BR100 Decreased By (-0.58%)
BR30 Decreased By (-1.07%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 24.98 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 30.13 Decreased By ▼ -0.22 (-0.72%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 94.25 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 52.25 Decreased By ▼ -0.54 (-1.02%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.45 (-2.3%)
HBL 306.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.03%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 9.96 Decreased By ▼ -0.20 (-1.97%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.26 Decreased By ▼ -0.20 (-0.76%)
MLCF 91.65 Decreased By ▼ -1.51 (-1.62%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.70 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
PIOC 240.10 Decreased By ▼ -3.11 (-1.28%)
PPL 222.60 Decreased By ▼ -4.31 (-1.9%)
PRL 91.50 Decreased By ▼ -1.52 (-1.63%)
SNGP 90.90 Decreased By ▼ -0.94 (-1.02%)
SSGC 23.32 Decreased By ▼ -0.49 (-2.06%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا امریکہ اور ایران کے مابین مستقل تصفیے کا مطالبہ

  • قاہرہ اجلاس میں علاقائی کشیدگی میں کمی کی جانب اہم قدم کے طور پر اسلام آباد معاہدے کا خیرمقدم
شائع اپ ڈیٹ

قاہرہ میں منعقدہ مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے چوتھے مشاورتی اجلاس میں بالخصوص 18 جون کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے مابین اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزرائے خارجہ نے اس اہم پیش رفت کو کشیدگی میں کمی اور ایک ایسے تنازعے کے خاتمے کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا جس سے علاقائی سلامتی و استحکام کے ساتھ ساتھ توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی بحری راستوں، عالمی سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت کو شدید خطرات لاحق تھے۔ اس مثبت تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو تیزی اور کامیابی سے مکمل کرنے کی اہمیت پر خاص زور دیا گیا، تاکہ باقی ماندہ مسائل کا ایک مستقل، قابلِ تصدیق اور دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول حل نکالا جا سکے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق عرب جمہوریہ مصر کی دعوت پر مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس قاہرہ میں منعقد ہوا۔ وزرائے خارجہ نے صدر عبدالفتاح السیسی کے گہرے شکر گزار کا اظہار کیا، جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام لانے کے لیے اس گروپ کی کوششوں کی رہنمائی کے لیے خطے کے مستقبل کے حوالے سے اپنے وژن سے نوازا۔ اس اجلاس نے علاقائی اور بین الاقوامی حالات و واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اجلاس مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے چاروں ممالک کے مابین مسلسل مشاورت اور ہم آہنگی کی اہمیت کا اعادہ کرتا ہے۔ اس تناظر میں وزرائے خارجہ نے ان علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے اس مفاہمت کو ممکن بنانے میں مدد کی اور متعلقہ فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر دیانت داری سے عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے اس تاریخی نتیجے تک پہنچنے میں پاکستان کی کلیدی کوششوں کی تعریف کی اور ساتھ ہی اس مفاہمت کی یادداشت پر مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ریاستِ قطر کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو بھی سراہا۔ وزرائے خارجہ نے اس اہم معاملے پر پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطے کی بھی تعریف کی۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی کوششوں میں خطے کے ممالک بالخصوص خلیجی عرب ممالک اور شام و لبنان کی سلامتی اور استحکام کے تحفظات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، تاکہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط اور طویل مدتی علاقائی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مسئلہ فلسطین کی مرکزیت کا اعادہ کرتے ہوئے وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین خطے میں ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کا محور ہے اور یہ ایک مستحکم اور محفوظ علاقائی نظام کی تشکیل کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی۔

وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق بشمول حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، کیونکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق خطے میں ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کے لیے یہ ایک ناگزیر بنیاد ہے۔

Comments

200 حروف