اسرائیل کی جانب سے غزہ کے نظامِ صحت کی تباہی پر پاکستان کی مذمت
- پاکستان نے عالمی ادارۂ صحت کی اسمبلی ( ڈبلیو ایچ اے) میں غزہ کے نظامِ صحت کی اسرائیل کے ہاتھوں تباہی کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا
عالمی ادارۂ صحت کی اسمبلی ( ڈبلیو ایچ اے) سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نے غزہ کے نظامِ صحت کی تباہی اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
قومی بیان دیتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری عدیل کھوکھر نے کہا کہ اسپتالوں، طبی قافلوں اور صحت کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ طبی عملے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور تباہ کرنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملوں کے علاوہ اسرائیل کی جانب سے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، صاف پانی کی دانستہ فراہمی روکنا، اور ایندھن، ادویات اور جان بچانے والے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کرنا غزہ کے نظامِ صحت کو مکمل اور ناقابلِ واپسی تباہی کے دہانے تک لے آیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر القدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔“
عدیل کھوکھر نے فلسطین کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کرنے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی ادارۂ صحت کی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل شق 17.1 اور 17.2 کو الگ الگ نکات کے طور پر برقرار رکھا جائے۔
























Comments