جنوبی کوریا کے صدر انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد منگولیا کا دورہ کریں گے
- پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وی سونگ لاک نے کہا کہ صدر لی جنوبی کوریا اور نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینا چاہتے ہیں
جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ 7 اور 8 جولائی کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ بات جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔
قومی سلامتی کے مشیر وی سونگ لاک نے پریس بریفنگ میں کہا کہ صدر لی کا مقصد جنوبی کوریا اور نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
وی کے مطابق، انقرہ میں صدر لی نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کریں گے اور جاپان، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سمیت ہند-بحرالکاہل خطے کے رہنماؤں کے ساتھ ایک مشترکہ سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
وہ نیٹو کے دفاعی صنعت فورم میں بھی شریک ہوں گے اور اس کے ایک اجلاس سے خطاب کریں گے۔
وی سونگ لاک نے کہا، ”جغرافیائی سیاسی عدم استحکام میں اضافے کے باعث نیٹو کے رکن ممالک اپنے دفاعی اخراجات بڑھا رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی مقامی دفاعی پیداواری صلاحیت مضبوط بنانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔“
انہوں نے کہا، ”جنوبی کوریا اگرچہ نیٹو کا رکن نہیں، تاہم دفاعی سازوسامان کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اسے نیٹو کے معیار کے مطابق اس اتحاد کے ساتھ اپنی شراکت داری کو آگے بڑھانا ہوگا۔“
وی سونگ لاک نے مزید بتایا کہ صدر لی کا دفتر دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے دیگر ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مزید سربراہی ملاقاتوں کے انتظامات بھی کر رہا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
ترکیہ کے دو روزہ دورے کے بعد صدر لی 9 جولائی کو منگولیا کے صدر خورلسوخ اوخنا کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر دارالحکومت اولان باتور پہنچیں گے۔ وی سونگ لاک کے مطابق، دورے کے پہلے روز دونوں رہنما سربراہی ملاقات کریں گے، ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے اور مفاہمت کی متعدد یادداشتوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔
وی سونگ لاک نے کہا کہ جنوبی کوریا، منگولیا کو اہم معدنیات کے وسیع ذخائر کے باعث ایک کلیدی شراکت دار سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا کے ساتھ منگولیا کے قریبی تعلقات کے پیش نظر سیول اسے جزیرہ نما کوریا میں امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والا ہمسایہ ملک بھی تصور کرتا ہے۔






















Comments