وزیرِ اعظم کا بلوچستان کے لئے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
- دہشت گردی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کیلئے کئی بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے سیکیورٹی کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کررہا ہے۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو پاکستان میں کارروائیاں کرنے سے روکے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے متحدہ قومی ردعمل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت پاکستان میں عسکریت پسند تنظیموں کو حمایت اور وسائل فراہم کر رہا ہے، ایسی سرگرمیوں میں بھارت کا ملوث ہونا بالکل واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بارہا افغانستان پر زور دے چکا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران تقریباً 90 ہزار پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
بلوچستان کی ترقی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کے قیام میں صوبے کے تاریخی کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ بلوچستان کے رہنماؤں نے ہمیشہ ذاتی مفادات پر قومی اتحاد کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے سب سے کم آبادی والے صوبے بلوچستان کا وسیع جغرافیائی رقبہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں انفرااسٹرکچر، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔
وزیراعظم شریف نے 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو صوبوں کے درمیان تعاون کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے مالی حصے میں اضافے پر اتفاق کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس انتظام کے تحت پنجاب نے 2010 سے اب تک بلوچستان کو 150 ارب روپے فراہم کیے اور اس تعاون کو کسی احسان کے بجائے قومی یکجہتی کا مظہر قرار دیا۔
انہوں نے بلوچستان کی ترقی کے لیے معمول کے بجٹ سے ہٹ کر اضافی وسائل مختص کرنے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت کو بھی سراہا۔
بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شریف نے کراچی اور چمن کو ملانے والی این-25 شاہراہ کی اپ گریڈیشن کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ 300 ارب روپے کی لاگت سے اس منصوبے کے تحت شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے اسے دو رویہ روڈ میں تبدیل کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اس منصوبے کی مالی معاونت گزشتہ سال عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی سے حاصل ہونے والی بچت سے کی جائے گی جبکہ یہ منصوبہ دو سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments