بھارت نے چھوٹے جوہری ری ایکٹرز منصوبے پر پیش رفت تیز کر دی، 2033 تک پانچ یونٹس نصب کرنے کا ہدف
- بھارت نے گزشتہ سال نجی شعبے کی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کو جوہری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی تھی۔
بھارت نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز (ایس ایم آرز) کے منصوبوں پر پیش رفت تیز کر دی ہے اور 2033 تک کم از کم پانچ ری ایکٹرز فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، کیونکہ ملک بجلی کی پیداوار کے لیے فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔
بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز اس وقت 220 میگاواٹ کے بھارت اسمال ماڈیولر ری ایکٹر، 55 میگاواٹ کے ایک ری ایکٹر اور ہائی ٹمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر پر کام کر رہا ہے، جسے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ایٹمی توانائی کے محکمے کے وزیر جتیندر سنگھ نے پارلیمنٹ میں تحریری جواب میں بتایا کہ اٹامک انرجی کمیشن نے مہاراشٹر کے علاقے تاراپور کو 220 میگاواٹ اور 55 میگاواٹ کے منصوبوں کے لیے مقام کے طور پر منظور کر لیا ہے۔
صاف توانائی کے استعمال میں توسیع کا خواہاں بھارت گزشتہ سال نجی شعبے کی ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے جوہری بجلی پیدا کرنے کا شعبہ کھول چکا ہے۔ ملک کا ہدف موجودہ 8.8 گیگاواٹ کے مقابلے میں 2047 تک جوہری بجلی کی پیداواری صلاحیت 100 گیگاواٹ تک بڑھانا ہے۔
وزیر کے مطابق بھارت 2031-32 تک اپنی نصب شدہ جوہری پیداواری صلاحیت کو تقریباً 22 گیگاواٹ تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز اہم کردار ادا کریں گے۔
امریکا، روس اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک اس وقت چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز تیار کر رہے ہیں، جنہیں صنعتوں کو صاف توانائی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
سرکاری ادارہ نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا، جو اس وقت ملک میں جوہری بجلی گھروں کا واحد آپریٹر ہے، 50 گیگاواٹ پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ سرکاری کمپنی این ٹی پی سی بھی 30 گیگاواٹ جوہری بجلی کی صلاحیت قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
دوسری جانب اڈانی گروپ سمیت متعدد نجی کمپنیاں، جن میں ٹاٹا پاور اور ریلائنس انڈسٹریز بھی شامل ہیں، اس شعبے میں سرمایہ کاری پر غور کر رہی ہیں۔























Comments