مالی سال 27 کے لیے ٹیکس ہدف 15.3 ٹریلین روپے مقرر ہونے کا امکان
- حکومت سخت نفاذ کی تیاری میں ہے، بروکریج ہاؤس
مالی سال 2026-27 کا بجٹ قریب آرہا ہے اور ٹورس سیکیورٹیز کے تخمینوں کے مطابق پاکستان کا ٹیکس وصولی کا ہدف تقریباً 15.3 ٹریلین (153 کھرب) روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ ہدف جاری مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ 13.4 ٹریلین روپے کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ٹورس سیکیورٹیز نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ مجوزہ ہدف ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب ایف بی آر کو مالی سال 26 کے پہلے 10 مہینوں کے دوران تقریباً 683 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف کی تکمیل کے لیے حکومت کے سخت اور جارحانہ ٹیکس اقدامات پر مسلسل انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر تقریباً 430 ارب روپے کے اضافی ریونیو (ٹیکس) اقدامات متعارف کروائے جانے کا امکان ہے جس میں سے ایک بڑا حصہ سخت نفاذ اور انتظامی اقدامات کے ذریعے حاصل ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکام انفورسمنٹ کے اقدامات کے ذریعے تقریباً 780 ارب روپے حاصل کرنے پر غور کررہے ہیں جس کی بدولت حکومت کے لیے ممکنہ طور پر آنے والے بجٹ میں بڑے نئے ٹیکس لگانے سے بچنا آسان ہو جائے گا۔
ٹورس سیکیورٹیز کا کہنا ہے تاہم ہمارا ماننا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اس تجویز کے مکمل طور پر آگے بڑھنے کا امکان کم ہے۔
حکومت سے یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ وہ مالی سال 27 کیلئے مالی خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 3.5 فیصد اور پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا 2 فیصد مقرر کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق آنے والے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر کو کچھ ریلیف (رعایت) فراہم کیے جانے کی بھی امید ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےتاہم حکومت نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا ہے کہ کسی بھی قسم کا ریلیف دینے کے لیے ریونیو پر نیٹ زیرو ایفیکٹ کی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریلیف دینے کی وجہ سے ٹیکس وصولی میں جو نقصان ہوگا اس کی تلافی کسی دوسرے شعبے پر اضافی ٹیکس لگا کر اور قوانین کے زیادہ سخت نفاذ کے ذریعے کی جائے گی۔
زیرِ غور تجاویز میں تنخواہ دار طبقے کے مختلف سلیبس پر ٹیکس کی شرح کو کم کرنا، سالانہ 10 لاکھ (1 ملین) روپے تک کی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینا اور زیادہ آمدنی والے افراد پر عائد 10 فیصد سرچارج کو ختم کرنا شامل ہیں۔
مزید برآں حکومت سپر ٹیکس میں مرحلہ وار کمی اور طویل مدت میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو بتدریج کم کرکے 22 فیصد تک لانے پر غور کررہی ہے۔ ریلیف کی دیگر تجاویز میں کیپٹل ویلیو ٹیکس اور برآمد کنندگان پر ایڈوانس ٹیکس کا خاتمہ شامل ہے، اگرچہ اطلاعات کے مطابق حکام انٹر-کارپوریٹ ڈیوڈنڈز پر ٹیکس ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ریونیو (آمدن) کے محاذ پر نان-ٹیکس آمدن کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع اور پٹرولیم لیوی کی وصولیوں سے بھرپور مدد ملنے کی توقع ہے۔ مالی سال 26 میں اسٹیٹ بینک کا منافع 2.4 ٹریلین (24 کھرب) روپے سے تجاوز کر گیا تھا جبکہ جاری مالی سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران پٹرولیم لیوی کی وصولیاں 1.2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ یہ رجحان مالی سال 27 میں بھی جاری رہے گا، تاہم مالی سال 27 کے لیے اوسط پالیسی ریٹ (شرح سود) کم ہونے کی وجہ سے منافع کا حجم کچھ کم ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے تخمینے کے مطابق اگلے سال پٹرولیم لیوی کی وصولیاں 1.7 ٹریلین روپے سے تجاوز کر سکتی ہیں کیونکہ ریونیو کے دباؤ کو پورا کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی اوسط شرح بلند رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، مالیاتی سال 27 میں پٹرول اور ڈیزل پر کاربن لیوی بھی بڑھ کر 5 روپے فی لیٹر ہونے کی توقع ہے۔
اسی دوران مالیاتی مجبوریوں کے باعث مالی سال 27 کے لیے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) یعنی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1.126 ٹریلین (1,126 ارب) روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے جو کہ وزارتِ منصوبہ بندی کی طرف سے پیش کی گئی 2.9 ٹریلین روپے کی مانگ سے نمایاں طور پر کم ہے۔
زیرِ غور دیگر اہم تجاویز میں خوردہ فروشوں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم، سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول کا دائرہ کار بڑھا کر اس میں مزید ایف ایم سی جی (- روزمرہ استعمال کی اشیاء) کو شامل کرنا، اور ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹمز کا زیادہ سختی سے نفاذ شامل ہیں۔ صوبوں سے بھی یہ تقاضا کیا جا سکتا ہے کہ وہ سیلز ٹیکس کے بہتر نفاذ اور زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کے ذریعے مزید 430 ارب روپے حاصل کریں۔
رپورٹ میں مزید اشارہ دیا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات بھی زیرِ غور ہیں، جن میں بینکنگ ڈیٹا تک رسائی بڑھانا اور جائیداد و گاڑیوں کی خریداری پر پابندیاں شامل ہیں۔

























Comments