BR100 Decreased By (-0.98%)
BR30 Decreased By (-0.58%)
KSE100 Decreased By (-0.97%)
KSE30 Decreased By (-1.07%)
BAFL 56.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.19%)
BIPL 26.98 Decreased By ▼ -0.16 (-0.59%)
BOP 33.75 Decreased By ▼ -0.28 (-0.82%)
CNERGY 9.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.8%)
DFML 18.00 Decreased By ▼ -0.13 (-0.72%)
DGKC 204.93 Decreased By ▼ -1.58 (-0.77%)
FABL 100.10 Decreased By ▼ -0.36 (-0.36%)
FCCL 53.09 Decreased By ▼ -1.61 (-2.94%)
FFL 16.52 Decreased By ▼ -0.17 (-1.02%)
GGL 24.84 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
HBL 299.82 Decreased By ▼ -2.53 (-0.84%)
HUBC 217.08 Decreased By ▼ -2.30 (-1.05%)
HUMNL 10.61 Increased By ▲ 0.21 (2.02%)
KEL 7.22 Decreased By ▼ -0.18 (-2.43%)
LOTCHEM 29.31 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
MLCF 92.16 Decreased By ▼ -2.20 (-2.33%)
OGDC 316.29 Increased By ▲ 0.45 (0.14%)
PAEL 42.04 Decreased By ▼ -1.16 (-2.69%)
PIBTL 16.41 Decreased By ▼ -0.33 (-1.97%)
PIOC 300.24 Increased By ▲ 3.14 (1.06%)
PPL 216.84 Decreased By ▼ -2.94 (-1.34%)
PRL 50.86 Increased By ▲ 1.67 (3.39%)
SNGP 101.72 Decreased By ▼ -3.18 (-3.03%)
SSGC 26.98 Decreased By ▼ -1.27 (-4.5%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.14 (-1.59%)
TPLP 13.39 Increased By ▲ 0.12 (0.9%)
TRG 59.26 Decreased By ▼ -0.88 (-1.46%)
UNITY 10.30 Decreased By ▼ -0.13 (-1.25%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.03 (-2.38%)
دنیا

پولیس پھر نوجوانوں کو زخمی کرے گی، کاکروچ پارٹی کا مارچ روکنے کا اعلان

  • دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں مجموعی طور پر تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے
شائع اپ ڈیٹ

بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی، تاہم پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد دوبارہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ نہیں کرے گی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں مجموعی طور پر تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اور سکیورٹی اہلکار جبکہ 60 مظاہرین شامل ہیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پیر کو دہلی اور گرد و نواح کے شہروں سے ہزاروں نوجوان پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ تحریک ابتدا میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، تاہم اب یہ وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کو درپیش سب سے بڑے عوامی چیلنجز میں شمار کی جا رہی ہے۔

چند ماہ قبل شروع ہونے والی اس تحریک نے لاکھوں جنریشن زی نوجوانوں کی حمایت حاصل کی ہے، جو مئی میں ہونے والے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان پرچہ لیکس سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے تھے۔

منگل کی صبح تقریباً 150 سے 200 مظاہرین وسطی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوئے اور ہلکی بارش کے باوجود نعرے بازی کرتے رہے، جبکہ علاقے میں نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات رہی اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مزید نوجوانوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے پارلیمنٹ کی جانب مارچ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 150 سے زائد مظاہرین اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، تاہم خبر رساں ادارہ رائٹرز اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

Comments

200 حروف