بجٹ میں تاجر برادری کے لیے مزید مشکلات کا خدشہ
- ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو معاشی سرگرمیوں کو سست کرسکتے ہوں، طارق حلیم
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر طارق حلیم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت تیار کیا جانے والا آئندہ وفاقی بجٹ کاروباری برادری، صنعتوں اور عام عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو معاشی سرگرمیوں کو سست کرسکتے ہوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر ڈالیں۔
طارق حلیم نے مزید کہا کہ ریونیو (ٹیکس) وصولی کے اہداف میں مسلسل کمی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔
موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے کے بجائے تمام تر کوششیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں تاکہ مزید افراد اور شعبے قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کو بتدریج کم کرکے سنگل ڈیجٹ سطح پر لایا جائے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ میں شپ ایجنٹس اور بحری تجارتی شعبے کے لیے خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ قومی تجارت، بندرگاہی آپریشنز اور برآمدات کو مضبوط بنایا جاسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments