BR100 Increased By (0.4%)
BR30 Increased By (0.54%)
KSE100 Increased By (0.35%)
KSE30 Increased By (0.43%)
BAFL 61.58 Decreased By ▼ -0.46 (-0.74%)
BIPL 28.50 Increased By ▲ 0.47 (1.68%)
BOP 36.85 Increased By ▲ 0.08 (0.22%)
CNERGY 8.33 Decreased By ▼ -0.06 (-0.72%)
DFML 20.80 Increased By ▲ 0.87 (4.37%)
DGKC 227.35 Increased By ▲ 0.42 (0.19%)
FABL 100.30 Increased By ▲ 0.12 (0.12%)
FCCL 58.89 Increased By ▲ 0.28 (0.48%)
FFL 18.24 Increased By ▲ 0.30 (1.67%)
GGL 25.88 Increased By ▲ 0.68 (2.7%)
HBL 306.85 Increased By ▲ 1.21 (0.4%)
HUBC 232.50 Decreased By ▼ -0.05 (-0.02%)
HUMNL 11.38 Decreased By ▼ -0.04 (-0.35%)
KEL 8.30 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
LOTCHEM 29.10 Increased By ▲ 0.63 (2.21%)
MLCF 107.39 Decreased By ▼ -0.90 (-0.83%)
OGDC 344.00 Increased By ▲ 4.90 (1.45%)
PAEL 45.21 Decreased By ▼ -0.14 (-0.31%)
PIBTL 18.86 Decreased By ▼ -0.20 (-1.05%)
PIOC 285.10 Increased By ▲ 1.53 (0.54%)
PPL 247.51 Increased By ▲ 1.56 (0.63%)
PRL 36.37 Increased By ▲ 0.29 (0.8%)
SNGP 118.16 Decreased By ▼ -0.54 (-0.45%)
SSGC 31.38 Decreased By ▼ -0.29 (-0.92%)
TELE 9.25 Decreased By ▼ -0.02 (-0.22%)
TPLP 11.49 Increased By ▲ 0.26 (2.32%)
TRG 67.84 No Change ▼ 0.00 (0%)
UNITY 10.96 Decreased By ▼ -0.05 (-0.45%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

مالی سال 26 میں جی ڈی پی گروتھ تخمینے سے زائد رہنے کا امکان، گورنر اسٹیٹ بینک

  • مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جمیل احمد
شائع July 3, 2026 اپ ڈیٹ July 3, 2026 02:27pm

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے جمعہ کو پیش گوئی کی ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی معاشی شرح نمو حکومت کے عارضی تخمینے 3.7 فیصد سے بھی زیادہ رہے گی۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران ملک کی جی ڈی پی نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں 4 فیصد سے زائد جی ڈی پی نمو کی توقع تھی لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث نمو اس سے کم رہنے کا امکان ہے۔

مالی سال 26-2025 کے دوران مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو مالی سال 25-2024 میں 13 ارب ڈالر تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف جون میں 8 ارب ڈالر کی قرض ادائیگی کے باوجود زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ ابتدائی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 26-2025 میں ترسیلاتِ زر کا حجم 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا جو کہ خطے میں حالیہ جغرافیائی سیاسی بحران کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

مجموعی طور پر مالی سال 26-2025 کے دوران جولائی سے مئی تک ترسیلات 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 34.9 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔

مرکزی بینک کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے مالی سال 27-2026 میں ورکرز ریمیٹینس (ترسیلاتِ زر) کے 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔

دریں اثنا انہوں نے بتایا کہ مالی سال 26-2025 کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح 7.05 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو کہ 5 سے 7 فیصد کے مقرر کردہ ہدف سے کچھ زیادہ ہے۔

دوسری جانب مالی سال 27-2026 میں برآمدی آمدن میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے گزشتہ مالی سال میں دیکھی گئی کمی کا رجحان تبدیل ہو جائے گا۔

ادارہ شماریات کی جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 21.57 فیصد اضافے کے ساتھ 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

جمیل احمد نے بتایا کہ مرکزی بینک نے سبسڈی اسکیموں یعنی سوہنی دھرتی ریمیٹینس پروگرام اور ’ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو اسکیم کو ختم کر دیا ہے۔

تاہم کمرشل بینک اور ایکسچینج کمپنیاں ترسیلاتِ زر کی آمد کو بڑھانے کے لیے مراعات دینا جاری رکھیں گی جس کے باعث مستقبل میں اس (سبسڈی ختم کرنے) کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

Comments

200 حروف