BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.35%)
KSE100 Decreased By (-0.69%)
KSE30 Decreased By (-0.84%)
BAFL 60.83 Decreased By ▼ -0.27 (-0.44%)
BIPL 26.86 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 35.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.14%)
CNERGY 8.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.24%)
DFML 20.08 Increased By ▲ 0.04 (0.2%)
DGKC 215.40 Increased By ▲ 0.11 (0.05%)
FABL 96.92 Decreased By ▼ -0.16 (-0.16%)
FCCL 56.31 Decreased By ▼ -0.59 (-1.04%)
FFL 18.13 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 23.34 Increased By ▲ 0.65 (2.86%)
HBL 297.00 Decreased By ▼ -1.40 (-0.47%)
HUBC 231.71 Increased By ▲ 0.41 (0.18%)
HUMNL 11.22 Increased By ▲ 0.04 (0.36%)
KEL 8.18 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
LOTCHEM 28.55 Increased By ▲ 0.09 (0.32%)
MLCF 100.74 Increased By ▲ 0.22 (0.22%)
OGDC 332.68 Increased By ▲ 1.40 (0.42%)
PAEL 43.04 Increased By ▲ 0.29 (0.68%)
PIBTL 17.91 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
PIOC 275.50 Decreased By ▼ -2.35 (-0.85%)
PPL 241.43 Decreased By ▼ -0.51 (-0.21%)
PRL 35.87 Decreased By ▼ -0.10 (-0.28%)
SNGP 120.20 Increased By ▲ 3.36 (2.88%)
SSGC 31.99 Increased By ▲ 0.67 (2.14%)
TELE 9.13 Increased By ▲ 0.06 (0.66%)
TPLP 10.87 Increased By ▲ 0.63 (6.15%)
TRG 65.50 Decreased By ▼ -1.18 (-1.77%)
UNITY 11.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
دنیا

ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایرانی وفد کا مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ

  • ایرانی وفد نے ثالثی کرنے والے قطر کے وفد سے ملاقات کے بعد مذاکراتی عمارت چھوڑ دی، ایرانی میڈیا
شائع June 22, 2026 اپ ڈیٹ June 22, 2026 01:36pm

امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب ایرانی وفد نے مبینہ طور پر مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کیا، جبکہ تہران اور واشنگٹن نے ایک دوسرے کیخلاف سخت بیانات اور دھمکیاں بھی جاری رکھیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایرانی وفد نے ثالثی کرنے والے قطر کے وفد سے ملاقات کے بعد مذاکراتی عمارت چھوڑ دی، یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں ایران کے اتحادی حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا۔ تاہم ایک سفارتی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد اب بھی مذاکرات کا حصہ ہے اور اس نے باضابطہ طور پر مذاکرات چھوڑنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔

مذاکرات کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکا و ایران کے تعلقات میں دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ طے کرنا ہے، تاہم لبنان میں جاری جنگ اور ایران کی علاقائی اتحادی پالیسیوں پر اختلافات نے بات چیت کو مشکل بنا دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے اتحادیوں کی حمایت بند نہ کی تو اس پر مزید سخت حملے کیے جائیں گے، جبکہ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے جواب میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اس کی فوج جنوبی لبنان میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک ضروری ہوگا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت نہیں ہوئی بلکہ مذاکرات کا فوکس لبنان کی صورتحال اور مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد تھا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان مذاکرات کو تاریخی ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین تعلقات میں بہتری کے لیے نئے دور کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق لبنان میں جاری لڑائی اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی نے امن عمل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

Comments

200 حروف