آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، منجمد فروخت کمزور اختتام
- جون کے اعداد و شمار نے اس کمزوری کو واضح طور پر نمایاں کیا
پاکستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے مالی سال 2025-26 کا اختتام بظاہر استحکام، مگر اندرونی طور پر کمزوری کی عکاسی کرنے والی صورتحال کے ساتھ کیا۔ مالی سال کے دوران مجموعی پیٹرولیم فروخت 16.2 ملین ٹن رہی، جو مالی سال 2024-25 کی 16.3 ملین ٹن فروخت کے مقابلے میں تقریباً غیر تبدیل شدہ رہی اور تقریباً ایک فیصد معمولی کمی ظاہر کرتی ہے۔ تاہم پورے سال کا یہ مجموعی ہندسہ ان دباؤ کو چھپا دیتا ہے جو سال کے اختتامی حصے میں نمایاں ہوئے، خصوصاً آخری سہ ماہی میں ملکی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے تیز اضافے کے بعد۔
جون کے اعداد و شمار نے اس کمزوری کو واضح طور پر نمایاں کیا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کا حجم سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد کم ہو گیا۔ اگر فرنس آئل کو نکال دیا جائے تو فروخت میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ جب ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت اب بھی محدود قوتِ خرید کے ساتھ چل رہی ہوتی ہے تو ایندھن کی طلب کتنی تیزی سے کمزور پڑ سکتی ہے۔
پیٹرول کی فروخت سالانہ بنیاد پر 11 فیصد کم ہوئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت اس سے کہیں زیادہ، یعنی 20 فیصد گر گئی۔ فرنس آئل بدستور سب سے کمزور مصنوعات میں شامل رہا، جس کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 68 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

جون کے دوران واحد حوصلہ افزا پہلو ماہانہ بنیاد پر بہتری تھی۔ مئی کے مقابلے میں مجموعی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت 7 فیصد بڑھی۔ پیٹرول کی فروخت میں 5 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 9 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا۔ اس بہتری کی ایک وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ میں کمی کے باعث ماہ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں کچھ ریلیف ملنا تھا۔ تاہم، اس ماہانہ بہتری کو حقیقی معنوں میں طلب کی بحالی نہیں سمجھنا چاہیے۔ فروخت کا حجم اب بھی گزشتہ سال کی سطح سے کافی کم تھا، جبکہ قیمتوں کے جھٹکے نے طلب کو پہلے ہی نمایاں نقصان پہنچا دیا تھا۔
مالی سال 2025-26 کے دوران پیٹرول مارکیٹ کا سب سے زیادہ مضبوط حصہ ثابت ہوا اور اس کی فروخت میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شہری نقل و حرکت کی طلب کے نسبتاً مستقل رہنے کی عکاسی کرتا ہے۔ قیمتیں بڑھنے پر صارفین غیر ضروری سفر ضرور کم کرتے ہیں، لیکن روزمرہ آمدورفت سے مکمل طور پر گریز نہیں کر سکتے۔ موٹر سائیکلیں، رائیڈ ہیلنگ سروسز، چھوٹی گاڑیاں اور شہری ٹرانسپورٹ کی ضروریات پیٹرول کی طلب کو بہت زیادہ گرنے سے روکے رکھتی ہیں۔
اس کے برعکس، ڈیزل کی فروخت پورے سال کے دوران تقریباً جمود کا شکار رہی اور جون میں مزید کمزور نظر آئی۔ مالی سال 2025-26 میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کم رہی۔ جون میں اس کی گراوٹ کہیں زیادہ شدید تھی کیونکہ ڈیزل کی طلب کا براہِ راست تعلق مال برداری، زراعت، تعمیرات اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ ملکی سطح پر ڈیزل کی بلند قیمتوں نے بظاہر سرحد پار اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی بھی دوبارہ بڑھا دی، جو بدستور باضابطہ مارکیٹ کی طلب کو متاثر کر رہی ہے۔

فرنس آئل مسلسل ساختی زوال کا شکار رہا۔ مالی سال 2025-26 میں اس کی فروخت 26 فیصد کم ہوئی۔ یہ محض ایک عارضی یا کاروباری سائیکل سے متعلق کمی نہیں، بلکہ فرنس آئل بجلی کی پیداوار کے شعبے میں اپنی اہمیت مسلسل کھو رہا ہے کیونکہ اس کی جگہ پن بجلی، جوہری توانائی، درآمدی ایندھن اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع زیادہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی لیے جون میں سالانہ بنیاد پر اس کی فروخت میں نمایاں کمی حیران کن نہیں تھی۔
ماہانہ بنیاد پر فرنس آئل کی فروخت میں اضافہ زیادہ تر موسمی نوعیت کا تھا، جس کا تعلق گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے تھا، نہ کہ اس کی طلب میں کسی پائیدار بحالی سے تھا۔
آئندہ منظرنامے کے حوالے سے اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نرم رہتی ہیں اور ملک میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو آنے والے مہینوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر مزید بہتری آ سکتی ہے۔

تاہم اس بحالی کے بہت زیادہ مضبوط ہونے کا امکان کم ہے، جب تک ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہ آئے اور وہ طویل عرصے تک کم سطح پر برقرار نہ رہیں۔ عوام کی حقیقی آمدن اب بھی دباؤ کا شکار ہے، مال برداری کی سرگرمیاں غیر معمولی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں، جبکہ حکومت کی محصولات کی ضروریات بھی پمپ پر صارفین کو مستقل ریلیف دینے کی گنجائش محدود رکھتی ہیں۔
یوں مالی سال 2025-26 بظاہر استحکام، مگر کمزور طلب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ مجموعی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت تقریباً جمود کا شکار رہی، لیکن سال کے آخری مہینے نے واضح کر دیا کہ صارفین اور کاروباری ادارے قیمتوں کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں، ڈیزل کی طلب کمزور ہے اور فرنس آئل کی اہمیت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔ مالی سال 2026-27 میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کی سمت کا انحصار مارکیٹ شیئر سے زیادہ تین بنیادی عوامل پر ہوگا: عالمی خام تیل کی قیمتیں، پٹرولیم لیوی سے متعلق حکومتی پالیسی، اور حقیقی اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار۔
























Comments