اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل برقرار، انڈیکس تقریباً 900 پوائنٹس بڑھ گیا
- بینچ مارک انڈیکس 185,372.20 کی سطح پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو اتار چڑھاؤ سے بھرپور تجارتی سیشن دیکھا گیا، جس کے بعد بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 900 پوائنٹس بڑھ گیا۔
تفصیلات کے مطابق کاروبار کے پہلے ہاف میں تیزی کا رجحان کمزور رہا، جس کے باعث انڈیکس گزشتہ بندش 184,520.96 سے نیچے گر گیا اور دورانِ ٹریڈنگ 184,462.65 کی نچلی سطح کو چھو گیا۔ اس کے بعد وسطی سیشن میں مارکیٹ سنبھل گئی اور ایک محدود حد میں کاروبار کرتی رہی۔ تاہم ٹریڈنگ کے آخری گھنٹوں میں مارکیٹ کا رجحان تیزی سے مثبت ہوا، جس نے ایک زبردست تیزی کو جنم دیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 185,668.65 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 851.24 پوائنٹس یا 0.46 فیصد اضافے کے ساتھ 185,372.20 کی سطح پر بند ہوا۔
بروکرئیج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور پاکستان کے بیرونی کھاتے پر اس کے مثبت اثرات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھا۔
ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت حصہ یو بی ایل، او جی ڈی سی، ایف ایف سی، ماری اور پی پی ایل نے ڈالا، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں تقریباً 611 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے 32.467 بلین ڈالر کے مقابلے میں 21.57 فیصد اضافے کے ساتھ 39.471 بلین ڈالر تک پہنچ گیا جس کی بنیادی وجہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں نمایاں اضافہ ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار رہا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھا۔ تاہم ٹریڈنگ کے آخری سیشن میں منافع کے حصول کے لیے شیئرز فروخت کیے گئے جس سے دن کے دوران ہونے والا کچھ اضافہ ختم ہو گیا اور بینچ مارک انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
بینچ مارک 100 نڈیکس 470.86 پوائنٹس یا 0.26 فیصد اضافے سے184,520.96 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی ٹریڈنگ سیشن کا آغاز ملے جلے رجحان کے ساتھ ہوا کیونکہ امریکہ کی روزگار کی کمزور رپورٹ نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جلد شرح سود بڑھانے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک کے حصص کیلئے ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور مسلسل دو دن کی گراوٹ کے بعد اس میں 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس نے امریکی مارکیٹ میں چپ بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی سے گراوٹ کے اثرات کے باعث علاقائی بینچ مارک پر دباؤ ڈالا۔
ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز اور نیس ڈیک ای-منی فیوچرز دونوں 0.1 فیصد اوپر تھے جبکہ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1 فیصد نیچے رہا۔
علاوہ ازیں جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں جون کے دوران روزگار کی فراہمی میں تیزی سے کمی آئی اور گزشتہ دو ماہ کے دوران ملازمتوں کے حاصل ہونے والے فوائد میں بھی کمی کی ترمیم کی گئی، جو لیبر مارکیٹ کے سرد پڑنے کی طرف اشارہ ہے۔ ورک فورس چھوڑنے والے ملازمین کے باعث گزشتہ ماہ بے روزگاری کی شرح مئی کے 4.3 فیصد سے گر کر 4.2 فیصد پر آ گئی، جس نے لیبر فورس میں شمولیت کی شرح کو پانچ سال سے زائد کی کم ترین سطح پر دھکیل دیا۔
دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور اس میں 0.01 فیصد کی بہتری آئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کے اضافے کے ساتھ 278.12 پر بند ہوئی۔
مارکیٹ میں آل شیئر انڈیکس کا تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 994.75 ملین شیئرز سے کم ہو کر 815.65 ملین شیئرز رہ گیا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 55.79 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 42.63 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
ٹی پی ایل ریٹ فنڈ ون 72.95 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ 48.41 ملین شیئرز اور ٹی پی ایل پراپرٹیز 34.29 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
جمعہ کو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 256 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 211 میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 27 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
























Comments