پراعتماد بھارت کا امریکہ سے تجارتی مذاکرات میں بہتر شرائط کے حصول کے لیے اصرار
- مضبوط معیشت اور تجارتی روابط کا سہارا، نئی دہلی کا جلد بازی میں رعایتیں دینے کے بجائے سازگار شرائط کو ترجیح دیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں تاخیر کا فیصلہ
حالیہ مذاکرات میں بھارت اور امریکہ تجارتی معاہدے پر اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نئے تجارتی شراکت داروں، کم ہوتے معاشی خطرات اور ملکی سیاسی فوائد کے باعث اب عجلت کے بجائے بہتر شرائط پر اصرار کر رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے دورۂ دہلی کے دوران محدود عبوری معاہدے کی توقعات کے باوجود اتفاقِ رائے اس لیے نہ ہو سکا کیونکہ واشنگٹن نے بھارت کے اہم مطالبات پر یقین دہانی نہیں کروائی۔ ان مطالبات میں حریف ممالک (جیسے چین) کے مقابلے میں ٹیرف کا فائدہ اور معاہدے کے بعد نئے امریکی ٹیکسوں سے استثنیٰ شامل ہیں۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ کے آخر میں نئے ٹیرف نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے باعث واشنگٹن اس اسٹریٹجک پارٹنر سے فوری تجارتی رعایتیں چاہتا تھا۔
تاہم بھارتی وزیرِ تجارت پیوش گوئل اور سیکرٹری تجارت راجیش اگروال کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک متوازن معاہدے کے لیے پرعزم ہیں اور فریم ورک تیار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل تا جون میں بھارت کی برآمدات میں 15 فیصد اضافہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے اور ایران تنازع میں کمی سے تیل کی قیمتیں گرنے کے باعث بھارتی معیشت مضبوط ہوئی ہے، جس نے نئی دہلی کو بہتر شرائط کے لیے انتظار کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔






















Comments