BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
بی آر ریسرچ

دراز پاکستان کے ایم ڈی بین یی: اصل پیش رفت خریداری کی فریکوئنسی بڑھانے سے آئے گی

  • بین یی ای کامرس کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھنے والے ماہر ہیں اور علی بابا گروپ کے ساتھ طویل وابستگی رکھتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

بین یی ای کامرس کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھنے والے ماہر ہیں اور علی بابا گروپ کے ساتھ طویل وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں دراز کے آپریشنز کی نگرانی کرتے ہیں اور اپنے تجربے کی بنیاد پر کمپنی کی ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

بین یی نے 2015 میں علی بابا گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل وہ بی ٹو بی عالمی مارکیٹنگ اور کاروباری ترقی کی ٹیموں کی قیادت کرچکے ہیں، جہاں ان کی ذمہ داری عالمی اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ مل کر علی بابا کے ماحولیاتی نظام کو وسعت دینا تھی۔ انہوں نے ٹی مال امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کی عالمی کاروباری ترقی کی ٹیم کی بھی قیادت کی، جس کے ذریعے عالمی برانڈز کو ٹی مال گلوبل کے پلیٹ فارم اور براہِ راست خریداری کے ماڈلز کے تحت چینی مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد دی گئی۔

بین یی نے 2018 میں لازادا میں خطے میں سرحد پار کاروبار کے سربراہ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ دراز گروپ میں موجودہ ذمہ داری سنبھالنے سے قبل وہ لازادا فلپائن کے چیف بزنس آفیسر بھی رہے۔

بین یی نے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، وینکوور سے ایم بی اے اور میک ماسٹر یونیورسٹی، ہیملٹن سے کامرس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

ان سے حالیہ گفتگو کے منتخب اور ترمیم شدہ اقتباسات درج ذیل ہیں:

بی آر ریسرچ: آپ نے حال ہی میں دراز پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالی ہے، تاہم پاکستانی مارکیٹ آپ کے لیے نئی نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستان کے باقاعدہ دوروں کے دوران صارفین کے رویے اور مجموعی ریٹیل منظرنامے میں آپ کو سب سے نمایاں تبدیلیاں کیا محسوس ہوئی ہیں؟

بین یی: سب سے نمایاں تبدیلی مارکیٹ کے دونوں فریقوں میں پختگی کی ہے۔ یہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد میں نے برانڈز، فروخت کنندگان اور شراکت داروں سے ملاقاتوں میں خاصا وقت صرف کیا ہے اور جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہوئی، وہ ان کی بلند خواہشات ہیں۔ کاروباری ادارے ڈیجیٹل تقسیم اور طویل مدتی برانڈ سازی کو کہیں زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جبکہ عالمی برانڈز بھی پاکستان کو تیزی سے ایک اہم ترقی کی حامل مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

صارفین بھی اسی رفتار سے تبدیل ہوئے ہیں۔ وہ زیادہ انتخاب کرنے والے، قیمت کے معاملے میں زیادہ حساس اور مصنوعات کے تنوع، ترسیل اور مستقل معیار کے حوالے سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ یہ رجحان بڑے شہروں سے باہر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان اس مرحلے سے آگے بڑھ رہا ہے جہاں ای کامرس بنیادی طور پر رسائی اور تجربہ کرنے تک محدود تھی، اور اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس بات پر بھی بڑھتا ہوا اثر ڈال رہے ہیں کہ لوگ خریداری کیسے کرتے ہیں اور کاروبار اپنی ترقی کی منصوبہ بندی کس طرح کرتے ہیں۔

بی آر ریسرچ: دراز گزشتہ 14 برس سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے ای کامرس منظرنامے کا حصہ ہے۔ آپ اب تک کے اس سفر کو کس طرح دیکھتے ہیں اور کمپنی کے اگلے مرحلے کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

بین یی: دراز کے پہلے 14 سال رسائی پیدا کرنے کے بارے میں تھے: کاروباروں کو آن لائن لانا، صارفین کا اعتماد حاصل کرنا اور ایک پیچیدہ مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کا نظام تشکیل دینا۔

اب ہماری ترجیح پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔ ہم مزید کاروباروں، خصوصاً بڑے شہروں سے باہر موجود کاروباری اداروں کو اپنے ماحولیاتی نظام کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن کامیابی کا پیمانہ صرف فروخت کنندگان کی تعداد نہیں ہونا چاہیے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ فروخت کنندگان زیادہ مضبوط کاروبار بن رہے ہیں یا نہیں۔

چھوٹے فروخت کنندگان کے لیے اس کا مطلب بہتر طلب سے متعلق معلومات، مصنوعات کے تنوع، انوینٹری کی منصوبہ بندی اور آرڈر کی تکمیل کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ قائم شدہ برانڈز کو مختلف نوعیت کی معاونت درکار ہوتی ہے، اسی لیے ہم خصوصی پروگرام تیار کررہے ہیں جن کا مقصد دراز پر کاروبار کرنا آسان بنانا اور پہلے سے کامیاب برانڈز کو اضافی ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اگلا مرحلہ صرف شرکت بڑھانے کے بجائے اس کی معیار اور افادیت بہتر بنانے پر مرکوز ہوگا۔

بی آر ریسرچ: ڈی ای ایکس اس ارتقا کی ایک مثال ہے، جہاں دراز کا لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اب مارکیٹ پلیس سے باہر بھی کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کررہا ہے۔ یہ تبدیلی کتنی اہم ہے اور کیا یہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں دراز کے وسیع تر کردار کی جانب اشارہ کرتی ہے؟

بین یی: ڈی ای ایکس اس لیے اہم ہے کہ اس کے ذریعے دراز اس وقت بھی قدر پیدا کرسکتا ہے جب لین دین ہمارے مارکیٹ پلیس پر نہ ہو۔ نومبر 2025 سے ڈی ای ایکس تقریباً 6 گنا بڑھ چکا ہے اور اب 200 سے زائد بڑے برانڈز کو خدمات فراہم کررہا ہے۔ کراچی اور لاہور میں ہمارے ڈسٹری بیوشن سینٹرز فی سورٹر تقریباً 10 ہزار پارسلز فی گھنٹہ پراسیس کرسکتے ہیں، جبکہ پورا نیٹ ورک روزانہ 10 لاکھ تک پارسلز سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جب برانڈز اپنی ویب سائٹس، سوشل کامرس کاروبار اور اومنی چینل ماڈلز تیار کرتے ہیں تو آرڈر کی تکمیل مشترکہ انفرااسٹرکچر بن جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر کاروبار اپنی قومی سطح کی لاجسٹکس نیٹ ورک الگ سے قائم کرے۔ ڈی ای ایکس انہیں پہلے سے موجود سہولتوں سے منسلک ہونے کا موقع دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی توجہ مصنوعات، صارفین اور ترقی پر مرکوز کرسکیں۔

بی آر ریسرچ: دراز نے حال ہی میں لائسنس یافتہ ای فارمیسی کے ذریعے صحت کے شعبے میں بھی قدم رکھا ہے۔ کیا یہ دراز کے لیے ڈیجیٹل کامرس کے دائرہ کار میں مزید توسیع کی علامت ہے؟

بین یی: یہ اختیاری آن لائن خریداری سے روزمرہ اور بنیادی ضروریات کی جانب ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ صحت کا شعبہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہاں صرف سہولت کافی نہیں؛ صارفین کو مصنوعات کی اصلیت، ضوابط کی پابندی اور بروقت فراہمی پر بھی اعتماد درکار ہوتا ہے۔

ہماری لائسنس یافتہ ای فارمیسی پہلے ہی 20 سے زائد ادویات ساز اور صحت سے متعلق برانڈز کی 450 سے زیادہ مصنوعات پیش کررہی ہے اور دراز کی سروس والے شہروں میں ان کی ترسیل کی سہولت دستیاب ہے۔ ہمیں طلب بھی مضبوط نظر آرہی ہے۔ مثال کے طور پر ایبٹ کی پلیٹ فارم پر فروخت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 8 گنا اضافہ ہوا ہے۔

