دہشت گردی کے بڑھتے واقعات
- گزشتہ ماہ ملک میں 128 دہشت گردانہ حملے ہوئے، جو اپریل سے 27 فیصد زیادہ ہیں، پی آئی سی ایس ایس
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے تازہ ترین جائزے کے مطابق پاکستان میں مئی کے مہینے کے دوران 128 دہشت گردانہ حملے ریکارڈ کیے گئے، جو کہ اپریل کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہیں۔
اس دوران سویلین اموات میں 92 فیصد اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں 143 فیصد کا تشویشناک اضافہ دیکھا گیا۔ دو ماہ کی نسبتاً بہتری کے بعد یہ اعداد و شمار ایک سخت یاددہانی ہیں کہ ملک کو درپیش امن و امان کا چیلنج ابھی تک حل طلب ہے اور عسکریت پسند گروپ اب بھی خود کو منظم کرنے، تبدیلیاں لانے اور مہلک وار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس صورتحال میں خاص طور پر تشویشناک امر خودکش حملوں کا دوبارہ واپس آنا ہے۔ مئی کے مہینے میں ایسے 6 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے 4 بم دھماکے بھی شامل ہیں جبکہ اس کے برعکس گزشتہ دو مہینوں میں سے ہر ایک میں صرف ایک ایسا حملہ ہوا تھا۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس قسم کے تشدد کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ خوف پھیلانے اور ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی کوشش میں عسکریت پسندوں کی جانب سے پوری پوری برادریوں، بازاروں، مساجد، اسکولوں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس لیے خودکش حملوں کی فریکوئنسی میں کسی بھی قسم کا اضافہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
بلوچستان میں تشدد کا بڑھتا ہوا ارتکاز بھی اتنا ہی تشویشناک ہے۔ مئی کے مہینے کے دوران اس صوبے میں 71 حملے ہوئے، جو اپریل میں ریکارڈ کیے گئے حملوں کی تعداد سے دو گنا سے بھی زیادہ ہیں۔اغوا کے واقعات میں تیز رفتار اضافہ جہاں ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے ایسے 54 واقعات میں سے 52 صرف بلوچستان میں ہوئے، سیکیورٹی کے گرتے ہوئے ماحول اور اس خطے میں سرگرم عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس کے بڑھتے ہوئے حوصلوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا کو بھی مسلسل اسی طرح کے دباؤ کا سامنا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے یہ دو سب سے زیادہ حساس خطے بدستور مسلسل خطرات کی زد میں ہیں۔
یہ تسلیم کرنا بھی اہم ہے کہ ان چیلنجز کے سامنے سیکیورٹی فورسز خاموش تماشائی نہیں بنی رہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے دوران 270 عسکریت پسند ہلاک اور 15 گرفتار کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار ایک جارحانہ آپریشنل ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں اور ان قربانیوں کو نمایاں کرتے ہیں جو سیکیورٹی اہلکار روزانہ کی بنیاد پر دے رہے ہیں۔ تاہم ان کوششوں کے باوجود حملوں کا تسلسل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ خطرہ اب خالصتاً ایک فوجی مسئلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں بارہا ملک کے خلاف ہونے والی دہشت گردی میں بیرونی اسپانسرشپ اور سہولت کاری کی طرف اشارہ کر چکی ہیں۔یکے بعد دیگرے آنے والے سرکاری بیانات میں مخالف انٹیلی جنس نیٹ ورکس پر پاکستان کی سرحدوں کے اندر کام کرنے والے عسکریت پسند گروپوں کی مالی معاونت، تربیت اور پشت پناہی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات ملک کے سیکیورٹی بیانیے کا ایک مستقل حصہ بن چکے ہیں خاص طور پر بلوچستان اور مغربی سرحد پر ہونے والے پرتشدد واقعات سے متعلق حکام کی جانب سے بیرونی مداخلت کے شواہد پیش کیے جاتے رہے ہیں۔
چاہے اسے علاقائی جیو پولیٹکس کے تناظر میں دیکھا جائے یا اندرونی سیکیورٹی کے مگر وسیع تر نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ پاکستان کو درپیش آپریٹنگ ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ عسکریت پسند تنظیمیں اب آزادانہ طور پر کام کرنے والے الگ تھلگ عناصر نہیں رہیں۔ وہ اپنی مہمات کو برقرار رکھنے کے لیے علاقائی عدم استحکام، ڈیجیٹل مواصلات، سرحد پار نیٹ ورکس اور بیرونی امدادی ذرائع کا تیزی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اس حقیقت کے لیے ایک ایسے ہی جامع ردعمل کی ضرورت ہے۔فوجی آپریشنز ناگزیر ہیں لیکن دیرپا کامیابی کا انحصار انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، بارڈر مینجمنٹ، مالیاتی نگرانی اور بھرتی کے ذرائع کو بند کرنے پر بھی ہے۔ مقامی برادریوں کو دھمکیوں سے بچانا ضروری ہے، جبکہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی خطرات کے باوجود ترقیاتی کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ عسکریت پسند گروپوں کو کام کرنے کے لیے مادی اور سماجی، دونوں ہی جگہیں فراہم نہ ہونے دی جائیں۔
اس کشیدگی کا وقت خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان ایک طرف مشکل معاشی ماحول سے نبردآزما ہے تو دوسری طرف سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مستقل تشدد ان دونوں مقاصد کے لیے خطرہ ہے۔ جب سیکیورٹی کے اشاریے غلط سمت میں جانے لگتے ہیں تو سرمایہ کار اور ترقیاتی شراکت دار لامحالہ اس کا نوٹس لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ملک پہلے بھی دیکھ چکا ہے کہ غفلت اور لاپروائی کس انجام تک لے جا سکتی ہے۔ برسوں کی مسلسل انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے نتیجے میں تشدد کو اس کی بلند ترین سطح سے کم کرنے میں کامیابی ملی تھی لیکن ان فوائد کے مستقل رہنے کی کبھی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ تازہ ترین اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جب بھی مواقع ابھرتے ہیں عسکریت پسند نیٹ ورکس ریاست کو چیلنج کرنے کے لیے پرعزم رہتے ہیں۔
لہٰذا مئی کے مہینے سے ملنے والا سبق بالکل واضح ہے۔ چوکس رہنا کبھی کبھار کی بنیاد پر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے دشمن خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی ان کے ہاتھ لگنے والے ہر موقع کا فائدہ اٹھانا جاری رکھتے ہیں۔ ریاست کا ردعمل بھی اسی طرح پرعزم رہنا چاہیے کیونکہ دہشت گردی کو دوبارہ قدم جمانے کی اجازت دینے کی قیمت اس قوم کو بخوبی معلوم ہے جس نے امن کے لیے اپنے بہت سارے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026

























Comments