BR100 Decreased By (-0.7%)
BR30 Decreased By (-0.59%)
KSE100 Decreased By (-0.64%)
KSE30 Decreased By (-0.82%)
BAFL 61.80 Decreased By ▼ -0.33 (-0.53%)
BIPL 29.29 Increased By ▲ 0.87 (3.06%)
BOP 37.42 Increased By ▲ 0.29 (0.78%)
CNERGY 8.51 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 20.19 Decreased By ▼ -0.33 (-1.61%)
DGKC 233.50 Decreased By ▼ -0.48 (-0.21%)
FABL 103.70 Decreased By ▼ -0.48 (-0.46%)
FCCL 57.91 Decreased By ▼ -0.72 (-1.23%)
FFL 17.92 Decreased By ▼ -0.18 (-0.99%)
GGL 26.05 Decreased By ▼ -0.38 (-1.44%)
HBL 319.49 Increased By ▲ 1.34 (0.42%)
HUBC 233.60 Decreased By ▼ -2.05 (-0.87%)
HUMNL 11.20 Decreased By ▼ -0.05 (-0.44%)
KEL 8.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.24%)
LOTCHEM 30.68 Increased By ▲ 0.12 (0.39%)
MLCF 107.10 Decreased By ▼ -2.41 (-2.2%)
OGDC 343.49 Decreased By ▼ -5.23 (-1.5%)
PAEL 47.23 Increased By ▲ 0.51 (1.09%)
PIBTL 18.71 Decreased By ▼ -0.15 (-0.8%)
PIOC 281.99 Decreased By ▼ -4.22 (-1.47%)
PPL 247.25 Decreased By ▼ -5.41 (-2.14%)
PRL 37.20 Increased By ▲ 0.75 (2.06%)
SNGP 118.79 Decreased By ▼ -1.76 (-1.46%)
SSGC 32.01 Decreased By ▼ -0.34 (-1.05%)
TELE 9.20 Increased By ▲ 0.11 (1.21%)
TPLP 13.37 Increased By ▲ 0.83 (6.62%)
TRG 67.57 Increased By ▲ 0.27 (0.4%)
UNITY 10.65 Decreased By ▼ -0.10 (-0.93%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
رائے

نجی ادارے بھی سرکاری اداروں کے نقشِ قدم پر چل پڑے

  • معیشت بدلنے کی طاقت رکھنے والی کاروباری برادری آج خود تلاطم خیز موجوں میں بے یار و مددگار کھڑی ہے
شائع اپ ڈیٹ

چند سرکاری اداروں اور کاروباری اکائیوں کو چھوڑ کر اکثریت گزشتہ دہائیوں کے دوران تنزلی کا شکار ہو چکی ہے اور فیصلے کرنے والے اب بھی تلاطم خیز موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ یا تو اس بگاڑ، سڑاند اور افراتفری سے نکلنے میں ناکام ہیں یا پھر بڑی بے حسی کے ساتھ ان کاروباری اداروں اور اداروں کو مزید زوال اور تباہی کی طرف بڑھنے دے رہے ہیں۔

مادرِ پدر آزاد اور ظالمانہ آمریت پرمبنی نیشنلائزیشن ان اداروں کو تباہ کرنے کی پہلی کوشش تھی۔ سیاسی کارکنوں کی حد سے زیادہ بھرتیاں، میرٹ کے برعکس تقرریاں، بیوروکریسی سے تبدیل ہو کر آنے والے نااہل و جاہل افسران اور اس کے ساتھ بے لگام کرپشن اور بڑھتے ہوئے نقصانات نے پورے نظام (ایکو سسٹم) کو بدتر بنا دیا۔

گزشتہ دہائیوں کے دوران ان تنظیموں نے نایاب مالیاتی وسائل کا بے دریغ ضیاع کیا ہے اور یہ سالانہ بجٹ خسارے کی بنیادی ذمہ دار رہی ہیں۔ یہ المناک صورتحال سوفوکلیز کے قدیم یونانی ڈرامے ایڈیپس ریکس کی مانند ہے۔ یہ ڈرامہ نجی شعبے کی عظیم طاقت کے ذریعے بربادی کی طرف اچانک پلٹنے کی بہترین عکاسی کے لیے مشہور ہے، جس کے ساتھ ہی اعتراف کا وہ لمحہ بھی شامل ہے جب نیشنلائزیشن کا اعلان کرنے والے رہنما نے شہریوں کو یقین دلایا تھا کہ اشرافیہ کی بے لگام دولت کو لگام دے دی گئی ہے لیکن پھر ایک ایسا وقت آیا جب لوگوں کو اس کے اقدامات کی بھیانک حقیقت کا احساس ہوا۔