موقع یہ ہے کہ ای کامرس سے صارفین کو حاصل ہونے والے اعتماد اور سہولت کو ان شعبوں تک پہنچایا جائے جہاں قابلِ اعتماد خدمات کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔

بی آر ریسرچ: پاکستان کے ای کامرس سفر میں نقد ادائیگی کا تاریخی طور پر اہم کردار رہا ہے، تاہم ڈیجیٹل ادائیگیاں بڑھ رہی ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں آپ اس توازن کو کس طرح تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں؟

بین یی: نقد ادائیگی نے ای کامرس میں اعتماد پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً پہلی مرتبہ خریداری کرنے والے صارفین کے لیے۔ تاہم یہ توازن پہلے ہی تبدیل ہورہا ہے۔ ہماری تقریباً 30 فیصد فروخت اب ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے ہوتی ہے اور زیادہ مالیت کی خریداریوں میں اس کا استعمال خاصا زیادہ ہے۔

مجھے توقع ہے کہ بینکوں، ڈیجیٹل والٹس اور ادائیگی کے نیٹ ورکس کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں آسان اور زیادہ فائدہ مند ہونے کے ساتھ یہ تناسب بتدریج بڑھے گا۔

نقد ادائیگی نے ای کامرس میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد دی، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں اس شعبے میں کارکردگی بڑھانے میں مدد کریں گی۔ پیشگی ادائیگی کا تناسب بڑھنے سے لین دین میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور پورے ماحولیاتی نظام کے لیے کاروباری ماڈل زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔

بی آر ریسرچ: علی بابا اور دراز دونوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے عمومی جوش و خروش سے ہٹ کر، آپ دراز کے کاروبار، صارفین اور فروخت کنندگان کے لیے مصنوعی ذہانت کو سب سے زیادہ مؤثر کہاں دیکھتے ہیں؟

بین یی: مصنوعی ذہانت صارفین کے لیے خریداری کو زیادہ متعلقہ اور کاروباروں کے لیے زیادہ مؤثر بناسکتی ہے۔ خریداروں کے لیے اس کا مطلب بہتر سرچ، مصنوعات کی دریافت اور شخصی نوعیت کی تجاویز ہیں۔ فروخت کنندگان اور برانڈز کے لیے یہ طلب کی پیش گوئی، مصنوعات کے انتخاب، مواد کی تیاری اور مارکیٹنگ کو بہتر بناسکتی ہے۔ اندرونی طور پر یہ صارفین کی خدمات، فراڈ کی روک تھام اور لاجسٹکس کی منصوبہ بندی کو بھی مضبوط کرسکتی ہے۔

علی بابا کے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مصنوعی ذہانت کی نمایاں صلاحیتوں تک رسائی حاصل ہے، لیکن اصل موقع مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں ہے۔ جنوبی ایشیا میں اپنی زبانیں، خریداری کے رویے، قیمتوں کے حوالے سے حساسیت اور مصنوعات دریافت کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اس وقت کہیں زیادہ مؤثر ہوجاتی ہے جب وہ اس تناظر کو سمجھتی ہے۔

اگر اسے درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ صارف کی ضرورت اور اسے مطلوبہ چیز ملنے کے درمیان فاصلے کو کم کرسکتی ہے، اور اسی طرح اچھی مصنوعات رکھنے والے کاروباری فرد اور ترقی کے موقع کے درمیان فاصلے کو بھی کم کرسکتی ہے۔ یہ ہمارے اس مشن سے براہِ راست ہم آہنگ ہے کہ تجارت کے ذریعے معاشروں کو ترقی دی جائے۔

بی آر ریسرچ: جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کام کرنے کے تجربے کی بنیاد پر، دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں آپ پاکستان کو اس وقت ای کامرس کے ارتقا کے کس مرحلے پر دیکھتے ہیں؟

