BR100 Decreased By (-0.85%)
BR30 Decreased By (-1.05%)
KSE100 Decreased By (-2.48%)
KSE30 Decreased By (-2.5%)
BAFL 59.90 Decreased By ▼ -1.83 (-2.96%)
BIPL 27.76 Decreased By ▼ -1.46 (-5%)
BOP 34.90 Decreased By ▼ -2.47 (-6.61%)
CNERGY 8.55 Increased By ▲ 0.06 (0.71%)
DFML 19.21 Decreased By ▼ -0.89 (-4.43%)
DGKC 216.53 Decreased By ▼ -16.73 (-7.17%)
FABL 98.44 Decreased By ▼ -5.41 (-5.21%)
FCCL 56.26 Decreased By ▼ -1.49 (-2.58%)
FFL 17.36 Decreased By ▼ -0.53 (-2.96%)
GGL 23.70 Decreased By ▼ -2.52 (-9.61%)
HBL 307.89 Decreased By ▼ -10.70 (-3.36%)
HUBC 227.61 Decreased By ▼ -5.83 (-2.5%)
HUMNL 11.00 Decreased By ▼ -0.20 (-1.79%)
KEL 7.85 Decreased By ▼ -0.26 (-3.21%)
LOTCHEM 29.02 Decreased By ▼ -1.52 (-4.98%)
MLCF 99.65 Decreased By ▼ -7.41 (-6.92%)
OGDC 335.01 Decreased By ▼ -8.31 (-2.42%)
PAEL 43.71 Decreased By ▼ -3.31 (-7.04%)
PIBTL 17.50 Decreased By ▼ -1.12 (-6.02%)
PIOC 270.00 Decreased By ▼ -10.55 (-3.76%)
PPL 237.25 Decreased By ▼ -9.57 (-3.88%)
PRL 38.45 Increased By ▲ 1.20 (3.22%)
SNGP 110.90 Decreased By ▼ -7.44 (-6.29%)
SSGC 29.84 Decreased By ▼ -2.10 (-6.57%)
TELE 8.90 Decreased By ▼ -0.28 (-3.05%)
TPLP 12.20 Decreased By ▼ -1.12 (-8.41%)
TRG 64.30 Decreased By ▼ -3.20 (-4.74%)
UNITY 10.34 Decreased By ▼ -0.27 (-2.54%)
WTL 1.32 Increased By ▲ 0.05 (3.94%)

ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے مالی سال 2024-25 میں 36 ارب روپے کے نقصان کے بعد 2025-26 میں 1.05 ارب روپے کا منافع کمایا۔

وزارتِ توانائی کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی اور چیلنجنگ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں سے ایک کی اس بحالی اور تبدیلی کا سہرا وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت کو جاتا ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ یہ بہتری کسی ایک وقتی اصلاح کا نتیجہ نہیں بلکہ بتدریج اور مستقل بنیادوں پر حاصل ہونے والی کامیابی ہے۔

اسی عرصے کے دوران لائن لاسز 15.2 فیصد سے کم ہو کر 11.9 فیصد رہ گئے جبکہ ریکوری کی شرح 98.6 فیصد سے بڑھ کر 100.8 فیصد تک پہنچ گئی جو مؤثر بلنگ، بجلی چوری میں کمی اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ کامیابی جامع اور سوچے سمجھے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

ان اصلاحات میں روزمرہ کی مداخلت سے آزاد خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری، وزارت کی جانب سے مسلسل پالیسی رہنمائی اور کارکردگی کی نگرانی، بجلی کے تقسیمی نظام کی آٹومیشن اور میٹرائزیشن، نیز صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ شامل تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حکمتِ عملی ڈسکوز میں وقتی اور غیر منظم مداخلت کے بجائے ادارہ جاتی ڈھانچے اور بہتر طرزِ حکمرانی پر مبنی اصلاحات کی جانب ایک اہم تبدیلی کی عکاس ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ میپکو کی کامیابی کوئی استثنا نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے، اور خودمختار طرزِ حکمرانی، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے اسی ماڈل کو گردشی قرضے کے خاتمے اور بجلی کے شعبے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کے تحت دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔

میپکو پاکستان کی دس بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں سے ایک ہے جو وزارتِ توانائی کی انتظامی نگرانی میں کام کرتی ہے۔

یہ کمپنی جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے امور کمپنیز ایکٹ 2017 اور پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013 کے تحت چلائے جاتے ہیں جس کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حکومتِ پاکستان نامزد کرتی ہے۔

Comments

200 حروف