تھوسیڈائڈیز کی واپسی: میلوس اور جدید ایران
- جس طرح ایتھنز کو یہ خدشہ تھا کہ میلوس کی غیر جانب داری دوسرے چھوٹے علاقوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن جائے گی، اسی طرح واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران کی ثابت قدمی خطے کے دیگر ممالک کو بھی مزاحمت پر آمادہ کر سکتی ہے
کلاسیکی تاریخ کے اوراق میں بہت کم ایسی تحریریں ملتی ہیں جو طاقت کی سیاست کی حقیقت کو تھوسیڈائڈیز کے ”میلین مکالمے“ (میلین ڈائیلاگ) کی طرح اتنی وضاحت اور بے لاگ انداز میں پیش کرتی ہوں۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں تحریر کیے گئے اس مکالمے میں اُس گفتگو کو قلم بند کیا گیا ہے جو بحری قوت کے اعتبار سے غالب ریاست ایتھنز اور چھوٹے جزیرے میلوس کے درمیان ہوئی۔ پیلوپونیشین جنگ کے دوران میلوس غیر جانب دار رہنا چاہتا تھا، مگر ایتھنز نے اس سے مکمل اطاعت کا مطالبہ کیا، جبکہ میلوس نے انصاف اور اخلاقی اصولوں کا سہارا لیا۔ ایتھنز نے ایسی تمام اخلاقی اپیلوں کو بے رحمی سے مسترد کرتے ہوئے وہ مشہور الفاظ کہے جو بعد ازاں طاقت کی سیاست کی علامت بن گئے: ”طاقتور وہی کرتے ہیں جو ان کے بس میں ہوتا ہے، جبکہ کمزور وہی سہتے ہیں جو ان کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔“
اب 2026 کی طرف آئیے، جہاں اس مکالمے کی بازگشت ایران-امریکا محاذ آرائی میں صاف سنائی دیتی ہے۔ رواں سال شروع ہونے والی جنگ، جو تباہ کن حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت پر منتج ہوئی، اب نازک نوعیت کے مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات کا انداز، ایک جانب ٹرمپ کا سخت گیر اور بالا دستی جتانے والا رویہ اور دوسری جانب ایران کا محتاط اور متوازن طرزِ عمل ، حیرت انگیز حد تک ایتھنز اور میلوس کے درمیان ہونے والے اس قدیم مکالمے سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ تازہ کشیدگی، جو آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم والے ایک مال بردار جہاز پر ایران کے ڈرون حملے اور اس کے جواب میں امریکا کی جانب سے ایران کے 10 فوجی ٹھکانوں پر جوابی حملوں کے بعد بھڑکی، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی کس قدر نازک ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ اب بھی شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔
تھوسیڈائڈیز کی روایت میں ایتھنز طاقت کی بے لگام سیاست کی علامت تھا۔ اس نے اخلاقی دلائل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ بقا کا واحد راستہ طاقتور کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن نے بھی ایک سخت گیر اور بالا دستی جتانے والی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ ٹرمپ کی زبان بھی کم و بیش اتنی ہی بے لچک تھی۔ انہوں نے ایران کو مکمل تباہی کی دھمکیاں دیں، یہاں تک کہا کہ ایرانی وفد کے پاس شاید واپس جانے کے لیے اپنا ملک بھی نہ بچے۔ انہوں نے ایران کی امن تجاویز کے اہم نکات مسترد کر دیے اور امریکا کے اندر اختلافِ رائے کو بھی ”غداری“ قرار دیا۔ مال بردار جہاز کے واقعے کے بعد ایران کے ڈرون مراکز اور ریڈار تنصیبات پر حالیہ امریکی حملے بھی اسی طاقت کے اظہار کی عکاسی کرتے ہیں، گویا جدید دور میں ایتھنز ایک بار پھر میلوس کو یہی پیغام دے رہا ہو کہ غیر جانب داری کوئی راستہ نہیں، بقا صرف اطاعت میں ہے۔
تاہم ایران نے، میلوس کی طرح، اپنے موقف پر قائم رہنے کا راستہ اختیار کیا۔ ایران کا پیغام واضح تھا کہ امن کی کوشش ہتھیار ڈالنے کا نام نہیں بلکہ انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کے ذریعے بے گناہ جانوں کی قربانیوں کا احترام کرنے کا شعوری فیصلہ ہے۔
اگرچہ تہران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، لیکن اس کے مذاکرات کار امن کو شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ قرار دیتے رہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے دوحہ میں امریکی نمائندوں کے ساتھ کسی طے شدہ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران صرف اپنی شرائط پر بات چیت کرے گا۔ میدانِ جنگ میں مزاحمت اور مذاکرات کی میز پر تحمل کا یہی امتزاج اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے ایران اصولی مؤقف اور قومی بقا کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان دونوں واقعات میں مماثلت غیر معمولی ہے۔ میلین مکالمے میں ایتھنز کا استدلال تھا کہ مزاحمت بے سود ہے کیونکہ نتائج کا فیصلہ طاقت کرتی ہے، جبکہ میلوس کا مؤقف تھا کہ انصاف کی اپنی اہمیت ہے اور غیر جانب دار رہنا اس کا حق ہے۔ 2026 میں ٹرمپ کا امریکا ایتھنز کے کردار میں دکھائی دیتا ہے، جو اپنی برتری جتاتا، ایران کے مؤقف کو نظرانداز کرتا اور تباہی کی دھمکیاں دیتا ہے، جبکہ ایران نے میلوس کی طرح وقار، تحمل اور اخلاقی برتری پر اصرار کیا۔
تاہم دونوں حالات میں ایک بنیادی فرق بھی ہے۔ میلوس مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا؛ اس کے مرد قتل کر دیے گئے اور عورتوں کو غلام بنا لیا گیا۔ اس کے برعکس ایران، شدید نقصانات اٹھانے کے باوجود، مٹ نہیں سکا۔ تباہ کن حملوں کے بعد بھی مذاکرات کی صلاحیت برقرار رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دنیا میں محض عسکری طاقت ہر صورت فیصلہ کن کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ٹیکنالوجی، بین الاقوامی اتحاد اور عالمی ضمیر یکطرفہ طاقت کے استعمال پر کچھ نہ کچھ قدغن ضرور عائد کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی کارروائی نہیں تھے بلکہ تہذیبی اقدار کی آزمائش بھی تھے۔ ایران کے طرزِ عمل نے سیاسی بلوغت کا تاثر دیا۔ امن کو اپنے شہدا کے لیے خراجِ عقیدت قرار دینا اور اپنے مذاکراتی وفد کو مسلسل بیرونی ہدایات کے بغیر بات چیت کا اختیار دینا، تہران کے تحمل اور اعتماد کی علامت تھا۔ اس کے برعکس ٹرمپ کا رویہ اس غرور کی عکاسی کرتا تھا جو یہ سمجھتا ہے کہ صرف طاقت ہی ہر نتیجے کا فیصلہ کرتی ہے۔
یہاں پاکستان کے کردار کا ذکر بھی ضروری ہے۔ شدید دباؤ کے باوجود ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری اسلام آباد کے صبر، سفارتی مہارت اور خطے کے استحکام سے وابستگی کی عکاس تھی۔ پاکستان نے خاموشی مگر مستقل مزاجی سے رابطوں کے دروازے کھلے رکھے، تاکہ رکاوٹوں اور اشتعال انگیزی کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رہ سکے۔ اس کی یہی ثابت قدمی مذاکرات کو اس وقت بھی زندہ رکھنے کا باعث بنی جب سخت بیانات اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کے درپے تھے۔
جس طرح ایتھنز کو یہ خدشہ تھا کہ میلوس کی غیر جانب داری دوسرے چھوٹے علاقوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن جائے گی، اسی طرح واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران کی ثابت قدمی خطے کے دیگر ممالک کو بھی مزاحمت پر آمادہ کر سکتی ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر بھی موجود ہیں، جن میں سرِفہرست اسرائیل ہے۔ امریکی پالیسی سازی پر اس کا اثر و رسوخ کھل کر سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیلی قیادت مسلسل واشنگٹن پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے اور کسی مفاہمت کی راہ اختیار نہ کرے۔ اس بیرونی اثراندازی نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور جو عمل دو طرفہ امن کی کوشش ہو سکتا تھا، وہ مختلف مفادات کی کشمکش کا میدان بن گیا ہے۔
آبنائے ہرمز اب بھی اس تنازع کا سب سے حساس مرکز ہے۔ ایران اس پر مکمل اختیار کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی بحری بیڑے تہران کی نگرانی کے بغیر بحری راستے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں معمولی سی خلاف ورزی بھی مذاکراتی عمل کو ناکام بنا سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام دونوں پر مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن کی داخلی سیاسی صورتِ حال اور خلیج میں موجود دیرینہ کشیدگیاں بھی پیش رفت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ آج اس تنازع کے مضمرات تھوسیڈائڈیز کے عہد کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ مذاکرات کی ناکامی پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہے اور نازک بین الاقوامی اتحادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔
تھوسیڈائڈیز کا ”میلین مکالمہ“ آج بھی ایک دائمی تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سبق دیتا ہے کہ بے لگام طاقت بالآخر المیے کو جنم دیتی ہے اور انصاف کو نظرانداز کرنے کا انجام تباہی ہوتا ہے۔ 2026 کی ایران-امریکا جنگ میں، مصنف کے مطابق، ٹرمپ کا سخت گیر رویہ ایتھنز کے غرور کی یاد دلاتا ہے، جبکہ ایران کا تحمل میلوس کے وقار کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔ تاہم میلوس کے برعکس، ایران نہ صرف اپنی بقا برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ مذاکرات بھی کیے اور امن کے اپنے حق پر بھی اصرار کیا۔
اس تمام منظرنامے میں امید کی کرن ایران کی یہی بقا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جنگوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں بھی اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ شہدا کا خون انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کی تحریک بن سکتا ہے، اور سفارت کاری، خواہ کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو، تباہی سے بچنے کا ایک راستہ فراہم کر سکتی ہے۔
اب پوری دنیا کی نظریں دوحہ پر مرکوز ہیں۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ مذاکرات ضرور ہوں گے، جبکہ تہران کسی باضابطہ مذاکرات کی تردید کر رہا ہے۔ مصنف کے مطابق پاکستان کے صبر، مستقل مزاجی اور سفارتی کوششوں نے اس عمل کو زندہ رکھا ہے۔ امید یہی ہے کہ تاریخ خود کو دوبارہ نہیں دہرائے گی، میلوس کا سبق فراموش نہیں ہوگا اور طاقت بالآخر اصولوں کے ساتھ بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا سیکھ لے گی۔























Comments