بین یی: پاکستان کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ صارفین کی طلب اور کاروباری سرگرمی نے اس سے متعلق بعض نظاموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کی ہے۔ ایسے صارفین کی کمی نہیں جو ڈیجیٹل طریقے سے خریداری کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ایسے کاروباروں کی جو آن لائن فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ خلا ان لین دین کے گرد موجود ماحولیاتی نظام کی گہرائی میں ہے، جس میں ادائیگیاں، کاروباروں کی دستاویزی حیثیت، لاجسٹکس کا پھیلاؤ اور کاروباری صلاحیتیں شامل ہیں۔

زیادہ پختہ مارکیٹوں میں یہ معاون نظام ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خریداری کی فریکوئنسی بڑھتی، رکاوٹیں کم ہوتی اور کاروباری بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو صارفین میں نئی طلب پیدا کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ موجودہ طلب کو زیادہ پختہ کاروباری ماحولیاتی نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو مارکیٹ میں نمایاں گہرائی پیدا ہوسکتی ہے۔

بی آر ریسرچ: آخرکار کون سے عوامل یہ طے کریں گے کہ پاکستان نسبتاً کم ای کامرس رسائی سے آگے بڑھ کر زیادہ وسیع ڈیجیٹل کامرس معیشت میں تبدیل ہوتا ہے؟

بین یی: اصل پیش رفت صرف ای کامرس آزمانے والے لوگوں کی تعداد بڑھنے سے نہیں بلکہ خریداری کی فریکوئنسی بڑھنے سے آئے گی۔

ای کامرس کی رسائی اس وقت تیزی سے بڑھنا شروع ہوتی ہے جب کوئی صارف جو پہلے سال میں چند مرتبہ آن لائن خریداری کرتا تھا، اسے معمول کا حصہ بنالے، اور جب کوئی کاروبار ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو محض تشہیری ذریعے کے بجائے طلب کے ایک بنیادی ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کردے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ آن لائن کامرس کسی حقیقی مسئلے کا متبادل ذرائع سے بہتر حل پیش کرے، خواہ یہ مصنوعات کے تنوع، قیمت، سہولت یا ان علاقوں تک رسائی کی صورت میں ہو جہاں روایتی ریٹیل محدود ہے۔ تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ یہ نظام دوبارہ خریداری کرنے والے صارفین اور پائیدار کاروباری بنیاد فراہم کرے۔

اہم موڑ اس وقت آئے گا جب آن لائن خرید و فروخت کبھی کبھار کی سرگرمی کے بجائے معمول بن جائے گی۔

بی آر ریسرچ: پاکستان میں ای کامرس کی صلاحیت کو اکثر اجاگر کیا جاتا ہے، لیکن بلند لاجسٹکس لاگت، بڑے غیر رسمی ریٹیل شعبے، ٹیکس اور ضوابط سے متعلق غیر یقینی صورتحال اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ان میں سے آج صنعت کو وسعت دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ کون سی ہے اور اس میں خاص طور پر کیا تبدیلی درکار ہے؟

بین یی: سب سے مشکل رکاوٹ رسمی ڈیجیٹل کامرس اور ایک ایسی ریٹیل معیشت کے درمیان معاشی فرق ہے جو اب بھی بڑی حد تک غیر رسمی ہے۔

لاجسٹکس کی لاگت میں زیادہ کثافت، ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر کاروبار کے ذریعے بہتری لائی جاسکتی ہے۔ لیکن اس نظام پر قابو پانا زیادہ مشکل ہے جہاں کاروبار کو دستاویزی اور باقاعدہ ہونے کی صورت میں ایسے اخراجات اور ذمہ داریاں اٹھانا پڑتی ہیں جن سے غیر رسمی حریف بچ جاتے ہیں۔

مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آسان تر تعمیل، آن لائن اور آف لائن یکساں نوعیت کے لین دین کے لیے زیادہ غیر جانب دارانہ ماحول اور اتنی پالیسی پیش گوئی ممکن بنائی جائے کہ کاروبار کئی برسوں کے تناظر میں سرمایہ کاری کرسکیں اور باقاعدہ معیشت کا حصہ بننا تجارتی طور پر پرکشش ہو۔

