش کیا جانے والا پانچواں مسلسل بجٹ ہے۔ اس میں ایک مشترکہ پہلو کفایت شعاری رہا ہے۔ انتہائی زیادہ ٹیکسز اور ترقیاتی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کے ذریعے مالیاتی دباؤ کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔
حکومت نے مسلسل تین سالوں کے لیے پرائمری مالیاتی سرپلس کا بجٹ پیش کیا ہے تاہم اس عمل میں معاشی نمو متاثر ہوئی ہے۔ پھر جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تو عوام پر کفایت شعاری کی ایک اور شکل مسلط کر دی گئی۔
یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے عوام کی بڑی تعداد قربانیاں دے رہی ہے۔ تاہم یہ توقع کرنا بالکل مناسب ہے کہ حکومتی عہدیدار خود اس کی مثال قائم کریں۔ کفایت شعاری کا آغاز گھر سے ہونا چاہیے لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے اور یہ صورتحال تکلیف دہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر ایک خصوصی کابینہ اجلاس میں اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے 1.8 ارب روپے کے خصوصی اضافے کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کی تفصیلات پانچ ہفتے بعد سامنے آئیں جب تک بجٹ منظور ہو چکا تھا اور اضافی تنخواہ (ٹیک ہوم پے) میں اضافہ پہلے ہی نافذ ہو چکا تھا۔ یہ چار سال کے دوران دوسری مرتبہ ہے کہ اعلیٰ حکومتی افسران کو کوئی اضافی مراعات یا خصوصی اضافہ دیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دوسروں کو کفایت شعاری اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے اس طرزِ عمل کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے؟ پہلے ہی یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنی استعداد سے بڑھ کر اخراجات کررہی ہیں اور رواں سال انہیں وفاقی حکومت کے ساتھ ایک بڑی رقم شیئر کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ کاروباری برادری حکومت کی نااہلی کی قیمت بلند یوٹیلیٹی نرخوں اور بھاری ٹیکسوں کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر ضرورت سے زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ متوسط طبقے کو متاثر کررہا ہے جبکہ غریب عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہر چیز زیادہ قیمت پر خریدنے پر مجبور ہیں۔
نچلے طبقے کی حقیقی آمدنی میں مسلسل کمی آ رہی ہے جبکہ سرمایہ کاری اور بچت کی شرح تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ نجی گاڑیوں اور سفری سہولیات پر بھی بھاری ٹیکس عائد ہیں اور یہ فہرست طویل ہوتی جارہی ہے۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار جو اقتدار میں ہیں اور یہ تمام فیصلے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اپنے ذاتی مفادات کا بڑی کارکردگی کے ساتھ تحفظ اور دفاع کر رہے ہیں۔
انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ حاصل ہے اور وہ تمام مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ عوام کی بڑی تعداد اس کا بوجھ برداشت کررہی ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش ہے۔ اعلیٰ بیوروکریسی کا دائرہ اختیار ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ بعض اوقات ایک افسر ٹیکس نظام چلانے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہوتا ہے جبکہ انہی اداروں کے بورڈز کا رکن بھی ہوتا ہے جن پر ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں، یہ افسران مختلف ذرائع سے مراعات حاصل کرتے ہیں جن میں سرکاری شعبے کی کمپنیوں کے بورڈز میں شمولیت اور ڈونرز کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں پر تعیناتی (ڈیپوٹیشن) شامل ہیں۔ اس کے باوجود جب تقریباً ہر طبقہ مشکلات کا سامنا کررہا ہے وہ مزید مراعات کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اس اقدام کے لیے جو وجہ پیش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ صوبائی ملازمین کو زیادہ مراعات حاصل ہیں کیونکہ ان کی حکومتوں کے پاس بجٹ موجود ہے جبکہ کوئی بھی وفاقی حکومت میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں لہٰذا وفاقی ملازمین کو مزید مراعات دی جا رہی ہیں حالانکہ منطقی قدم یہ ہونا چاہیے تھا کہ صوبائی حکومتوں کے ملازمین کو دی جانے والی الاؤنسز اور دیگر مراعات میں کمی کی جاتی لیکن اس کے برعکس وفاقی حکام نے اپنی ہی مراعات میں اضافہ کرلیا ہے۔
یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کے اصلاحاتی دعوے کتنے سطحی ہیں اور خود کو اصلاح کرنے کے لیے اس کی آمادگی کتنی کم ہے۔ بیوروکریسی نجکاری کے عمل کو پسند نہیں کرتی کیونکہ اس سے وہ بورڈز کی نشستیں ختم ہو جائیں گی جو انہیں سہ ماہی ادائیگیوں اور سفری مراعات کی صورت میں فوائد فراہم کرتی ہیں۔ وہ ڈونر منی پر انحصار کم کرنے کے بھی خواہاں نہیں کیونکہ اس سے انہیں ملنے والی اضافی مراعات اور آمدنی کے ذرائع متاثر ہوں گے۔ اسی طرح وہ حکومتی ڈھانچے کے حجم کو کم کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں سرکاری افسران کے لیے اعلیٰ عہدوں کی تعداد کم ہوجائے گی۔
پیغام واضح ہے کہ عوام کی قربانیاں جنہیں چند افراد کے مفاد کے لیے غربت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے رائیگاں نہیں جانی چاہئیں۔ کسی نہ کسی کو اقدام کرنا ہوگا اور درست پیغام دینا ہوگا۔ بصورتِ دیگر بداعتمادی اور عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments