قطر کے بڑے ایل این جی پلانٹ میں دھماکہ،13 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
- قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے تھا
قطر کے بڑے راس لفان مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کمپلیکس میں دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد معطل شدہ آپریشنز دوبارہ شروع کیے جا رہے تھے۔
حکام کے مطابق اتوار کی شام بارزان مقامی گیس سپلائی سہولت میں ایک ”تکنیکی حادثہ“ پیش آیا۔
قطر، جہاں ایک بڑی امریکی فوجی تنصیب بھی موجود ہے، ایران کے ساتھ جنگ کے دوران متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں رہا ہے۔ اس تنازع کے باعث خلیج میں عالمی ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ متاثر ہوا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں کچھ ترسیلات دوبارہ بحال ہونا شروع ہوئی ہیں۔
قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ”یہ ایک حادثہ تھا، نہ کہ کوئی تخریبی یا دشمنانہ کارروائی۔“ ان کے مطابق پلانٹ میں پیداوار کو دسمبر 2025 سے فوری مرمت کی ضرورت کے باعث مکمل طور پر روک دیا گیا تھا اور اسے صرف دو روز قبل دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔
سعد الکعبی نے مزید کہا کہ ماحولیاتی طور پر کوئی خطرہ موجود نہیں اور پلانٹ کی برآمدی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ یہ وسطی دوحہ تک محسوس کیا گیا، جس سے 70 کلومیٹر سے زائد دور رہنے والے رہائشی بھی خوفزدہ ہو گئے۔
پیداوار بحالی میں درپیش مشکلات
یہ واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بند کی گئی تنصیبات سے تیل اور گیس کی پیداوار دوبارہ شروع کرنا خلیجی ممالک کے لیے کس قدر پیچیدہ مرحلہ ہے۔
قطر ان ممالک میں شامل ہے جو آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، کیونکہ اسے اپنی ایل این جی برآمدات کے لیے کوئی متبادل راستہ دستیاب نہیں ہے۔
ایل این جی آپریشنز کو دوبارہ شروع کرنا خاص طور پر پیچیدہ عمل ہے، کیونکہ اس میں درجہ حرارت کو آہستہ آہستہ کم کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ تھرمل شاک سے بچا جا سکے۔ ایل این جی ٹرینز کو ایک ساتھ دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں مرحلہ وار فعال کیا جاتا ہے۔
مائع قدرتی گیس کے عمل میں، جس میں گیس کو تقریباً منفی 162 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 260 فارن ہائیٹ) تک ٹھنڈا کر کے مائع بنایا جاتا ہے، سب سے اہم مرحلہ یہی کول ڈاؤن ہوتا ہے۔
جہاں دھماکہ ہوا، یعنی بارزان گیس سپلائی فیسلٹی، وہ راس لفان انڈسٹریل سٹی کا حصہ ہے جو قطر انرجی کا وسیع ایل این جی پیداوار اور برآمدی مرکز ہے، جس کی سالانہ پیداوار کی صلاحیت 77 ملین میٹرک ٹن ہے۔
بارزان مقامی صنعت اور بجلی پیدا کرنے کے لیے پائپ لائن گیس فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی ایل پی جی اور دیگر مصنوعات بھی برآمد کر سکتا ہے۔
مارچ میں ایرانی میزائل حملے نے راس لفان کے دو گیس پروسیسنگ یونٹس کو نشانہ بنایا تھا، جس سے قطر کی ایل این جی برآمدی صلاحیت میں تقریباً 17 فیصد کمی واقع ہوئی۔ قطر انرجی کے سی ای او کے مطابق ان نقصانات کی بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔
جنگ کے دوران کمپنی کو آف شور رِگز اور آن شور پلانٹس سے تقریباً 10,000 کارکنوں کو نکالنا پڑا تھا، تاہم مارچ کے حملے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تھا۔


























Comments