ہل پارک اراضی پر قبضہ : کے ایم سی نے تعمیراتی کام بند کرا دیا، پولیس کو خط ارسال
- غیر قانونی تعمیرات پر میئر کراچی نے نوٹس لیا ، کام روک کر فوری کریک ڈاؤن کا حکم دیدیا
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ہل پارک کے اطراف غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
کے ایم سی کے ترجمان دانیال کے مطابق عوامی شکایات پر میئر کی ہدایات کے بعد ایک ہفتہ قبل ہی تعمیراتی کام رکوا دیا گیا تھا۔ ان کے احکامات پر اب باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور کے ایم سی کے محکمہ لینڈ (لینڈ ڈیپارٹمنٹ) نے پولیس کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے، تاکہ کام کو مستقل طور پر بند کرایا جائے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ عوامی شکایات پر کی جانے والی اندرونی انکوائری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کے ایم سی نے اس جگہ کے لیے نہ تو زمین الاٹ کی تھی اور نہ ہی کوئی تعمیراتی اجازت نامہ (پرمٹ) جاری کیا تھا۔
غیر قانونی قبضے اور تجاوزات کی شکایات کے بعد اینٹی انکروچمنٹ، پارکس، لاء اور لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو کریک ڈاؤن شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب محکمہ لینڈ نے زمین کی اصل ملکیت کی تصدیق کے لیے پی ای سی ایچ ایس انتظامیہ سے باقاعدہ تصدیق مانگ لی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ کے ایم سی نے سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے میں ملوث عناصر کے خلاف مجرمانہ کارروائی کے لیے پولیس سے باقاعدہ رجوع کر لیا ہے۔
فاروق ستار کا کے ایم سی اور پی ای سی ایچ ایس حکام کی گرفتاری کا مطالبہ
اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے سینئر مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے سینئر مرکزی رہنما سید امین الحق، سابق میئر کراچی وسیم اختر، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی، پارلیمانی لیڈر افتخار احمد اور دیگر تنظیمی عہدیداروں کے ہمراہ ہل پارک کراچی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کی سرکاری زمینوں کی بڑے پیمانے پر بندربانٹ، ماحولیاتی تباہی اور لینڈ گریبر (قبضہ) مافیا کے خلاف سخت چارج شیٹ پیش کی۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے اعلان کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ اس بے یارومددگار شہر کو اب کراچی کو لوٹنے والے درندوں اور قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا ، کیونکہ گزشتہ 18 سالوں سے صوبے پر مسلط انتہائی کرپٹ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں اس معاشی شہ رگ کو آہستہ آہستہ مافیاز کے حوالے کر کے جرائم کا گڑھ بنایا جا رہا ہے۔
ہل پارک کی موجودہ ابتر حالت اور حالیہ قبضے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہل پارک کی اصل پہچان اس کی پہاڑیاں اور سرسبز درخت ہیں، لیکن پریس کانفرنس سے محض 15 دن پہلے کھلی کرپشن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہاڑی کو کاٹ کر غیر قانونی طور پر ایک پلاٹ بنایا گیا، جس کا پی ای سی ایچ ایس کے ماسٹر پلان میں کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔
کے ایم سی اور پی ای سی ایچ ایس کے حکام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر پارکس نے خطیر رقم کے عوض غیر قانونی این او سی جاری کیا، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج پہاڑی بیچی گئی تو یہ مافیا کل پورا پارک بیچ دے گا، اس لیے ڈائریکٹر لینڈ، ڈائریکٹر پارکس اور پی ای سی ایچ ایس کے ڈائریکٹر کو فوری طور پر نیب کے حوالے کر کے جیل بھیجا جائے اور ہائی کورٹ اس کرپشن پر ازخود نوٹس لے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے کلفٹن للی برج کے نیچے 983 گز کی غیر قانونی الاٹمنٹ پر جماعتِ اسلامی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ چونکہ سیف الدین ایڈووکیٹ پی ای سی ایچ ایس کے قانونی مشیر ہیں، اس لیے ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود جماعتِ اسلامی اس مجرمانہ قبضے پر چادر تان کر سو رہی ہے۔
























Comments