نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو بدترین شکست دے کر سیریز جیت لی، اسٹوکس نے بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ دیا
- نیوزی لینڈ نے تین میچوں کی سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی
نیوزی لینڈ نے پیر کو ٹرینٹ برج میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 160 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی، جبکہ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کا بین الاقوامی کرکٹ کا آخری میچ بھاری شکست پر ختم ہوا۔
اس فتح کے ساتھ نیوزی لینڈ نے انگلینڈ میں 20 سیریز میں صرف چوتھی بار کامیابی حاصل کی، جبکہ 1999 کے بعد یہ دوسرا موقع تھا کہ اس نے سیریز میں 1-0 سے خسارے میں جانے کے باوجود واپسی کرتے ہوئے سیریز جیتی۔
یہ 2012 کے بعد پہلی بار بھی تھا کہ انگلینڈ کو اپنے ہی میدان پر تین یا اس سے زیادہ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم میچ پر اس وقت سبقت بین اسٹوکس کے اس اعلان نے لے لی جب انہوں نے اتوار کو اچانک بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
35 سالہ آل راؤنڈر نے کہا کہ انگلینڈ کی قیادت کرتے ہوئے چار برس گزرنے کے بعد وہ خود کو ”ذہنی و جسمانی طور پر تھکا ہوا“ محسوس کر رہے ہیں، البتہ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کاؤنٹی ٹیم ڈرہم کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔
اسٹوکس کی واپسی دوسرے ٹیسٹ میں 253 رنز کی بدترین شکست کے بعد ہوئی تھی، جہاں انہیں پہلے ٹیسٹ میں فتح کے بعد آدھی رات کے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا۔
اتوار کو جب ان کی ریٹائرمنٹ کی خبر سامنے آئی تو ناٹنگھم کے شائقین نے کھڑے ہو کر انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا، اور اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنی اگلی ہی گیند پر وکٹ بھی حاصل کر لی۔
بعد ازاں اسٹوکس خود اوپننگ کے لیے گئے، حالانکہ وہ عموماً مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرتے ہیں۔ اس وقت انگلینڈ کو فتح کے لیے 373 رنز کا مشکل ہدف درکار تھا، جو ڈیرل مچل کی جارحانہ ناقابلِ شکست سنچری کی بدولت ممکن ہوا۔ اس شاندار اننگز پر مچل کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
اسٹوکس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے صرف 20 گیندوں پر 30 رنز بنائے، جن میں دو چھکے بھی شامل تھے، تاہم وہ کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے ساتھ ہی پیر کو بین الاقوامی کرکٹ میں ان کا آخری دن میدان میں کسی شاندار کردار کے بغیر اختتام کو پہنچا۔
’باز بال‘ کا جادو نہ چل سکا
چار برس قبل ٹرینٹ برج میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف 299 رنز کا ہدف ڈرامائی انداز میں حاصل کیا تھا۔ یہ وہی میچ تھا جس نے کپتان بین اسٹوکس اور ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم کی قیادت میں انگلینڈ کے جارحانہ ’باز بال‘ دور کی بنیاد رکھی، جبکہ جونی بیئرسٹو نے برق رفتار سنچری کھیل کر فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
اس اننگز میں بیئرسٹو کو اس وقت کے نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر ٹم ساؤتھی کی بولنگ سے بھی فائدہ پہنچا، جو اب میک کولم کی زیر نگرانی انگلینڈ کے فاسٹ بولنگ کوچ ہیں۔ ساؤتھی مسلسل شارٹ پچ گیندیں کرتے رہے اور بیئرسٹو نے مختصر باؤنڈری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی بلند و بالا چھکے جڑے۔
تاہم اس بار نیوزی لینڈ کے بولرز نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے انگلش بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہ دیا۔ اتوار کے کھیل کے اختتام تک انگلینڈ مزید تین وکٹیں گنوا کر 103 رنز پر 4 وکٹوں کے خسارے میں جا پہنچا۔
پیر کی صبح صورتحال مزید سنگین ہوگئی، جب صرف پانچ گیندوں کے وقفے میں دو مزید وکٹیں گرنے سے میزبان ٹیم کا اسکور 116 رنز پر 6 وکٹیں ہوگیا۔
نیتھن اسمتھ نے ایمیلیو گے کو 10 رنز پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ کرایا، جبکہ انگلینڈ کے مایہ ناز بلے باز جو روٹ 18 رنز بنا کر ہینری نکولس کی بیک ورڈ پوائنٹ سے شاندار براہِ راست تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔
کرفیو کی خلاف ورزی کے باعث ایک ٹیسٹ سے باہر رہنے کے بعد ٹیم میں واپس آنے والے گس اٹکنسن اور جیمی اسمتھ نے ساتویں وکٹ کے لیے 75 رنز کی مزاحمتی شراکت قائم کی، لیکن اٹکنسن 19 رنز پر مچل سینٹنر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
اس کے بعد جوفرا آرچر بھی نیتھن اسمتھ کی گیند کو چھوڑنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے، جو انگلینڈ کی مجموعی بیٹنگ کا عکاس ثابت ہوا۔ لنچ کے فوراً بعد میزبان ٹیم کا اسکور 198 رنز پر 8 وکٹیں ہوگیا۔
جیمی اسمتھ نے مچل سینٹنر کو چوکا لگا کر اپنی نصف سنچری مکمل کی، لیکن مزاحمت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ دم کے بلے باز جوش ٹنگ سینٹنر کے شاندار براہِ راست تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے، جبکہ جیمی اسمتھ 60 رنز بنا کر نیتھن اسمتھ کے ہاتھوں باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہوئے، یوں بلیک کیپس نے مکمل طور پر مستحق فتح پر مہر ثبت کر دی۔
یہ میچ نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑیوں کے لیے یادگار ثابت ہوا۔ کپتان ٹام لیتھم نے 151 اور ڈیوون کونوے نے 157 رنز کی شاندار اننگز کھیلتے ہوئے پہلی وکٹ کے لیے 317 رنز کی ریکارڈ شراکت قائم کی، جس کی بدولت نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 438 رنز کا مضبوط مجموعہ کھڑا کیا۔
نیوزی لینڈ اس میچ میں اپنے اہم فاسٹ بولر میٹ ہنری کے بغیر میدان میں اترا، جنہوں نے اوول ٹیسٹ میں 11 وکٹیں لے کر ٹیم کو فتح دلائی تھی، جبکہ فارم میں موجود فاسٹ بولر کائل جیمیسن کو احتیاطاً آرام دیا گیا تھا۔
مزید یہ کہ بلیر ٹکنر بھی صرف تین اوورز ہی کرا سکے۔ جوفرا آرچر کی ایک تیز باؤنسر ان کے ہیلمٹ پر لگنے کے باعث وہ کنکشن (دماغی چوٹ) کا شکار ہوگئے اور انہیں میدان چھوڑنا پڑا۔
تاہم ان کی جگہ کنکشن متبادل کے طور پر میدان میں آنے والے فاسٹ بولر زیک فولکس نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ میں مجموعی طور پر چھ وکٹیں حاصل کیں اور نیوزی لینڈ کی تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔






















Comments