اب ایک تلخ حقیقت ابھرنا شروع ہو گئی ہے، کچھ عادات جنہوں نے عوامی (سرکاری) اداروں کے زوال میں حصہ ڈالا، اب نجی شعبے کے کچھ حصوں میں بھی اپنے پاؤں جماتی نظر آ رہی ہیں۔مسئلہ مالکانہ حقوق کا نہیں ہے۔ نجی ادارے بنیادی طور پر سرکاری تنظیموں سے مختلف ہوتے ہیں۔مسئلہ ثقافت و کلچر کا ہے جب اداروں پر نظام کے بجائے شخصیات، میرٹ کے بجائے اثر و رسوخ اور مقصد کے بجائے عہدے حاوی ہو جائیں تو زوال کے حالات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ تنظیم سرکاری ہو یا نجی۔ یہ امر خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ نجی شعبہ تاریخی طور پر کاروبار، جدت طرازی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔

کاروباری افراد نے مواقع کی نشاندہی کرکے خطرات مول لے کر مصنوعات تیار کی اور نئی مارکیٹوں میں داخل ہو کر اور قدر پیدا کر کے کاروبار کی بنیاد رکھی۔ ان کی کامیابی کا انحصار اتھارٹی پر نہیں بلکہ انیشی ایٹو پر تھا، اثر و رسوخ پر نہیں بلکہ کارکردگی پر تھا۔

تاہم اب ایسے بڑھتے ہوئے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ کاروباری برادری کے کچھ حصے بتدریج اس کاروباری ثقافت کو ایک زیادہ افسر شاہی (بیوروکریٹک) ذہنیت سے بدل رہے ہیں۔ قابلیت کے مقابلے میں وفاداری زیادہ قیمتی ہوتی جا رہی ہے، جس سے تنظیمیں پائیدار نظام کے بجائے افراد پر منحصر ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ چیلنج خاص طور پر قیادت کی تبدیلی (ٹرانزیشن) کے دوران واضح طور پر نظر آتا ہے۔ نظام کے گرد بننے والی تنظیمیں قیادت کی تبدیلیوں کے باوجود بقا برقرار رکھ سکتی ہیں۔ شخصیات کے گرد بننے والی تنظیمیں اکثر بانیوں یا غالب شخصیات کے الگ ہو جانے کے بعد اتھارٹی کی منتقلی، ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور اسٹریٹجک سمت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ایسے انتظامات جانے پہچانے نتائج پیدا کرتے ہیں کہ سست فیصلہ سازی، جدت طرازی میں کمی، نئے خیالات کے خلاف مزاحمت اور کمزور ادارہ جاتی تسلسل رہتا ہے۔ بورڈ روم آہستہ آہستہ اسی بیوروکریسی کی مانند بننا شروع ہو جاتا ہے، جس پر وہ کبھی تنقید کرتا تھا۔ تجارتی تنظیموں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟، ماضی کے دنوں میں چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداران تجارتی سیاست میں کم ملوث اور ارکان کو درپیش مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تھے اور عزت و احترام مانگا نہیں بلکہ کمایا جاتا تھا۔

جبکہ آج ملکی سیاسی عدم استحکام کی طرح زیادہ تر تجارتی ادارے بشمول ایف پی سی سی آئی جسے سب سے اعلیٰ ادارہ قرار دیا جاتا ہے مختلف گروہوں اور اتحادوں کے فورم بن چکے ہیں۔ انتخابات کے دوران ہیپ پیدا کرنے پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ حقیقی تاجروں کی کردار کشی ایک معمول بن چکی ہے، استثنیٰ نہیں۔ چھوٹے آمر اب گاڈ فادر بن چکے ہیں اور جوڑ توڑ کے ذریعے اپنی تنظیموں کے پیٹرن ان چیف بن بیٹھے ہیں۔ایک جُنتا یا گٹھ جوڑ کا نظام تیار ہو چکا ہے۔ ایک متحدہ قوت بننے کے بجائے ان کے درمیان عداوت، دشمنی اور بے حسی پائی جاتی ہے۔ آج، بہت سی تجارتی تنظیمیں تیزی سے چھوٹے سیاسی نظاموں سے مشابہت اختیار کر رہی ہیں۔ اگر کاروباری رہنما ملک کو بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں متحد ہونا پڑے گا اور فیصلہ سازوں کو تبدیلی لانے پر مجبور کرنا ہوگا، تاکہ پاکستان خوشحال ہو سکے۔

ان کاروباری رہنماؤں کی طرف سے تیار کردہ خود ستائی (سیلف اگراینڈائزمنٹ) کی یہ ساخت ایک مضحکہ خیز صورتحال کو یقینی بناتی ہے جہاں جب بھی کوئی سرکاری اہلکار، سیاسی درجہ بندی سے تعلق رکھنے والی کوئی سینئر شخصیت یا اقتدار کے ایوانوں میں اہمیت رکھنے والا کوئی شخص مہمانِ خصوصی بنتا ہے تو چاپلوسانہ تعریفوں، نذرانہ عقیدت اور خراجِ تحسین کی گردان کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔کئی تجارتی تنظیموں میں عہدیداران محض نمائشی بن کر رہ گئے ہیں جبکہ رہنما اہم سرکاری کونسلوں یا اداروں میں شرکت کرتے ہیں یا ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ ماحول بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے کانوں کے لیے کسی موسیقی سے کم نہیں ہے۔ اس آمرانہ ماحول کی بدولت ان کے پاس پہلے سے تیار کردہ جوابی گیم پلان موجود ہوتا ہے۔

مفادات کے حامل گروہ (انٹرسٹ گروپ) کی ذہنیت مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ یہ عہدوں کے تحفظ، فوائد کے حصول، فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور موجودہ انتظامات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاریخی طور پر کاروباری افراد معمار تھے۔ انہوں نے صنعتیں قائم کیں، برآمدات میں اضافہ کیا، ٹیکنالوجی متعارف کرائی، ملازمتیں پیدا کیں اور دوسروں کے لیے مواقع کھولے۔ ان کی توجہ ترقی، مقابلے اور ویلیو کریشن پر تھی۔ کاروباری افراد مسابقت اور نئے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ مفادات کے حامل گروہ تحفظ اور موجودہ فوائد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ ایک مواقع کو وسعت دیتا ہے جبکہ دوسرا صرف موجودہ مواقع میں سے بڑے حصے کے حصول کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ کوئی بھی معیشت ترقی نہیں کر سکتی اگر کاروبار کی ثقافت کو بتدریج استحقاق (انٹائٹلمنٹ)، اثر و رسوخ اور انتظامی جوڑ توڑ کی ثقافت سے بدل دیا جائے۔کاروباری برادری کو دنیا بھر میں ایک بہت ہی مضبوط اور طاقتور قوت سمجھا جاتا ہے۔ کاروباری برادری کی آراء، خیالات اور خدشات کو پوری اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک متحدہ کاروباری برادری معجزات دکھا سکتی ہے اور ملک کی معیشت کو بلندیوں پر لے جا سکتی ہے۔مگرافسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی تجارتی تنظیموں کی طرف سے کیے جانے والے تمام اعلانات کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ کاروباری برادری تلاطم خیز سمندروں میں بغیر ملاح کے ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں کاروباری قیادت کی اصل کامیابی کیا رہی ہے؟ کیا اس نے حقیقت کو سمجھنے کے لیے کوئی احتساب یا سول سرچنگ کی ہے؟ وہ بلند و بانگ بیانات اور پریس ریلیز کے ذریعے دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے معجزات کیے ہیں جبکہ پالیسی سازوں اور مقتدر حلقوں کی طرف سے انہیں شاذ و نادر ہی اعتماد میں لیا جاتا ہے۔

آفسر شاہی اور تجارتی تنظیموں دونوں پر ” ایڈیپس ریکس سنڈروم“ پوری طرح حاوی ہے۔ برسوں کے دوران دونوں نظاموں میں دیمک لگ چکی ہے۔ دونوں نظاموں میں بتدریج بگاڑ آ رہا ہے۔ کوئی بھی عقلِ سلیم کو متعارف کرانا چاہتا ہے اور نہ ہی تبدیلی لانا چاہتا ہے، کیونکہ موجودہ منظرنامہ سرکاری اہلکاروں، سیاست دانوں اور کاروباری رہنماؤں سب کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔

نجی ادارے، جن سے مراد تجارتی تنظیمیں ہیں انتظامیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خود ایک بگڑی ہوئی بیوروکریسی بن چکے ہیں۔ نجی شعبے کا سب سے بڑا تعاون کبھی صرف دولت نہیں رہا۔ یہ کاروبار (اینٹرپرینیورشپ) رہا ہے۔ کاروباری شخص پوچھتا ہے کہ ” میں ویلیو کیسے پیدا کر سکتا ہوں؟“ جب کہ افسر شاہی کی ذہنیت پوچھتی ہے، ”میں اپنا اثر و رسوخ کیسے برقرار رکھ سکتا ہوں؟“ پاکستان کی معیشت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور کاروباری اداروں کے بورڈ رومز میں ان میں سے کون سا سوال زیادہ روایتی بنتا ہے۔

المیہ یہ نہیں ہے کہ کاروبار حکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کاروباری رہنما خود اسی بیوروکریٹک کلچر کے مداح بننے لگتے ہیں جس پر وہ اکثر تنقید کرتے ہیں۔ شیکسپیئر کے جملے میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ کہیں تو“ غلطی، پیارے کاروباری رہنما ہمارے ستاروں میں نہیں بلکہ آپ میں ہے کیونکہ آپ مفاد پرست گروہ بن چکے ہیں“ ۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء

Comments

200 حروف