جنگوں کی ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اکثر اُن لوگوں کے ارادوں سے کہیں زیادہ پھیل جاتی ہیں جنہوں نے انہیں شروع کیا ہوتا ہے۔ یہی خطرہ اب مشرقِ وسطیٰ میں نہایت واضح اور افسوسناک انداز میں سامنے آ رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت قائم ہونے والے جنگ بندی کے فریم ورک کو ترک کرنے اور ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے فیصلے نے کشیدگی کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے، جو بتدریج اور بدقسمتی سے مزید فریقوں کو پہلے ہی غیر مستحکم تنازع میں کھینچتی جا رہی ہے۔ باب المندب آبنائے سے سعودی عرب سے منسلک جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کا اعلان صرف تازہ ترین یاددہانی ہے کہ علاقائی جنگیں شاذ و نادر ہی اپنے ابتدائی فریقوں تک محدود رہتی ہیں۔
اس کے فوری اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ تجارتی جہازوں نے اپنے راستے تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں، شپنگ کمپنیاں دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک سے گزرنے والے اپنے سفر پر دوبارہ غور کر رہی ہیں، جبکہ اتحادی افواج نے تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈیاں ایک بار پھر بے چینی کا شکار ہیں کیونکہ تاجر اس بڑھتے ہوئے خدشے کو قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں کہ خلل صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحیرۂ احمر تک بھی پھیل سکتا ہے۔
یہی وہ منظرنامہ ہے جسے سفارت کاری کو روکنا تھا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو کبھی بھی ایک مکمل اور حتمی تصفیہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔ یہ ایک ہنگامی سفارتی طریقۂ کار تھا، جس کا مقصد ایسی جنگ کو روکنا تھا جو پہلے ہی انسانی جانوں اور معیشت پر بے پناہ نقصان پہنچا چکی تھی۔ ابتدا ہی سے اس کی خامیاں واضح تھیں، لیکن اس نے وہ بنیادی مقصد حاصل کر لیا تھا جو سب سے زیادہ اہم تھا: لڑائی روکنا اور مذاکرات کے لیے جگہ پیدا کرنا۔ اس فریم ورک کو ترک کر کے دوبارہ فوجی کارروائیوں کا راستہ اختیار کرنے سے وہ تمام دراڑیں دوبارہ کھل گئی ہیں جنہیں جنگ بندی نے عارضی طور پر ڈھانپ رکھا تھا۔
اس کے علاقائی مضمرات تیزی سے سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔
حوثیوں کا تازہ اقدام سعودی عرب کو ایسے وقت میں براہِ راست دباؤ میں لے آیا ہے جب ریاض، واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوبارہ بھڑکنے والی محاذ آرائی میں مکمل طور پر الجھنے سے گریز کرنا چاہتا تھا۔ اب بحیرۂ احمر میں بحری سلامتی ایران سے متعلق وسیع تر تنازع سے الگ نہیں رہی، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ مزید علاقائی طاقتیں بھی ایسے حالات میں کھینچی جا سکتی ہیں جنہیں نہ انہوں نے شروع کیا اور نہ ہی وہ ان کی خواہش رکھتی تھیں۔ ہر نیا محاذ سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے اور غلط اندازے یا غلط فیصلے کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔
پاکستان ان پیش رفتوں کو لاتعلقی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اسٹڑٹیجک تعلقات اور دفاعی تعاون لازماً اسلام آباد کو ہر اُس موقع پر ایک نازک صورتحال میں لے آتے ہیں جب مملکت کو براہِ راست سلامتی کے چیلنجز درپیش ہوں۔ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ ایران کے ساتھ بھی تعمیری تعلقات برقرار رکھے ہیں اور مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ علاقائی استحکام کا واحد پائیدار راستہ مذاکرات اور مکالمہ ہے۔ یہی متوازی تعلقات آج اسلام آباد کے لیے ایک سفارتی چیلنج بھی ہیں اور ایک اہم موقع بھی۔
اس موقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں بالآخر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت وجود میں آئی۔ موجودہ حالات اسی نوعیت کی نئی سفارتی کوششوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ خطے میں پھیلتے ہوئے اس تنازع میں کسی ایک فریق کا ساتھ دیا جائے، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے میں مدد دی جائے جن کے تحت تمام فریق اس خطرناک کشیدگی سے ایک قدم پیچھے ہٹ سکیں۔ گزشتہ امن کوشش کے دوران حاصل ہونے والی ساکھ پاکستان کو ایک ایسا سفارتی موقع فراہم کرتی ہے جو دنیا کے نسبتاً کم ممالک کو حاصل ہے۔
اس کے معاشی تقاضے بھی اتنے ہی مضبوط ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز یا باب المندب میں طویل عرصے تک خلل ناگزیر طور پر مال برداری کے اخراجات، بحری انشورنس کے پریمیم، خام تیل کی قیمتوں اور عالمی مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور معاشی بحالی اور مسلسل افراطِ زر کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں بھی اس تنازع کی ایسی قیمت چکانی پڑے گی جس کا اصل تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان، جو درآمدی توانائی پر انحصار کرتا ہے اور جس کے بیرونی مالی وسائل پہلے ہی محدود ہیں، کسی ایسے بیرونی معاشی جھٹکے کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب تک فوجی کشیدگی سیاسی ماحول پر غالب رہے گی، سفارت کاری کامیاب نہیں ہو سکتی۔
مذاکرات کی بحالی کی ہر سنجیدہ کوشش کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر جنگی کارروائیاں روکی جائیں اور مسلسل مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔ ہر نیا حملہ مفاہمت کی گنجائش کو مزید محدود کر دیتا ہے اور اُن عناصر کو مضبوط کرتا ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تنازع کا واحد حل طاقت کا استعمال ہے۔
خطہ پہلے ہی دیکھ چکا ہے کہ یہ سوچ کہاں لے جاتی ہے۔
دنیا کو ایک اور ایسی پھیلتی ہوئی جنگ کی ضرورت نہیں جو نئی سرحدوں اور نئی بحری گزرگاہوں تک پھیل جائے۔ دنیا کو اس سفارت کاری کی بحالی کی ضرورت ہے جس نے مختصر ہی سہی، لیکن کامیابی حاصل کی تھی، اس سے پہلے کہ طاقت ایک بار پھر عقل و تدبر کی جگہ لے لے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments