ٹیکس فری آمدنی کی حد برقرار مگر تنخواہ دار طبقے نے ریلیف کا خیرمقدم کر دیا
- ماضی کے برعکس فنانس بل کی منظوری سے ہی تنخواہ دار طبقے کو حقیقی ریلیف مل سکے گا، رہنما ایس سی اے پی کومل علی
سیلریڈ کلاس الائنس پاکستان(ایس سی اے پی) نے مالیاتی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبری کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا ہے کہ حکومت نے تنخواہ دار افراد پر عائد 9 فیصد سرچارج ختم کرنے اور سالانہ 22 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کمانے والے ملازمین کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے مالی سال 2027ء کے بجٹ کے ذریعے اوپری آمدنی کے چار سلیبس پر انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کے لیے ایک نیا سلیب متعارف کرایا ہے، تاہم الائنس نے سالانہ 6 لاکھ روپے سے زائد کی ٹیکس فری آمدنی کی حد میں اضافہ نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل یہ تجویز دی گئی تھی کہ یکم جولائی 2026ء سے شروع ہونے والے اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس سے مستثنیٰ آمدنی کی حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے سالانہ کر دی جائے گی۔ الائنس کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں میں شدید مہنگائی کے باوجود اس حد کو کئی سال سے موجودہ سطح پر ہی برقرار رکھا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے تنخواہ دار ملازمین کو درپیش چیلنجز سے بخوبی واقف ہے۔ وزیراعظم کی ہدایات پر مجھے آج یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت نے چار انکم سلیبس میں تنخواہ دار افراد کو ٹیکس ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کمانے والے ملازمین کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کمانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ سالانہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کمانے والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ سالانہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید برآں حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے اس سرچارج کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے جسے ہم نے مالی سال 2026ء میں گزشتہ 10 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کر دیا تھا۔
بجٹ اقدامات پر ردعمل دیتے ہوئے سیلریڈ کلاس الائنس کی رکن کومل علی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بظاہر کئی سالوں کی مایوسی کے بعد تنخواہ دار طبقے کے لیے منظرنامہ مثبت نظر آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ختم ہونے والے مالی سال 2026ء میں سالانہ 41 لاکھ روپے سے زائد کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی، کیونکہ وہ 35 فیصد انکم ٹیکس اور 9 فیصد سرچارج ادا کر رہے تھے۔
مالی سال 2026ء میں سب سے اونچا سلیب 41 لاکھ روپے سے زائد پر مقرر تھا۔ اب مالی سال 2027ء کے لیے حکومت نے اوپری دو کیٹیگریز کے ملازمین کو ریلیف دینے کے لیے 41 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی کا ایک نیا سلیب متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد کمانے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے۔
کومل علی نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس کی شرحوں میں مسلسل تین سال کے اضافے اور کسی قسم کا ریلیف نہ ملنے کے بعد اب یہ منظرنامہ مثبت رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم ان اعلانات کو ٹیکس اقدامات (فنانس بل 2026 )کی حتمی منظوری کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے، کیونکہ ہم ماضی کے ایک بجٹ میں دیکھ چکے ہیں کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے کیے گئے ایک مثبت اعلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ٹیکس فری آمدنی کی حد بڑھانے کی گنجائش موجود تھی، کیونکہ وہ سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک کی تنخواہوں پر صرف 1 فیصد انکم ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ اگر اس حد کو بڑھا دیا جاتا تو یہ ایک بہترین بجٹ ہوتا۔

























Comments