کویت کو بندرگاہوں اور توانائی لاجسٹکس منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت
- وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری سے کویت کے سفیر نصار عبدالرحمٰن جاسر المطیری کی ملاقات
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کویت کو اسٹریٹجک طور پر اہم ساحلی اور توانائی لاجسٹکس راہداریوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے مختلف بحری و بندرگاہی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تفصیل پیش کی۔
وزارتِ بحری امور کے دفتر سے جمعرات کو جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق ان تجاویز پر تبادلہ خیال کویت کے سفیر نصار عبدالرحمٰن جاسر المطیری اورجنید انور چوہدری کے مابین ہونے والی ایک ملاقات کے دوران کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کویتی سفیر کو فیول اسٹوریج ، بانڈڈ ٹرمینل سہولیات، جیٹی کی تعمیر، بندرگاہی انفرااسٹرکچر اور حکومت کے زیرِ منصوبہ انرجی سٹی منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیش کیے جس کا مقصد اہم بندرگاہوں کے قریب مربوط توانائی اور لاجسٹکس مراکز تیار کرنا ہے۔
اس موقع پر جنید انور چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنے میری ٹائم سیکٹر کو جدید بنانے اور علاقائی تجارت اورانرجی ٹرانزٹ میں ملک کے کردار کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی بندرگاہیں لاجسٹکس، اسٹوریج اور میری ٹائم انفرااسٹرکچر میں طویل مدتی سرمایہ کاری کیلئے شاندار صلاحیت رکھتی ہیں۔
وفاقی وزیرِ نے کویت کو بندرگاہوں پر ایل پی جی، ایل این جی، خام تیل اور وائٹ آئل مصنوعات کے ذخیرے اور ہینڈلنگ سے منسلک منصوبوں کا جائزہ لینے کی بھی دعوت دی۔
انہوں نے کرائے کی بنیاد پر بانڈڈ اسٹوریج کی سہولتیں قائم کرنے کی تجویز پیش کی جو علاقائی تجارتی بہاؤ کو سہارا دے سکتی ہیں اور توانائی کی درآمدات و برآمدات کے لیے سپلائی چین کی کارکردگی کو بہتر بناسکتی ہیں۔
کویت کو پیش کیے جانے والے منصوبوں میں پورٹ قاسم پر ایک مجوزہ ملٹی پرپز ٹرمینل بھی شامل تھا جو کراچی کے قریب پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔ انور چوہدری نے بتایا کہ کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت بڑھانے اور علاقائی بحری گیٹ وے کے طور پر بندرگاہوں کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے نئے ٹرمینلز اور اسٹوریج انفرااسٹرکچر کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
ملاقات میں انفرااسٹرکچر کی ترقی اور جیٹی کی تعمیر میں تعاون پر بھی بات چیت کی گئی جس میں وفاقی وزیرِبحری امور نے کویتی سرمایہ کاروں کو ممکنہ منصوبوں کے لیے حکومتی سطح پر مکمل سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کی حکومتی کوششوں کے درمیان، پاکستان کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔
کویتی سفیر نے مجوزہ منصوبوں، بالخصوص انرجی سٹی اقدام اور بندرگاہوں پر قائم فیول اسٹوریج انفرااسٹرکچر سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
دونوں فریقین نے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا جس کے بعد فالو اپ روابط کیے جائیں گے کیونکہ پاکستان میری ٹائم سیکٹر میں تعاون کے ذریعے کویت کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔

























Comments