آئی ٹی برآمد کنندگان اور فری لانسرز کا فائنل ٹیکس رجیم 0.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا خیرمقدم
- آٹو ماہرین کی جانب سے درآمد شدہ ایس یو ویز پر ایف ای ڈی کے نفاذ کی تعریف
متعلقہ حلقوں نے فنانس بل کے تحت آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسرز کے لیے 0.25 فیصد کے فائنل ٹیکس نظام میں مزید تین سال یعنی 2029ء تک توسیع کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ٹیکس نظام کے تسلسل سے حکومتی ٹیکس پالیسیوں پر آئی ٹی برآمد کنندگان اور فری لانسرز کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور آنے والے سالوں میں برآمدی آمدنی میں اضافے کو برقرار رکھنے کے لیے اہم مدد ملے گی۔
آئی ٹی برآمد کنندہ اور ایس آئی گلوبل سلوشنز کے سی ای او ڈاکٹر نعمان احمد سعید نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے لیے 0.25 فیصد فائنل ٹیکس نظام میں توسیع ان آئی ٹی کمپنیوں اور برآمد کنندگان کو بااختیار بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے جو مسلسل ترقی اور وسعت کے ذریعے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو ترغیبات دے کر حکومت نہ صرف زرمبادلہ کی آمد کو راغب کرے گی بلکہ اس سے زیادہ ٹیکس ریونیو بھی حاصل ہوگا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے مزید زور دیا کہ حکومت کو آئی ٹی سیکٹر کے لیے ایک مستحکم اور طویل مدتی ٹیکس پالیسی برقرار رکھنی چاہیے، تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب، آئی ٹی برآمدات کو تیز اور برآمد کنندگان کو بین الاقوامی منڈیوں میں اپنے آپریشنز پھیلانے کی ترغیب مل سکے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ فری لانسرز کے لیے 0.25 فیصد فائنل ٹیکس نظام برقرار رکھنے کی تجویز موجودہ اور نئے آنے والے فری لانسرز دونوں کے لیے ایک بڑا ریلیف اور حوصلہ افزائی کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ فری لانسرز کی آمدنی میں اضافہ جاری رہے گا اور 2029ء تک برآمدی وصولیاں 1 ارب ڈالر سے دگنی ہو کر 2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جبکہ فری لانسرز کی تعداد بھی بڑھ کر 40 لاکھ ہو جائے گی۔ انہوں نے حکومت پر یہ زور بھی دیا کہ وہ مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کریٹرز)، خاص طور پر معلوماتی اور تعلیمی مواد تیار کرنے والوں پر کم از کم اگلے تین سال تک ٹیکس لگانے کے اپنے منصوبے پر نظرثانی کرے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو پہلے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے، تاکہ پاکستانی کنٹینٹ کریٹرز کے لیے آمدنی کی منصفانہ تقسیم کا طریقہ کار یقینی بنایا جا سکے۔ ایک بار جب یہ منصفانہ فریم ورک قائم ہو جائے تو ٹیکسیشن کو ایک مساوی طریقہ کار کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
ٹیکس سے متعلق اقدامات کے علاوہ حکومت نے وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کو وسعت دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد 120,000 نوجوانوں کو آئی ٹی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دینا ہے، تاکہ ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔
ہیکسالائز کے سی ای او اور آئی ٹی برآمد کنندہ سعد شاہ نے کہا کہ تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے حکومت کی سرمایہ کاری ایک اہم اقدام ہے جو آئی ٹی انڈسٹری کی مستقبل کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مقامی یونیورسٹیوں سے ہر سال ہزاروں گریجویٹس نکلنے کے باوجود آئی ٹی انڈسٹری کو ہنر مند افراد کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنے نوجوانوں کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کر دے تو ملک ملکی افرادی قوت کی ضروریات اور ہنر مند پیشہ ور افراد کی بین الاقوامی مانگ دونوں کو پورا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
متعلقہ حلقوں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ملک بھر میں آئی ٹی پارکس، فری لانسنگ ہبز اور برآمدی ترغیبات کے پروگراموں سمیت آئی ٹی انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کو 71.84 ارب روپے مختص کیے جائیں۔
مقامی آٹو انڈسٹری نے اعلیٰ ٹیکسوں کی حمایت کر دی
دوسری جانب مقامی آٹو انڈسٹری نے درآمد شدہ بڑی گاڑیوں پر زیادہ ٹیکسوں کی حمایت کی ہے کیونکہ اس سے مقامی مارکیٹ میں سب کے لیے یکساں مواقع پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے اور مقامی کاروں کی فروخت کو فروغ مل سکتا ہے۔
2000 سی سی سے اوپر کے انجن والی درآمد شدہ گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے جبکہ اس سے بھی بڑی گاڑیوں (3000 سی سی سے اوپر) پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی درآمدی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
آٹو ماہر اور تجزیہ کار عبدالرحمٰن اعزاز کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مقامی صنعت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ آنے والی آٹو پالیسی 2026-2031 کی تشکیل کے لیے پالیسی سازوں کو تجاویز دیتے ہوئے انہوں نے استدعا کی کہ زیادہ سے زیادہ آٹو پارٹس کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دیا جائے، مقامی پارٹس بنانے والی صنعتوں کا تحفظ ، کسٹم ڈیوٹی میں کمی اور اسٹیل شیٹس، اسٹیل راڈز، ایلومینیم کی سلاخوں اور دیگر تمام خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور اضافی کسٹم ڈیوٹی کو ختم کیا جائے۔

























Comments