ڈیجیٹل لین دین پہلے ہی شفافیت پیدا کررہا ہے۔ موقع یہ ہے کہ اس شفافیت کو رسمی معیشت کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ پہلے سے دستاویزی کاروباروں پر مزید بوجھ ڈالنے کے لیے۔

بی آر ریسرچ: پاکستان میں نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک مختلف شعبوں میں مقامی صارف برانڈز کی نئی نسل کا ابھرنا ہے۔ اس سے ملک کے ریٹیل اور کاروباری ماحولیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟

بین یی: صارف برانڈ بنانے کی معاشیات تبدیل ہورہی ہیں۔ کاروباری افراد مصنوعات آزما سکتے ہیں، ڈیجیٹل طور پر صارفین کی اپنی کمیونٹی تشکیل دے سکتے ہیں اور ملک بھر میں صارفین تک پہنچ سکتے ہیں، اس کے لیے انہیں ابتدا ہی میں فزیکل ریٹیل پر بھاری سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب صارفین بھی اس وقت نئے مقامی برانڈز آزمانے کے لیے پہلے سے زیادہ آمادہ ہیں، بشرطیکہ مصنوعات اور ان کی پیشکش مضبوط ہو۔

ہمیں دراز پر یہ رجحان واضح طور پر نظر آتا ہے۔ رواں سال اب تک ہم تقریباً 200 نئے برانڈز کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کرچکے ہیں، جبکہ اکتوبر سے دسمبر کی سہ ماہی کے لیے مزید برانڈز زیر غور ہیں۔

چیلنج ابتدائی کامیابی کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ دراز آرڈر کی تکمیل، طلب اور انوینٹری کی منصوبہ بندی، مصنوعات کی نمائش اور صارفین تک رسائی میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ نئے شامل ہونے والے برانڈز کی پلیٹ فارم پر فروخت میں اوسطاً تقریباً 8 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اب موقع صرف مزید برانڈز بنانے کا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے کا ہے جن میں مضبوط ترین برانڈز زیادہ تیزی سے قومی سطح کے کاروبار بن سکیں۔

بی آر ریسرچ: کئی برسوں سے پاکستان کا مشاہدہ کرنے اور اب براہِ راست کاروباری ذمہ داری سنبھالنے کے بعد، آپ پانچ برس بعد دراز پاکستان اور مجموعی ای کامرس ماحولیاتی نظام کو کس شکل میں دیکھنا چاہیں گے؟

بین یی: میں چاہوں گا کہ پاکستان ایسے مزید کاروبار پیدا کرے جو ڈیجیٹل کامرس کے ذریعے قائم ہوں، نہ کہ صرف ایسے کاروبار جن کی فروخت کا ایک حصہ آن لائن ہو۔

ترقی کا سب سے نمایاں پیمانہ یہ ہوگا کہ چھوٹے فروخت کنندگان باقاعدہ اور پیشہ ورانہ انداز میں چلنے والے کاروبار بنیں، مقامی کاروبار قومی سطح کے صارف برانڈز میں تبدیل ہوں اور مزید کمپنیاں یہ فیصلہ کرنے کے لیے حقیقی وقت کی طلب سے فائدہ اٹھائیں کہ کیا پیدا کرنا، کتنا ذخیرہ کرنا اور کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے۔

دراز کے لیے ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ اس ترقی کے سفر کو آسان بنایا جائے۔ اگر ڈیجیٹل کامرس صارفین تک رسائی کی لاگت کم کرسکے اور پاکستان کے کسی بھی حصے میں موجود ایک اچھے کاروبار کو ملک گیر سطح پر ترقی کرنے کا موقع دے، بغیر اس کے کہ اسے پہلے ملک بھر میں فزیکل نیٹ ورک قائم کرنا پڑے، تو ہم نے صرف ایک بڑی مارکیٹ پلیس سے کہیں زیادہ بامعنی چیز تشکیل دی ہوگی۔

Comments

200 حروف